لوڈی:’پاکستانی باپ بیٹےکا اعتراف‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دہشت گردی کے مبینہ تربیتی کیمپوں کی موجودگی کا مبینہ اعتراف امریکہ کی ایک مقامی وفاقی عدالت میں دو گرفتار پاکستانی باپ بیٹوں نے کیا ہے جن پر امریکی وفاقی اداروں سے میینہ طور پر جھوٹ بولنے اور ان میں سے ایک (بیٹے) پر ایسے کیمپوں میں دہشت گردی کی مبینہ تربیت حاصل کرنے کا الزام ہے۔ کیلیفورنیا سے ساٹھ میل کے فاصلے پر سینٹرل ویلی کہلانے والے زرعی علاقے لوڈی کے رہائشی عمر حیات اور ان کے چھبیس سالہ بیٹے حامد حیات کو گزشتہ سال جون میں میں ایف بی آئی کے چھاپوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کیلیفورنیا کے مقامی صحافیوں کے مطابق گزشتہ ہفتے ریاستی دارالخلافہ سکرامنٹو کی ایک وفاقی عدالت کے سامنے ایف بی آئی کے دو سینیئر ایجنٹوں نے ان دونوں پاکستانی باپ بیٹوں کے مبنیہ اعترافات کی وڈیو ریکارڈنگ پیش کی جن کے مطابق لوڈی کے سینتالیس سالہ عمر حیات نے بتایا کہ اس کے بیٹے حامد حیات نے راولپنڈی سے چند میل کے فاصلے پر واقع دہشت گردی کے ایک کیمپ میں تربیت حاصل کی تھی جبکہ حامد حیات نے ا پنے مبینہ اعترافی بیان میں کہا کہ اس نے راولپنڈی سے ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ایسے تربیتی کیمپ میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی جس میں امریکی صدر جارج بش، وزیرِ دفاع رمزفیلڈ اور ایسی اہم ترین امریکی شخصیات کے فرضی نشانے بنوا کر امریکہ میں حملے کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ عمر حیات نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اس تربیتی کیمپ میں اپنے بیٹے حامد حیات سے ملاقات کی تھی۔ عدالت میں ایف بی ائی کے ایک سینیئر ایجنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں ایسے تربیتی کیمپوں میں والدین کا بچوں کے ساتھ ملنا ایسے ہے جیسے امریکہ میں والدین سکول اور کالج میں اپنے بچوں کی گریجویشن میں شرکت کرتے ہیں۔ آئس کریم فروش پاکستانی عمر حیات کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور وہیں ان کے سسر کا مدرسہ بھی ہے اور بہت سے مدارس پر ان کا کافی اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے۔
عمر حیات نے پہلےمینہ طور ایف بی آئی کو بتایا تھا کہ اس کے بیٹے نے پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپوں میں کوئی تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن بعد میں امریکی وفاقی ایجنٹوں کی لوڈی میں پاکستانیوں کی مقامی آبادی اور مسجد کی تفتیش اور بعد میں مقامی پیش امام اور اس کے بیٹے کی گرفتاری کے بعد اس کی مبینہ طور پر تصدیق ہوئی تھی کہ حامد حیات نے پاکستان میں مبینہ طور دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔ اس پر امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دونوں باپ بیٹوں کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ گرفتار ہونے والے مقامی پیش امام اور ان کے بیٹے کو مبینہ طور دہشت گردی پر اکسانے والے خطبات دینے اور دہشت گردی سے تعلق کے شبہ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا لیکن حال ہی میں ان پر فقط امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو سکی تھی جس پر کراچی سے تعلق رکھنے والے پیش امام اور ان کے بیٹے کو امریکہ بدر کر دیا گیا۔ بہرحال گزشتہ ہفتے وفاقی عدالت میں عمر حیات اور ان کے بیٹے حامد حیات کے وڈیو پر ایسے اعترافی بیانات پر ان کے دفاع کے وکیل لی گرفن نے عدالت کو بتایا کہ ان پاکستانی باپ بیٹوں سے ایف بی آئی نے یہ بیانات زبردست نفسیاتی دباؤ ڈال کر حاصل کیے اور نیز یہ بھی کہ ان دونوں پاکستانی باپ بیٹوں کی گرفتاری اور ان پر مذکورہ الزامات اور ان کی گرفتاریوں کی تمام بنیاد ایک اور پاکستانی اور اب ایف بی آئی کے مخبر مسٹر خان سے مسابقت کا شاخسانہ ہے۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتیا کہ مسٹر خان فاسٹ فوڈ اسٹور پر کام کرنےاور پھر ایک اسٹور مینیجر سے ایف بی آئی کا مخبر بنا ہے جہاں اس کی کمائی دو لاکھ ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سان فرانسسکو کے نزدیک لوڈی میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی خاندان برس ہا برس سے آباد ہیں۔ بہرحال حقائق کچھ بھی ہوں لیکن امریکی وفاقی عدالت اور ميڈیا میں دو پاکستانیوں کے پاکستان میں دہشت گردی کے مبینہ کیمپوں کی موجودگی اور ان میں سے ایک کی وہاں تربیت حاصل کرنے کے اعترافی بیانات کی بازگشت اس وقت سنائی دی ہے جب پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف امریکہ کی عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم حلیف ہونے کا دعوٰی کر رہے ہیں اور پاکستان میں موجود ایسے کیمپوں کی پہلےمکمل بیخ کنی کی اور پھر سرے ہی سے ان کی موجودگی کی تردید کرتے ہیں جبکہ حال ہی میں افغان صدر حامد کرزئی سمیت کچھ غیر جانبدار حلقے بھی ایسے کیمپوں کی پاکستان میں اب تک موجودگی کی اطلاعات پر مصر ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستانی امام کی امریکہ بدری16 August, 2005 | آس پاس لوڈی مسجد کے پیش امام کا اعتراف26 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||