لوڈی: بیٹا قید باپ کا’ری ٹرائل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے کے الزام میں کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت سے سزا پانے والے پاکستانی نوجوان کے باپ عمر حیات پر ایف بی آئی سے جھوٹ بولنے کے الزام میں پھر سے مقدمہ چلایا جائےگا۔ ریاست کیلیفورنیا کے دارالحکومت سکرامینٹو کے جنوب میں واقع چھوٹے سے شہر لوڈی کے مقامی آئس کریم فروش اڑتالیس سالہ عمر حیات راولپنڈی کے مولانا فضل الرحمان خلیل کے داماد بتائے جاتے ہیں۔ مقامی پریس کے مطابق،گزشتہ ماہ کی پچیس تاریخ کو نوجوان پاکستانی حامد حیات کو مبینہ طور پر پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے کا الزام ثابت ہونے پر وفاقی عدالت نے چھتیس سال کی سزا سنائی تھی جبکہ ایک علیحدہ مقدمے میں حامد حیات کے والد کے ایف بی آئی سے دروغ گوئی کے الزام میں فیصلے پر اراکین تقسیم ہونے پر جیوری تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔ مقامی پریس کے مطابق عمر حیات کو گیارہ ماہ جیل میں رہنے کے بعد تین لاکھ نوے ہزار ڈالرز کی ضمانت پر جیل سے رہا کر کےگھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ مقامی پریس نے یہ بھی بتایا ہے کہ عمر حیات کے ابتدائی طور ایف بی آئی کے اہلکاروں سے اپنے بیٹے کو بچانے کے لیئے اس کی دہشت گردی کے کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے سے متعلق جھوٹ بولنے پر جیوری کے ارکین تقسیم ہوگئے تھے اور عمر حیات کے خلاف مقدمہ سننے والے وفاقی جج نے اسے ’مس ٹرائل‘ قرار دیا تھا۔
عمر حیات پر دوبارہ چلائے جانے والے مقدمے کی سماعت جون کے پہلے ہفتے میں شروع ہوگی- اس سے قبل عمر حیات کے ایف بی آئی کو دیئے گئے اعترافی بیانات میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اپنے بیٹے سے جس کیمپ میں ملے تھے وہ راولپنڈی کے قریب واقع ایک زیرِ زمین کیمپ تھا اور اس میں اس کے سسر کے مدرسے کے کچھ طالبعلموں سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ جہادی تربیت لے رہے تھے جن میں سفید فام امریکی بھی شامل تھے۔ عمر حیات کے بیٹے نے اپنے مبینہ تربیتی کیمپ کا محل وقوع بالاکوٹ کے پہاڑوں میں بتایا تھا۔ بیٹے کے اعترافی بیان کے مطابق اس کیمپ میں دو سو کے قریب لوگ تھے۔ جب ان سے تفتیش کاروں نے پوچھا تھا کہ وہ کون لوگ تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ’وہ مجھ سے بڑے اور زیادہ تعلیم یافتہ تھے‘۔ اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ میں ان پاکستانی باپ بیٹوں کے خلاف مقدمات کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عدالت میں زلزلے کے متاثرہ علاقوں میں جانے والے ایک امدادی کارکن نےگواہ کے طور پر یہ بیان دیا کہ پاکستانی نوجوان کے بتائے گئے تربیتی کیمپ والے محل وقوع سے کچھ فاصلے پر پاکستانی فوج کا کیمپ بھی موجود تھا اور ایک دفعہ اسے بھی وہاں داخل ہونے سے ایک پاکستانی فوجی عملدار نے روک دیا تھا۔ | اسی بارے میں امریکی عدالت، حامد پر جرم ثابت26 April, 2006 | آس پاس لوڈی:’پاکستانی باپ بیٹےکا اعتراف‘11 March, 2006 | آس پاس پاکستانی امام کی امریکہ بدری16 August, 2005 | آس پاس لوڈی مسجد کے پیش امام کا اعتراف26 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||