BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت ناکام ہوتی ہے ریاست نہیں

نواز شریف
نواز شریف سعودی عرب میں جلا وطن رہنے کے بعد اب جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں
پاکستان میں آجکل دو موضوعات پر بڑی شد ومد سے بحث مباحثہ جاری ہے، ایک تو یہ کہ کیا پاکستان ایک ناکام ریاست ہے اور دوسرا میثاق جمہوریت۔
جہاں تک پہلے موضوع کا تعلق ہے تو اس کی ابتدا کسی غیر ملکی جریدے سے ہوئی ہے جس نے اپنی ایک اشاعت میں پاکستان کو بھی ناکام ریاستوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔

میرے نزدیک کسی ریاست کو ناکام قرار دینا ایک بڑا ہی قنوطی اور مایوس کن تصور ہے اور میں، صرف پاکستان ہی نہیں کسی بھی ریاست کو چاہے وہ صومالیہ ہی کیوں نہ ہو ناکام تسلیم کرنے کے لیئے تیار نہیں۔

ہر ملک پر ابتلاء کا ایک دور ضرور آتا ہے لیکن عموماً وہی اس کی نشاۃ ثانیہ کا سبب بھی بن جاتا ہے۔انسانی تاریخ سے ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ تازہ ترین مثال نیپال کی ہے۔ بعد از خرابئی بثیار، وہاں کے عوام اور رہنماؤں کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ بادشاہ خدا کا اوتار تو ہوسکتا ہے لیکن عوام کے مسائل عوام کے نمائندے ہی حل کر سکتے ہیں اور وہ نہ اوپر سے آتے ہیں نہ کسی مخصوص خاندان میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں عوام خود انتخاب کے ذریعے یہ ذمہ داری سونپتے ہیں۔

پاکستانی عوام میں یہ شعور پہلے سے موجود ہے، صرف ایک ذرا سی ’نمی‘ کی ضرورت ہے وہ آج نہیں تو کل آ ہی جائے گی۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی ترجیہات طے نہیں کر پائے ہیں، بچے کی تعلیم پر کم اور شادی پر زیادہ خرچ کرتے ہیں، اپنی صحت کی بحالی پر کم اور موت پر زیادہ خرچ کرنے کے قائل ہیں۔اگر محلے میں ایک دو اموات ہوجائیں تو آپ کو گھر میں دو چار دن کھانا پکانے کی ضرورت نہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ترجیہات بھی درست کرلیں گے۔

دوسرا موضوع جس کا آجکل پاکستان میں بڑا چرچا ہے وہ ہے میثاق جمہوریت۔
اس پرملک کی دو انتہائی اہم سیاسی جماعتوں کے جلاوطن سربراہوں، یعنی میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر نے گزشتہ ہفتے دستخط کیئے، نہ صرف دستخط کیئے بلکہ جن قلموں سے دستخط کیئے ان کا تبادلہ بھی کر لیا۔

وہ قلم جو بی بی بینظیر نے میثاق پر دستخط کے لیئے استعمال کیا وہ میاں نواز شریف کی تحویل میں ہے اور جس قلم سے میاں نواز شریف نے دستخط کیئے وہ بی بی بینظیر کے پاس ہے، یہ غالباً اس بات کی ضمانت ہے کہ کم از کم اب یہ دونوں رہنما اس میثاق سے روگردانی نہیں کریں گے۔

میں نہیں جانتا کہ اس میثاق کے درپردہ کون سا جذبہ کارفرما ہے لیکن جہاں تک اس دستاویز کا تعلق ہے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس کو تیار کرنے والے یقینی مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اب اس دستاویز کو دوسری پارٹیوں کو مطالعہ کے لیئے فراہم کیا جائے گا اور ایک بڑا اجلاس غالباً جولائی کے پہلے ہفتے میں پھر لندن میں ہوگا جس میں میثاق کے بارے میں دوسری جماعتوں کے نقطۂ نظر کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور اگر ان میں وزن ہوا تو ان کو بھی شامل کر لیا جائے گا اور پھر غالباً ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیئے اتفاق رائے سے ایک تحریک کی ابتداء کی جائے گی۔

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیئے ہیں

ابتک مختلف حلقوں کی جانب سے جو رد عمل اس سلسلے میں سامنے آیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میثاق کے متن سے کسی کو اختلاف نہیں، یہاں تک کہ صدر پر ویز مشرف کا بھی اس سلسلے میں جو بیان آیا ہے اس میں اس میثاق میں کسی سقم کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ ’عوام کے مسترد کردہ سیاستدانوں کا اس ملک میں اب کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے‘ اور یہ کہ ’اس میثاق پر انہوں نے عوام کے مفادات کے تحفظ کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کےلیئے دستخط کیئے ہیں‘۔

اگرچہ صدر مشرف کے بیان کے بعد حکمراں جماعت کے باقی رہنماؤں کے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی لیکن انہوں نے بھی میثاق کے متن پر اعتراضات نہیں کیئے ہیں۔صرف اس پر دستخط کرنے والوں کی مبینہ لوٹ کھسوٹ کا ذکر کیا ہے۔
ادھر مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے بھی اس میثاق کا خیرمقدم کیا ہے اور اے۔ آر۔ ڈی کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ ملک سے باہر بیٹھنے کے بجائے ملک میں واپس آئیں اور اس میثاق کی بنیاد پر تحریک چلائیں۔

صرف ڈاکٹر شیر افگن اور جناب شیخ رشید کا کوئی باقاعدہ بیان اس سلسلے میں میری نظر سے نہیں گزرا۔ ہوسکتا ہے وہ اس طرح کی چیزوں کو بہت زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوں یا یہ سوچ رہے ہوں کہ وقت آئے گا تو دیکھ لیں گے فی الحال تو یہ حکومت چل رہی ہے۔

تاہم اس میثاق سے سرکاری جماعت اور خود صدر مشرف اور انکے حوارئین میں ایک طرح کی سراسیمگی اور بے چینی پا ئی جاتی ہے۔ اس کا تاثر یوں بھی ملتا ہے کہ صدر کواب آئندہ اسمبلیوں پر اتنا بھروسہ نہیں رہا اور وہ اپنا انتخاب موجود اسمبلیوں سے ہی کرانے پر غور کر ہے ہیں۔

پھر وہ سرکاری مسلم لیگ میں اتحاد قائم رکھنے پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں جو قاعدے سے انہیں بحیثیت صدرمملکت نہیں کرنا چاہیئے۔

چودھری برادران نے بھی اپنے رویے میں ایک ذرا لچک پیدا کی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ وہ والی کیفیت نہ پیدا ہو جو پچھلے بلدیاتی انتخابات میں پیدا ہوگئی تھی۔

جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو ان کا رد عمل معلوم کرنا خاصا مشکل ہے اس لیئے کہ اس ملک میں رائے عامہ کے جائزوں کا کچھ رواج نہیں ہے۔ لیکن بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے قارئین کا جو رد عمل سامنے آیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثریت کی نظر میں اگلے پچھلے، حاضر غائب سب چور ہیں۔ جو اب ہیں وہ بھی اپنے حلوے مانڈے میں مصروف ہیں، جو آئیں گے وہ بھی یہی کریں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ عوام میں لاتعلقی اور مایوسی کی اس کیفیت کی جائز وجوہات موجود ہیں اور اسے دور کرنے کے لیئے حزب اختلاف کی جماعتوں کوبالخصوص میثاق پر دستخط کرنے والی جماعتوں کو انتخابی اتحاد کا بھی اعلان کرنا چاہیئے اور یہ بھی اعلان کرنا چاہیئے کہ اگر انتخاب کے نتیجے میں انہیں اکثریت حاصل ہوگئی تو وہ ایک قومی حکومت بنائیں گے جس میں منتخب ہونے والی تمام سیاسی جماعتوں کو شریک کیا جائے گا۔ بلکہ جن سیاسی رہنماؤں پر عدالتوں میں مقدمات درج ہیں وہ ان کے فیصلے تک خود حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔

میرا خیال ہے کہ اس اعلان سے میثاقی رہنماؤں کی نیت کے بارے میں عوام میں جو شکوک شبہات پائے جاتے ہیں انہیں دور کرنے اور اس پروپیگنڈے کی تردید میں مدد ملے گی کہ یہ سب کچھ ذاتی مفادات کی خاطر کیا جا رہا ہے۔

ہند۔پاک مذاکرات
باسمتی کا مشترکہ پیٹنٹ اور باہمی تعلقات
فلسطینی سیاست
بش جوچاہتے، دنیا نہیں چاہتی: علی احمد خان
ہوئے تم دوست ۔۔۔
باجوڑ میں بمباری اور پاک امریکہ تعلقات
صدر مشرفگول مول باتیں
حکومت واضح کرے کہ چاہتی کیا ہے؟
یہ بربریت ہے
لندن بم حملوں پر علی احمد خان کا کالم
اسی بارے میں
پاکستان جہاں تھا وہیں ہے
13 May, 2006 | قلم اور کالم
چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کیوں؟
22 April, 2006 | قلم اور کالم
پاک جمہوریت امریکی ایجنڈے پر
08 April, 2006 | قلم اور کالم
’شرپسند پھر بچ نکلے‘
18 March, 2006 | قلم اور کالم
’سب انتہا پسند ہیں‘
18 February, 2006 | قلم اور کالم
’پورا ملک ہی حلبجہ بن گیا‘
25 February, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد