پاکستان: جمہوریت کی بس کا وقت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وسط مئی میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں طویل عرصے سے جاری مذاکرات کے نتیجے میں میثاق جمہوریت پر دستخط کر دیے۔ آٹھ صفحات پر مشتمل اِس دستاویز کا مرکزی نکتہ پاکستانی سیاست میں فوج کے عمل دخل کا خاتمہ ہے۔ اِس امر سے انکار مشکل ہے کہ اِس دستاویز نے عوامی اور سرکاری حلقوں میں خاصی ہل چل پیدا کی ہے۔ پاکستانی تاریخ میں جمہوری طاقتوں کی طرف سے اِس طرح کے اقدام کی صرف تین مثالیں ملتی ہیں۔ فروری 1966 میں عوامی لیگ کے چھ نکات، نومبر 1967 میں پیپلز پارٹی کا قیام اور جنوری 1981 میں ایم آر ڈی کا چار نکاتی اعلامیہ۔ سرکاری روایت کے عین مطابق ابتدا میں حکومتی وزراء نے تضحیک آمیز لہجے میں اِس معاہدے کا اثر زائل کرنے کی کوشش کی۔ مغربی پاکستان کے گورنر موسیٰ خان نے اسی لہجے میں پیپلز پارٹی کو تانگے والوں اور طالب علموں کا ہجوم قرار دیا تھا۔ عوامی رد عمل کو دبانے میں ناکامی پر فیلڈ مارشل ایوب خان نے پشاور میں ایک جلسہ بھی منعقد کیا تھا جہاں اُن پر گولی چلائی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر پرویز مشرف نے بھی اپنے ردعمل کے لیے پشاور ہی کے نجی ٹی وی چینل کا انتخاب کیا۔ اِس انٹرویو میں وہ کوشش کے باوجود اپنی جھنجھلاہٹ چھپا نہیں سکے۔ سرکاری حلقوں کی بوکھلاہٹ کا کچھ اندازہ آئندہ بجٹ میں مہنگائی اور ترقیاتی سرگرمیوں جیسے نکات پر بار بار زور دینے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ معیشت کے ان پہلوؤں پر گزشتہ سات برس میں کبھی اتنی توجہ نہیں دی گئی۔ معاہدہ جمہوریت میں شامل نکات کی وسیع تائید کے باعث مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل بھی کھل کر اِس کی مخالفت سے گریزاں ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار معاہدہ جمہوریت کے مندرجات سے بھی زیادہ اہمیت اِس کی ٹائمنگ کو دے رہے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں آئینی طور پر ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی ہے۔ معمول کی حکومتی سرگرمیوں سے قطع نظر حکمران سیاسی جماعت بظاہر معاشرے کے کسی طبقے کی قابل ذکر تائید حاصل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتی۔ پاکستانی تاریخ کے تناظر میں موجودہ حکمران جماعت کو محمد خان جونیجو کی مسلم لیگ کی بجائے سکندر مرزا کی ری پبلیکن پارٹی سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ عراق کے واقعات پر عالمی توجہ مرکوز ہونے کے باوجود دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ ایران کے ایٹمی تنازعے کے تناظر میں پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ القاعدہ اور طالبان کے علاوہ ایٹمی معاملات پر بھی پاکستانی ہیئت مقتدرہ کے تعاون سے امریکی عدم اطمینان روز بروز واضح ہو رہا ہے۔ اِس کا واضح ترین اشارہ تو مارچ میں دورۂ پاکستان کے موقع پر صدر بش کا وہ جملہ تھا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صدر پرویز مشرف کا عزم برقرار ہے یا نہیں۔ اِس کے بعد امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے پاکستان میں فوج پر سویلین بالادستی کی بات کی۔ ناٹو کے عسکری حلقوں کی طرف سے کھٹے میٹھے تبصروں کے علاوہ صدر حامد کرزئی نے طالبان کے حوالے سے سخت رد عمل اختیار کیا۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے بھی پاکستانی کشمیر میں مبینہ طور پر موجود 59 تربیتی کیمپوں کا ذکر دوبارہ شروع ہوا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان ، وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم اور کابینہ کے ترجمان محمد علی درانی کے دو ٹوک لب و لہجے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عالمی حلقوں میں صدر پرویز کی حمایت میں واضح کمی آئی ہے۔ اِس پس منظر میں مرکزی سیاسی دھارے کی دو اہم ترین جماعتوں کی طرف سے میثاق جمہوریت کے اعلان نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔ خاص طور پر اِس لیے بھی کہ اِس دستاویز میں خارجہ پالیسی نیز بنیاد پرست دہشت گردی کے حوالے سے بڑی عالمی طاقتوں کے نقطۂ نظر سے اتفاق کا پہلو نمایاں ہے۔
پاکستانی تاریخ میں حکومت مخالف اتحادوں اور تحریکوں کی کامیابی میں فیصلہ کن عنصرفوج یا فوج کے کسی با اثر دھڑے کی پشت پناہی رہی ہے۔ درونِ خانہ شہادتوں کی روشنی میں عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ ایوب مخالف تحریک کو یحیٰی خان، جنرل حمید اور جنرل پیرزادہ کی حمایت حاصل تھی۔ سنہ71 میں مشرقی پاکستان میں شکست کے باوجود یحییٰ خان کی سبکدوشی میں فیصلہ کن کردار جنرل گل حسن اور ائیر مارشل رحیم نے ادا کیا۔ سنہ 77 کی بھٹو مخالف تحریک کے بارے میں مولانا مفتی محمود اور پروفیسرعبدالغفور جیسے محرمان راز کا کہنا ہے کہ قومی اتحاد کے کچھ رہنما فوجی جنرلوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ سنہ 93اور سنہ 96 کی حکومت مخالف تحریکوں کے بارے میں موجودہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے بیانات ریکارڈ پر ہیں۔ سنہ81 میں افغان تنازعے کے باعث ایم آر ڈی کی تحریک کو ایسی خفیہ پشت پناہی میسر نہیں تھی چنانچہ سندھ اور پنجاب میں عوامی قربانیوں کے باوجود ایم آر ڈی جنرل ضیاء کو ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکی اور اُن کی حکومت اپنا منطقی دور پورا کر کے عوامی ردعمل کی بجائے نادیدہ عوامل کے ہاتھوں ختم ہوئی۔ اس پس منظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں میں تائید اور مخالفت کی موجودہ میزان کس طرف ہے۔ اس ضمن میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ہر فوجی حکومت کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ بظاہر تو فوج کا سربراہ مطلق العنان حکمران ہوتا ہے لیکن اصل اقتدار فوج کے ادارے کو حاصل ہوتا ہے۔ اس ادارے کے لیے بنیادی ترجیح کسی خاص جنرل کو اقتدار میں رکھنا نہیں بلکہ اقتدار پر فوجی بالادستی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ اقتدار کی چوٹی پر پہنچنے والا ہر جنرل ایک خاص مدت کے بعد اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ کولمبیا کے نوبل انعام یافتہ مصنف گیبرئیل گارشیا مارکوئیس کے لفظوں میں ہر فوجی آمر اقتدار کی تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ نواز شریف اور بے نظیر میں طے پانے والے میثاق جمہوریت میں فیصلہ کن نکتہ سیاسی عمل میں فوج کی بالا دستی کا خاتمہ ہے۔ اس دستاویز کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اسی نکتے پر ہے۔ پاکستانی عوام کو تو طویل عرصہ پہلے سیاسی عمل سے بارہ پتھر باہر کیا جاچکا ہے۔ اب اس مناقشے میں بنیادی کردار چار ہیں۔ اول پاکستانی فوج: مبصرین گزشتہ واقعات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج میں ایک طرف تو موجودہ حکومتی بندوبست میں بر سر اقتدار جنرل ہیں جب کہ دوسری طرف وہ نادیدہ عناصر ہیں جو اپنی ذہنی تربیت اور
دوم، معروف جمہوری عمل پر اتفاق رکھنے والی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں، اس مجادلے کا دوسرا فریق معروف جمہوری عمل پر اتفاق رکھنے والی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں ہیں۔ تیسرا فریق مذہبی سیاسی جماعتیں نیز جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیمیں ہیں۔ ان گروہوں کی طاقت کا ایک مظاہرہ 14 فروری کو لاہور میں دیکھنے میں آیا تھا۔ حال ہی میں اس گروپ میں مقامی طالبان کی اصطلاح بھی شامل ہوئی ہے۔ باخبر حلقوں میں یہ بات کم و بیش تسلیم کی جارہی ہے کہ وزیرستان میں طالبان اپنا اثر و رسوخ قائم کرچکے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کا چوتھا فریق امریکی قیادت میں عالمی طاقتیں ہیں۔ اب تک صدر پرویز مشرف کی فوجی جنتا ایک طرف تو مذہبی دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد میں شریک تھی تو دوسری طرف متحدہ مجلس عمل کے ساتھ اَن کہے سمجھوتے میں بھی شامل تھی۔ شخصی اقتدار کی مجبوریوں کے باعث بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ صدر مشرف کے تعلقات کبھی گرم جوش نہیں رہے تاہم وہ مذہبی عناصر کے ساتھ جوڑ توڑ میں کامیاب رہے تھے۔ نئی صورت حال میں صدر پرویز مشرف اپنے دونوں اتحادیوں کا اعتماد کھو رہے ہیں۔ ایک طرف عالمی طاقتوں اور جمہوری قوتوں کے درمیان فاصلہ کم ہورہا ہے تو دوسری طرف نادیدہ مقتدر حلقوں اورمذہبی گروہوں میں تال میل بڑھ رہا ہے۔ میثاق جمہوریت کے مندرجات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ہمہ مقتدر طاقتوں اور جمہوری قوتوں میں واضح خلیج پیدا ہوچکی ہے۔ اس صورت حال میں یہ امر واضح ہے کہ پاکستانی فوج نے پاکستان پر اپنی سیاسی، معاشرتی اور معاشی گرفت ڈھیلی کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ بلکہ مذہبی عناصر اور اُن کے طاقتور حامیوں کا خیال ہے کہ اُن کے لیے پہل کاری کا وقت آگیا ہے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ میثاق جمہوریت میں حکومت کے خلاف کسی تحریک کے عملی پہلوؤں کی بجائے اقداری نکات پر زور دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کسی واضح لائحہ عمل کی بجائے ایسے بحرانی موڑ کے منتظر ہیں جب وہ کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی غرض سے پاکستان واپس آسکیں۔ اس مرحلے پر مختلف سیاسی عناصر کی عوامی طاقت کے مظاہرے کا سوال سامنے آتا ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں عوام کو سڑکوں پر لانے کے لیے تنظیمی وسائل اور رائے عامہ کی تائید نہیں رکھتیں۔ عام انتخابات میں شخصی اور خاندانی رسوخ کی بنیاد پر نشستیں جیتنا اور بات ہے لیکن فکری وابستگی کی بنیاد پر عوام کو سڑکوں پر لانا بالکل مختلف امر ہے۔
پاکستان میں 12 کروڑ آبادی کی عمر45 برس سے کم ہے۔ نصاب تعلیم اور ذرائع ابلاغ میں یک طرفہ پراپیگنڈے کے باعث اس آبادی کا بڑا حصہ جذباتی طور پر اُسی طرح بنیاد پرست قوتوں سے وابستگی محسوس کرتا ہے جس طرح پاکستانی نوجوانوں نے ساٹھ کے عشرے میں بھٹو صاحب کے اسلامی سوشلزم کی حمایت کی تھی۔ اس صورت حال میں جمہوری جدوجہد کے حوالے سے پاکستان میں چند چہروں کی تبدیلی تو ممکن ہے لیکن میثاق جمہوریت میں بیان کردہ اقداری منزل کی طرف سفر کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ جمہوری قوتوں نے اپنی سیاسی ترجیحات کو واضح کرنے کا خوش آئند قدم بروقت اُٹھایا ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کی 9 نمبر بس وقت پر آئے گی۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔) |
اسی بارے میں ’میثاق جمہوریت ایک سنگِ میل‘14 May, 2006 | پاکستان اک نا ممکن خواب کا خواب24 March, 2006 | قلم اور کالم بنگلہ بھاشا اندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی21 February, 2006 | قلم اور کالم خبر کا جبر04 February, 2006 | قلم اور کالم حدود آّرڈیننس اور حقوقِ نسواں14 December, 2005 | قلم اور کالم ’سنہ 65 کا جذبہ یا قوم کی توہین‘22 November, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||