الزامات مضحکہ خیز ہیں: یونان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونان کی حکومت نے واضح طور پر اس بات کی تردید کی ہے کہ دارالحکومت ایتھنز میں برطانوی انٹیلیجنس کے ایجنٹوں نے سات پاکستانیوں کو اغوا کیا تھا اور کئی دن ان سے برطانیہ میں سات جولائی کو ہونے والے بم حملوں کے متعلق تفتیش کرتے رہے تھے۔ یونان کے منسٹر آف پبلک آرڈر جارج وولگراکس نے کہا کہ یہ الزامات یا تو اشتعال انگیز ہیں یا پھر مضحکہ خیز۔ یونان میں سات پاکستانیوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں برطانیہ میں ہونے والے خود کش حملوں کے سلسلے میں اغوا کیا گیا اور ان سے ان کے خاندانوں کے بارے میں غیر قانونی انداز میں تفتیش کی گئی۔ حکومت کی طرف سے باضابطہ جواب دیتے ہوئے یونان کے وزیر واضح طور پر غصے میں دکھائی دیتے تھے۔ وہ کبھی الزامات کو بغض پر مبنی کہتے تو کبھی احمقانہ۔ اس سے قبل بدھ کو یونانی وزیر پاکستان کے سفیر سے ملے تھے۔ پاکستانی سفیر سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی برادری کی طرف سے کسی نے بھی اس مبینہ اغوا کے بارے میں سفارتخانے سے شکایت نہیں کی تھی۔ اس سے قبل اغوا کے الزامات کے بعد یونان میں سرکاری وکیلوں نے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانیوں کے وکیلِ فرانگیسکوس راگوسس نے ان الزامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس خفیہ آپریشن میں یونانی حکام نے برطانوی خفیہ ایجنٹوں کی مدد کی ہے تا کہ وہ یہ جان سکیں کہ ان کا لندن میں رہنے والوں کی دہشتگردانہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں‘۔ ان سات پاکستانیوں نے کہا ہے کہ انہیں سات جولائی کو لندن کی زیرزمین ریلوے میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے فوری بعد اغوا کرلیا گیا تھا۔ راگوسس نے مبینہ مغویوں سے کیے جانے والے سلوک کے بارے میں بتایا کہ ’انہوں نے بتایا ہے کہ انہیں نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسے مارا پیٹا گیا یا ان پر کسی اور طرح کا دباؤ ڈالا گیا۔ الزامات یہ ہیں کہ انہیں زبردستی لے جایا گیا، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور اسکو عالمی طور پر تشدد تصور کیا جاتا ہے۔ ان پر کوئی الزام بھی نہیں تھا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ انہیں یہ بھی پتا نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جانے والا ہے۔ انہیں تنہائی میں رکھا گیا اور اس دوران انہیں کسی بھی جاننے والے کو فون کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں کسی وکیل سے بھی رابطہ نہیں کرنے دیا گیا۔ اس کہ بعد انکھوں پر پٹیاں باندھ کر وسطی ایتھنز کے علاقے اومونیا میں چھوڑ دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ وہ اس واقعے کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتائیں اور اگر انہوں نے کسی کو کچھ بتایا تو ان کے ساتھ بہت برا ہو گا‘۔ راگوسس کا کہنا ہے کہ ان پاکستانیوں سے پوچھا گیا کہ برطانیہ ان کے کون کون سے رشتے دار ہیں، وہ کہاں رہتے ہیں، کیا کرتے ہیں، ان کے موبائل ٹیلیفونوں کے نمبر کیا کیا کیا اور آخری بات انہوں نے ان کب اور کیا بات کی۔ مغویوں کا کہنا ہے کہ اغواکارانگریزی بول رہے تھے اور انہوں نے انہیں آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اڑتالیس گھنٹے تک غیرقانونی طور پر قید رکھا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے ان الزامات کے تردید کی ہے کہ ان سات پاکستانیوں کے اغوا میں برطانوی انٹیلیجنس کے ایجنٹ ملوث تھے۔ برطانیہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی کو جیک اسٹرا نے بتایا کہ یونان میں ہونے والے اس واقعے میں کوئی بھی برطانوی اہلکار شامل نہیں تھا۔ | اسی بارے میں پاکستانیوں کا اغوا، سٹرا کی تردید14 December, 2005 | آس پاس لندن بمبار کی ویڈیو جاری02 September, 2005 | آس پاس ’لندن دھماکے القاعدہ نے کروائے‘19 September, 2005 | آس پاس 7جولائی: حملوں سے پہلے ریہرسل20 September, 2005 | آس پاس لندن حملہ آور برطانیہ کے حوالے 22 September, 2005 | آس پاس ’ریڈیکل مساجد نے زہرگھولا‘23 September, 2005 | آس پاس لندن، تین افراد پر فرد جرم عائد06 August, 2005 | آس پاس ’سِڈ‘خود کش حملہ آور کیسے بنا؟17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||