BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 May, 2006, 03:52 GMT 08:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: عالمی ’ہسٹری شیٹر‘

پاکستانی مدرسے کی گریجویشن
پاکستانی مدرسوں میں دنیا بھر سے نوجوان اسلامی تعلیم حاصل کر چکے ہیں
پاکستان اور شاید پوری دنیا میں چلن یہ ہی ہے کہ جہاں چوری، ڈکیتی یا اسی قبیل کے دوسرے جرائم کی کوئی واردات ہو، پولیس سب سے پہلے علاقے کے ان افراد کو شامل تفتیش کرتی ہے جو پہلے بھی اسی طرح کے جرائم میں ملوث رہے ہوں۔ اصطلاحاً یہ لوگ ہسٹری شیٹر کہلاتے ہیں یعنی مقامی تھانے میں ان کے جرائم کا کھاتہ موجود ہوتا ہے۔ بد اچھا بدنام برا۔۔۔

ایک بار پولیس کے رجسٹر پر نام آیا گیا پھر چار دن باہر تو چودہ دن اندر۔ عادی مجرم تو خیر ’پولس تفتیش‘ کے بھی عادی ہوتے ہیں مگر محض شک، نام کی مماثلت یا مشکوک شخص سے دوستی پر گرفتار کیے جانے والے اور ان کے وابستگان سخت ذہنی اذیت سے گزرتے ہیں۔ یہ اذیت تھانے یا عدالت سے بے گناہ ثابت ہونے کے بعد بھی برقرار رہتی ہے، کہ جاننے والوں کی چبھتی نظریں اور ذومعنی فقرے کرب کے احساس کی آبیاری کرتے رہتے ہیں۔

پچھلے ہفتے یہاں لندن میں سات جولائی (سیون سیون) سنہ دو ہزار پانچ کو کیے جانے والے چار خودکش بم دھماکوں کے بارے میں دو تحقیقاتی رپورٹیں جاری کی گئیں۔ ایک رپورٹ انٹیلیجنس اور سکیورٹی سے متعلق پارلیمنٹری کمیٹی نے مرتب کی تھی جبکہ سرکاری سطح پر تیار کی گئی دوسری رپورٹ سابق وزیردفاع اور حال ہی میں وزارتِ داخلہ کا قلمدان سنبھالنے والے رکن پارلیمنٹ جان رِیڈ نے پارلیمنٹ میں پیش کی۔ لندن بم حملوں میں باون عام شہری اور چار خودکش بمبار ہلاک ہوئے تھے۔

دونوں رپورٹوں میں یہ بات بالکل واضح طور پر کہی گئی ہے کہ کم سے کم دو حملہ آور، صدیق خان اور تنویر شہزاد نے ان حملوں سے پہلے کچھ وقت پاکستان میں گزارا تھا۔ تاہم اس کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے یہ وقت کہاں اور کس کے ساتھ گزارا۔ بس قیاس کیا گیا ہے کہ لندن بم حملوں کے تناظر میں یہ وقت اہم ہوسکتا ہے۔

دونوں رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ صدیق خان اور تنویر شہزاد نے ان حملوں سے پہلے کچھ وقت پاکستان میں گزارا تھا
یہاں لندن میں ایک مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے جس میں سات ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے دھماکے کرنے کے لیے بڑی مقدام میں فرٹیلائزر (مصنوعی کھاد) خرید کر ذخیرہ کی تھی۔ ان سات افراد میں سے چھ نام پاکستانی نژاد لگتے ہیں اور کم سے کم تین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان ہوکر آئے ہیں۔
دہشت گردی کے الزام میں امریکہ میں بھی پاکستانیوں کو مقدمات کا سامنا ہے۔ اس کی ایک مثال ریاست کیلیفورنیا میں پاکستانی باپ بیٹے کے خلاف چلنے والا مقدمہ ہے۔

لندن بم حملوں کے سلسلے میں یونان میں بارہ پاکستانیوں کے ’تفتیشی اغوا‘ کی خبریں شائع ہو چکی ہیں۔

افغان حکومت کی جانب سے آئے دن پاکستان پر الزام لگتا ہے کہ وہاں طالبان اور القاعدہ کی حمایت موجود ہے۔ اس میں امریکہ بھی ہم آواز ہوکر کہتا ہے دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے پاکستان کو ’مزید‘ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

حالانکہ لندن بم حملوں کے بعد جب ذرائع ابلاغ میں پاکستان کا کثرت سے ذکر ہونے لگا تھا تو صدر جنرل پرویز مشرف نے بغیر لگی لپٹی کے کہا تھا کہ اگر (باکسر) عامرخان ’ان کا‘ ہے تو لندن کے بمبار بھی ’ان ہی کے‘ ہیں۔ وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے سینکڑوں دہشتگرد امریکہ کے حوالے کیے ہیں اور ملکی تاریخ میں پہلی بار اسّی ہزار فوج قبائلی علاقوں میں تعینات کی ہے۔

مگر لگتا ہے کہ پاکستان مبینہ دہشگردی کے خلاف جنگ میں اپنی ساکھ قائم نہیں کر سکا اور مغربی خفیہ ادارے اس کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مغربی خفیہ ادارے پاکستان کو کس قدر شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس کا اندازہ اس اخباری رپورٹ سے ہوتا ہے جس کے مطابق گیارہ ستمبر سنہ دوہزار ایک کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے بعد لندن میں پاکستانی سفارتخانے کے اندر برطانوی خفیہ ادارے نے ایسے آلات نصب کیے تھے جن کے ذریعے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کی نگرانی کی جاتی تھی۔ تاکہ اس مسئلہ پر پاکستان کے حقیقی سرکاری موقف کا اندازہ لگایا جاسکے۔ حالانکہ جنرل مشرف افغانستان پر امریکی حملے کے لیے حمایت اور تعاون کا اعلان کر چکے تھے۔ ویسے بھی یہ حرکت سفارتی روایت کے خلاف تھی اور بھی ’روایت پسند‘ معاشرے میں۔ معلوم نہیں اس حرکت پر پاکستان سے رسمی معذرت بھی کی گئی یا نہیں۔

لندن بم حملوں میں باون عام شہری اور چار خودکش بمبار ہلاک ہوئے تھے
اس شک کی جڑیں شاید اس وقت میں پیوست ہیں جب سنہ چوراسی میں امریکی کانگریس مین چارلی وِلسن اور آج کے معتوب مجاہد کمانڈر گلبدین حکمت یار کے مابین پشاور میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد افغانستان سے ’روسی قبضہ‘ ختم کروانے کے لیے امریکی ڈالرز اور سی آئی اے کی پاکستان میں فروانی ہوگئی تھی۔

اب جب امریکہ کہتا ہے کہ ’دہشتگردی‘ کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ’مزید‘ کچھ کرنے کی ضرورت ہے تو اس ’مزید‘ کے معنی امریکی خفیہ اداروں کے ساتھ ساتھ یقیناً افغان جہاد کے دوران سرگرم پاکستانیوں کو بھی معلوم ہوں گے۔

لیکن عام پاکستانی اور بالخصوص بیرونی ملک پاکستانیوں کے لیے مسئلہ اس ’مزید‘ کو جاننے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں بھی دوسرے ملکوں کے شہریوں کی طرح اس وقت تک کسی شک سے بالاتر سمجھا جائے جب تک ان کے کسی جرم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہ مل جائیں۔ کیا محض پاکستانی یا پاکستانی نژاد ہونا یا پاکستان جانا مشکوک ہونے کے لئے کافی ہے؟

اس وقت مجھے اس بوڑھیا کا لطیفہ یاد آ رہا ہے جس کے گھر میں چور گھس آئے تھے۔ بوڑھیا نے شور مچایا تو چور فرار کی راہ نہ پاکر گھر ہی میں اِدھر اُدھر چھپ گئے۔ ان میں سے ایک کو مچان پر جگہ ملی۔ محلے والے ایک ایک کرکے پہنچتے اور بوڑھیا سے پوچھتے: ’اماں پہچانا کون تھے وہ؟‘ تو بڑی بی کا جواب ہوتا، ’اوپر والا جانے۔‘ جب ’اوپر والا جانے‘ کی تکرار ہونے لگی تو مچان پر چھپا چور زچ آگیا اور چیخ چیخ کر کہنے لگا: ’وہ نہ جانے جو پلنک کے نیچے چھپا ہوا ہے، وہ نہ جانے جو باورچی خانے میں چھپا ہوا ہے، وہ نہ جانے جو الماری کے پیچھے ہے، وہ نہ جانے جو۔۔۔۔‘

’افغان جہاد‘ کی بہتی گنگا میں تو مشرق اور مغرب کے بہت سے ’غازیوں‘ نے ہاتھ دھوئے ہیں۔ پھر بدنامی پاکستانیوں کے حصے ہی میں کیوں؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد