BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 February, 2006, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پورا ملک ہی حلبجہ بن گیا‘

کین لونگسٹن
کین لونگسٹن کو چار ہفتے کے لیےمعطل کر دیا گیا۔
عراق میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انتہائی افسوناک ہونے کے باوجود غیر متوقع نہیں ہے۔ ہر شخص، جس کو تاریخ کی ذرا بھی شد بد ہے جانتا ہے کہ کسی بھی چھوٹے اور مقابلتاً ً کمزور ملک میں’جمہوریت قائم کرنےکے لیئے‘ جب کوئی بڑی طاقت ایسی فوجی کارروائی کرتی ہے تو اس کے ایسے ہی نتائج نکلتے ہیں۔

صدر بش اور وزیراعظم ٹونی بلیئر جس ارادے سے بھی عراق پر حملہ آور ہوئے ہوں وہ یقینی یہ نہیں چاہتے ہوں گے کہ ان کی کارروائی کا یہ حشر ہو۔ صدام پر تو ایک’حلبجہ‘ کا الزام تھا اب یوں لگتا ہے کہ پورا ملک ہی حلبجہ بنتا جارہا ہے۔بعض لوگوں کا تو خیال ہے کہ عراق میں ایک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا ہے جو عین ممکن ہے کہ ملک کی تقسیم پر منتج ہو۔

یہ بھی عجیب و غریب تاریخی حقیقت ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسی قوتیں جس ملک میں قدم رنجہ فرماتی ہیں وہاں ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک بڑے فروعی اختلافات کی بنیاد پر تقسیم ہوجاتے ہیں۔

ہندوستان کی تقسیم ، فلسطین کی تقسیم اور خود صحرائے عرب کی تقسیم اس کا ثبوت ہے۔اس کا کوئی جغرافیائی ، لسانی یا ثقافتی سبب آپ کو نظر نہیں آئے گا بس یوں لگتا ہے کہ ریت پر لکیریں کھینچ دی گئی ہیں۔

یہ بھی بڑی حیرت کی بات ہے کہ پس ماندہ ملکوں میں جمہوریت کے بارے میں ان کے اصول اور تصورات ان کی اپنی ضرورت کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں مثلاً ایک زمانے میں امریکہ کو پاکستان میں جنرل ضیا الحق کی جمہوریت پسند تھی اور آج کل صدر بش، جنرل پرویز مشرف کے جمہوری تصور سے ہم آہنگی محسوس کرنے لگے ہیں۔

لیکن خود اپنے یہاں وہ جمہوری قدروں پر بظاہر آنچ نہیں آنے دیتے۔ اس کی تازہ ترین مثال لندن کے میئر کین لیونگسٹن کی ان کے عہدے سے چار ہفتے کی معطلی ہے۔

کین لونگسٹن پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک مقامی روزنامے کے یہودی رپورٹر پر یہ جملہ کس دیا کہ وہ نازیوں کے بیگار کیمپوں کا پہرے دار لگتا ہے۔رپورٹر کے ایما پر یہودیوں کی ایک تنظیم’جیوش دپٹیز بورڈ‘ نے جناب کین لیونگسٹن کے خلاف اہم عہدوں کی کارکردگی کا جائزہ لینےوالے ٹرائیبونل میں مقدمہ دائر کردیا کہ انہوں نے رپورٹر پر یہ جملہ کس کر اپنے عہدے کے تقدس کو مجروح کیا ہے۔

ٹرائیبونل دونوں طرف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ میئر نے اپنے عہدے کے تقدس کو مجروح کیا ہے اور اس الزام میں انہیں اس عہدے سے چار ہفتوں کے لیئے معطل کردیا گیا۔ جب کہ اس الزام میں انہیں پانچ سال کے لیئے نا اہل بھی قرار دیا جاسکتا تھا۔غالباً ٹرائیبونل کو کین لونگسٹن کی عوامی مقبولیت کا اندازہ تھا۔ٹرائبونل نے انہیں اس فیصلے کے خلاف اپیل کا بھی حق دیا ہے۔

میں اس فیصلے یا اس پر دونوں فریقوں کے ردعمل پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا لیکن مجھے اس بات کی خوشی ضرور ہوتی ہے کہ برطانیہ میں آپ کو اگر کسی مقتدر یا بااختیار شخصیت سے شکایت پیدا ہو تو آپ اسے عدالت میں کھینچ سکتے ہیں اور عدالت اس کے خلاف فیصلہ دینے کی ہمت بھی رکھتی ہے اور اس فیصلے پر عمل درآمد کرانے کا اختیار بھی۔

اس میں شک نہیں کہ کین لیونگسٹن لندن کے مقبول ترین میئر ہیں، لیبر پارٹی کے با ئیں بازو سے ان کا تعلق ہے جس کی بنا پر ان کے حامی پیار سے اور ان کے مخالفین طنزاً انہیں’ ریڈ کن‘ یعنی سرخ کین کہتے ہیں۔

ان کی مقبولیت کی بڑی وجہ ان کی عوام دوستی اور صاف گوئی ہے۔ انہوں نے مئیر کی حیثیت سے لندن کو عوام دوست شہر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اور بعض حلقوں میں ان کی غیرمقبولیت کی وجہ بھی یہی ہے لیکن وہ ایسے فیصلے کرنے سے نہیں جھجکتے جو لندن کے عوام کے فائدے میں ہوں چاہے انہیں اس کے لیئے حکومت کی ناپسندیدگی ہی کیوں نہ مول لینی پڑے۔

بعض سیاسی اور عالمی مسئلوں کے بارے میں ان کی صاف گوئی بھی ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ہے۔مثلاً عراق کی جنگ کے خلاف لندن میں ہونے والے مظاہرے کی انہوں نے کھل کر حمایت کی اور برطانیہ اور امریکہ کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے صدر بش کے دورہ برطانیہ کے موقع پر نہ ان کی میزبانی کا’شرف ،حاصل کیا نہ ایسی کسی تقریب میں شرکت کی جو ان کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہو۔

فلسطین کے قضیئے کے بارے میں بھی ان کا موقف بہت واضح ہے۔ ایک زمانے میں انہوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں شیرون اور شاہ فہد جیسے لوگوں کو لیمپ پوسٹ سے لٹکا دیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

یہ سب بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ برطانیہ ، امریکہ اور دوسرے ملکوں میں مقتدر حضرات اپنے مخالفین کو محض اس لیئے برداشت کرتے ہیں کہ جمہوری قدروں پرآنچ نہ آئے۔ لیکن جب ترقی پذیر اور پس ماندہ ملکوں میں جمہوریت کی بات آتی ہے تو ایران کی منتخب حکومت کے مخالف اور شہنشاہ ایران کے حامی بن جاتے ہیں کبھی صدام کی سرپرستی شروع کر دیتے ہیں ، کبھی پرویز مشرف کے تصور جمہوریت سے ہم آہنگی محسوس کرنے لگتے ہیں اور فلسطین کی امداد میں محض اس لیئے کمی کر دیتے ہیں کہ وہاں کے عوام نے حماس کو کیوں متخب کیا۔

میرا خیال ہے کہ سیاست کے اس دہرے معیار سے اگر احتراز کیا جائے تو نہ صرف عالمی سطح پر خود ان کا اپنا وقار بلند ہوگا بلکہ ان ملکوں کے محروم عوام کو بھی ایک آزاد اور پر سکون فضا میں سانس لینے کا موقع مل جائے جہاں وہ جمہوریت کے قیام کے لیئے بیتاب ہیں۔

اسی بارے میں
سیاست، پروپیگنڈا کے کارخانے
18 February, 2006 | قلم اور کالم
بش جوچاہتے، دنیا نہیں چاہتی
28 January, 2006 | قلم اور کالم
اپنے مسائل خود مل بیٹھ کر حل کیجئے
04 February, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد