| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیقات پاکستانی ماہرین کریں گے
پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ماہرین کی ایک ٹیم کو برطانیہ بھیجا گیا ہے تاکہ لندن میں قائم پاکستانی سفارتخانے میں مبینہ طور پر نصب کیے گئے جاسوسی کے آلات کی تلاش کا کام کیا جا سکے۔ کہا جا رہا ہے کہ جاسوسی کے یہ آلات برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم۔آئی۔فائیو نے گیارہ سمتبر سن دو ہزار ایک کو نیویارک پر ہونے والے حملوں کے بعد پاکستان کے سفارتخانہ میں نصب کیے گئے تھے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اس بات کا اعلان یورپ کے دورے سے وطن واپسی کے موقع پر کیا۔ اس دورے کے دوران خورشید قصوری نے برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کے ساتھ مبینہ طور پر جاسوسی کے آلات نصب کیے جانے کے معاملے پر بات چیت کی ہے جس کا بظاہر کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ برطانوی روزنامے نے دس روز قبل ایک خبر شائع کی تھی کہ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم۔آئی۔فائیو کے لیے کام کرنے والے تعمیرات سے متعلق ایک ٹھیکیدار نے پاکستانی سفارتخانے کے حساس حصوں میں جاسوسی کے یہ آلات نصب کیے تھے۔ وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ اگر آلات نصب کیے جانے کے یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اقدام ویانا کنوینشن کی صریحاً خلاف ورزی ہو گا۔ ویانا معاہدے کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں کے حقوق اور املاک کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے لیکن حالیہ صورت حال، دونوں ممالک کے مابین باہمی اعتماد پر ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||