23 مارچ پر سوال: پاکستان کس کا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ قرارداد پاکستان یا ميثاق لاہور کہاں ہے، تو میرا جواب ہوگا: ’لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں ایوان عدل میں کھڑی ہوئی پولیس بکتر بند اور اس پر ایستادہ احتجاجی وکیلوں پر ’وٹے‘ زنی کرتا کا کا سپاہی میثاق لاہور ہے‘ چودھری پرویز الہی میثاق لاہور ہے اور پرویز مشرف قرارداد پاکستان ہے۔ وہ ميثاق کہ جس کے تمام وعدے پہلے دن سے آج تک وفا نہ ہوئے۔ ’جناح سے ضیاء تک‘ سب کے سب اس کے وعدوں سے مکر گئے۔ سیاسی بیوفائیوں کا ملک کہ جو اب ساٹھ سال کا ہونے کو ہے۔ محمد حنیف نے اس ملک کی پچاسویں سالگرہ یا ’گولڈن جوبلی‘ کے موقع پر لکھا تھا: ’اگر پاکستان کوئی آدمی ہوتا تو پچاس سال کی عمر ہونے تک ہوش کے ناخن ضرور لے چکا ہوتا‘۔ تمام پانچوں صوبوں (جن کے لیے لفظ ’سٹیٹس‘ استعمال کیا گيا تھا) کے رضاکارانہ الحاق کو ہی انیس سو چالیس کی قرارداد کی بنیاد بنایا گیا تھا لیکن اسی کا مطالبہ کرنے والوں تک کو اس ملک کا باغی اور غدار ٹھہرایا گیا۔ پاکستان کے حکمران اور اصلی تے وڈے چودھریوں اور چاچوں ماموں کو ان کا ملک سے کیا ہوا عہد یاد دلانے والے لوگ قابل تعزیز ٹھہرائے گئے۔ خان عبد الغفار خان، جی۔ایم سید، میاں افتخارالدین، شیخ مجیب الرحمان، غوث بخش بزنجو، عطاءاللہ مینگل، خان عبدالولی خان، خیر بخش مری، عبدالصمد اچکزئي نسل در نسل غدار کہلاتے رہے اور جو بدیسی بیٹھکی حکمرانوں کے غلام ابنِ غلام اور ٹوڈی تھے وہ محبان وطن و محافظان ملت بتائے گئے۔ سروں، سردار بہادروں اور خان بہادروں کے بچے صدر پاکستان ہونے کا حلف اٹھانے لگے۔ سبی کےمیلے میں حاکموں کی بگھیاں جن لوگوں نےگھوڑے بن کر کھینچی تھیں وہ پاکستان کی قسمت کی ٹرین چلانے لگے۔ یعنی کہ پاکستان کیا بنا تاریخ کی الٹی گنگا بہہ نکلی۔ وہ بھی ہیں جو ہندوؤں کی ملکیتوں پر دھاوا بولنے کے لیے پہلے ’مسلم نیشنل گارڈز‘ بنے اور بعد میں قائد اعظم کے آخری ساتھی بن کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ چور الٹے کوتوالوں کو ڈانٹتے پھرنے لگے۔ کچھ روز قبل کے مناظر میں، پہلے باوردی صدر اور ان کے سامنے با ادب چیف جسٹس اور پھر چیف جسٹس اور انہیں بالوں سے کھینچنے والی پولیس، پاکستان کا یہ ’سافٹ امیج‘ بھی دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ یہ الٹے چوروں کی ریاست نہ ہوئی تو کیا ہوئی۔
کچھ عرصہ قبل بدین - حیدرآباد ریلوے لائن پر رات کو ایک پیسنجر ٹرین چلا کرتی تھی اسے مقامی لوگ کہتے ہی ’چوروں والی ٹرین‘ تھے۔ وہ یوں کہ ٹرین آدھی رات بدین سے نکلتی تھی اور پو پھٹنے سے بہت پہلے واپس بدین پہنچ جاتی تھی۔ اس ٹرین پر آس پاس کے چور بھی سوار ہوتے جو علاقے میں چوریاں کرکے پھر اسی ٹرین میں واپس اپنے ٹھکانوں کو جا اترتے تھے۔ آدھی رات کو وجود میں آنے والے پاکستان کے ہر دور کے حمکران بھی ایک ایسی ٹرین پر سوار ہیں۔ ’چوری چوروں نے کی لیکن ٹھاٹھ پولیس والوں کے ہوئے‘۔ ایک تارک وطن محنت کش پاکستانی نے مجھ سے کہا۔ برصغیر کی سندھ اسمبلی میں سب سے پہلی پاکستان کی قرارداد پیش کرکے منظور کروانے والے جی ایم سید کا انتقال بھی بینظیر بھٹو اور ان کے وزیر اعلی عبداللہ شاہ ہی کے دنوں میں قید کے دوران ہوا تھا۔ جی ایم سید پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا، ان پر پاکستان توڑنے کی سازش کا الزام تھا، جس کی سزا موت بھی ہو سکتی تھی۔ جی ایم سید عدالت میں حاضر ہو کر بڑے شوق سے اقبال جرم کرنے کو ہروقت بے چین تھے اور حکومت تھی کہ انہیں ایک دن بھی عدالت میں پیش کرنے پر تیار نہ ہو پائی۔ جج انہیں عدالت میں نہ آنے کے خفیہ پیغامات بھیجتے تھے۔ اس ملک میں نہ تو غفار خان کو کسی عدالت میں پیش کیا گيا اور نہ ہی جی ایم سید کو، جب کہ ساری عمر آزادی کے یہ سپاہی غداری اور بغاوتوں کے الزامات سہتے رہے۔ ایسی ہی دشنام طرازی کے حوالے سے حبیب جالب نے غفار خان کیلیے کہا تھا: ’انگریز کی اولاد پریشان ہے بابا‘
اس کے علاوہ انگریزوں کے عہد میں پھانسی پاکر بے نام اور کسی گمنام جگہ پر دفن ہونے والے پیر پگاڑو صبغت اللہ شاہ کے دفن ہونے کے مقام کو تلاش کرنے کی کوشش کسی حکومت نے کی اور نہ ہی خود ان کے بیٹے پیر پگاڑو نے۔ پیر پگاڑو کے مخالف تو یہ افواہیں بھی اڑاتے ہیں کہ موجودہ پیر پگاڑو (جنہیں انگریز حکام اپنے بھائي سمیت بچپن میں جلاوطن کر کے اپنے ساتھ برطانیہ لے گئے تھے) اصلی نہیں ہیں ان کی جگہ اور بچوں کو بھیجا گیا ہے؟ پیر پگاڑو کےدفاع کے وکیل محمد علی جناح تھے جنہوں نے ایک دو پیشیوں کے بعد ان کے بریفس یہ کہہ کر واپس کردیے تھے کہ انگریز انہیں پھانسی دینے کی ٹھانے بیٹھے تھے۔ لیکن جناح صاحب جو ایک دن بھی جیل نہیں گئے، پھر بھی پاکستان، بقول شخصے، انہوں نے ایک بڑے ذہین وکیل کی طرح کیس جیت کر حاصل کرلیا۔ وہی پاکستان جس کی نوجوانی کے دنوں میں کسی بزرگ شاعر نے کہا تھا: ’قائد اعظم کا پاکستان دیکھ‘ قائد اعظم کا پاکستان، جسے اس کے جوبن کے دنوں میں ہی غریب اور بے رسا عوام نے ’رشوت علی‘ اور ’سفارش علی‘ کا پاکستان کہا۔ جو اب ترقی کی منازل طے کرتا ہوا فوجی شہنشاہیت کا پاکستان ہے۔ آئي ایس آئي کے سیاسی سیل کا پاکستان ہے۔ ملا، مولوی، جنونی اور جہادیوں کا پاکستان ہے۔ لاپتہ شہریوں کا پاکستان ہے۔ جن کا کیس سننے والے چیف جسٹس کی بھی تقریباً وہی درگت بنائي گئي ہے جو اختر مینگل کی بنائي گئي تھی۔ رہی پاکستان کی قرار داد تو اب صرف یادگار پاکستان کی سنگ مرمر کی سلوں تک باقی اور پائندہ ہے۔ |
اسی بارے میں ’خالی تانگہ آ گیا کچہریوں‘08 December, 2006 | قلم اور کالم حسبہ قانون ۔ فانے کا پتلا سِرا18 November, 2006 | قلم اور کالم گمنام سپاہیوں کا نوحہ12 November, 2006 | قلم اور کالم امریکی پولنگ پر ایک دن08 November, 2006 | قلم اور کالم اسماعیل خیل کا گونگا پانی27 October, 2006 | قلم اور کالم ’امریکی کانگریس کے دس نمبری‘27 October, 2006 | قلم اور کالم آئی ایس آئی کی تاریخ اور کردار28 September, 2006 | قلم اور کالم کشمیر: ’آزاد یا مقبوضہ؟‘ 22 September, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||