سات پاکستانیوں کے اغوا کا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونان میں سرکاری وکیلوں نے سات پاکستانیوں کے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ میں ان کے رشتہ داروں سے تعلقات کی وجہ سے انہیں اغوا کرکے پوچھ گچھ کی گئی۔ ان سات پاکستانیوں نے کہا ہے کہ انہیں سات جولائی کو لندن کی زیرزمین ریلوے میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے فوری بعد اغوا کرلیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اغواکاروں نے، جو انگریزی بول رہے تھے، ان کی آنکھ پر پٹی باندھ دی اور اڑتالیس گھنٹے تک غیرقانونی طور پر قید رکھا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے ان الزامات کے تردید کی ہے کہ ان سات پاکستانیوں کے اغوا میں برطانوی انٹیلیجنس کے ایجنٹ ملوث تھے۔ برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی کو جیک اسٹرا نے بتایا کہ یونان میں ہونے والے اس واقعے میں کوئی بھی برطانوی اہلکار شامل نہیں تھا۔ یونان کی پولیس کا کہنا ہے کہ جولائی کے اس واقعے کے لیے ان کے پاس مقدمہ اب دائر کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر یہ واقعہ جولائی میں پیش آیا تھا۔ پاکستانیوں کی نمائندگی کرنے والے وکیل کا کہنا ہے کہ اب جبکہ اس بارے میں پارلیمان میں پیٹیشن دائر کردیا گیا ہے تو انصاف اور پبلِک آرڈر کے وزراء آئندہ چند دنوں میں ان سوالات کا جواب دینے کے لیے مجبور ہوں گے۔ ان افراد نے کہا ہے کہ حراست میں ان سے ان کی برطانیہ میں رشتہ داروں سے تعلقات کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے وکیل کا خیال ہے کہ یہ واقعہ سات جولائی کے لندن دھماکوں سے منسلک ہے۔ | اسی بارے میں لندن بمبار کی ویڈیو جاری02 September, 2005 | آس پاس ’لندن دھماکے القاعدہ نے کروائے‘19 September, 2005 | آس پاس 7جولائی: حملوں سے پہلے ریہرسل20 September, 2005 | آس پاس لندن حملہ آور برطانیہ کے حوالے 22 September, 2005 | آس پاس ’ریڈیکل مساجد نے زہرگھولا‘23 September, 2005 | آس پاس لندن، تین افراد پر فرد جرم عائد06 August, 2005 | آس پاس ’سِڈ‘خود کش حملہ آور کیسے بنا؟17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||