’پاکستانیوں کو اغوا کیا گیا تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونان میں سرکاری وکیل نے ان بارہ پاکستانیوں کے الزامات کو درست مان لیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان افراد کو یونانی سکیورٹی کے اہلکاروں نے لندن بم حملوں کے بعد غیر قانونی حراست میں رکھا تھا۔ یونانی پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ یونان کے سکیورٹی ایجنسی کے کم سے کم دو اہلکاروں کے خلاف باقائدہ الزامات عائد کر کے فوجداری مقدمات درج کیے جانے چاہیئیں۔ ان پاکستانی نوجوانوں کا الزام تھا کہ یونانی سکیورٹی نے انہیں برطانوی جاسوسی ادارے ’ایم آئی 6‘ کے کہنے پر حراست میں رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے حراست کے دوران پوچھ گچھ کرنے والے انگریز تھے ۔ ان پاکستانیوں نے کہا تھا کہ ان سے کئی روز تک تفتیش کی گئی جس دوران ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی ۔ تاہم یونان میں برطانوی جاسوسی ادارے کے چیف کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا ہے کیونکہ سفارتکار ہونے کی وجہ سے انہیں خصوصی تحفظ اور استثنعی حاصل ہے۔ انہیں یونان کے ایک اخبار میں تفتیش میں شامل ہونے کی خبر کے اشاعات کے بعد برطانیہ واپس طلب کر لیا گیا تھا۔ پاکتانیوں کے وکیل نے یونانی پراسیکیوٹر کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی عظیم کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان افراد کو واقعی اغوا کیا گیا تھا اور ان کی حراست غیر قانونی تھی۔ سرکاری وکیل کے اس اعلان سے یونان کی حکومت کو خفت اٹھانا پڑے گی جو کہ پاکستانی اور برطانوی حکومت کی طرح اب تک اس واقعہ سے لا علمی کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اس وقت کے یونانی وزیر داخلہ نے ان الزامات کی مکمل تردید کی تھی اور اب ان پاکستانیوں کے حقوق کے لیئے کام کرنے والی تنظیمیں وزیر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ | اسی بارے میں یونان پاکستانی: تفتیش کارمقرر29 December, 2005 | آس پاس الزامات مضحکہ خیز ہیں: یونان15 December, 2005 | آس پاس سات پاکستانیوں کے اغوا کا مقدمہ13 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||