آئی ایس آئی کی تاریخ اور کردار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ اور آپبارہ کے درمیاں سفر کرتے ہوئے آپ کو لال اینٹوں کی ایک پراسرار سی عمارت دکھائی دے گی۔ یہ لال قلعے جیسی عمارت پاکستان کی ایک نہایت ہی طاقتور خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انیٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کا صدر دفتر ہے۔ آئی ایس آئی کو پاکستان میں کئي لوگ ’ریاست کے اندر ریاست‘ کئی ’اصل اور ان دیکھی حکومت‘ تو کئی ملک کی اندورنی سلامتی اور بیرونی خطرات سے نبردآزمائي کےلیئے کان اور آنکھیں قرار دیتے ہیں۔ ’شش بڑا بھائی دیکھ رہا ہے‘، میں جب بھی وہاں سے گزرا تو مجھے جارج آرویل کا ناول ’نائن ٹین ایٹی فور‘ یاد آگیا۔ آئی ایس آئی کو بہت سے ناقدین اور متعرفین بیک وقت امریکی سی آئی آے، برطانیہ کی ایم آئی فائيو یا ایم آئی سِکس، سابق سوویت یونین کی کے جی بی اور اسرائیل کی موساد سے برابر قرار دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے دریائے سندھ کی تہہ میں دومچھلیوں کے لڑنے سے لے کر بینظیر بھٹو کی شادی، پاکستان میں حکومتوں کو تاش کے پتوں کے گھر کی طرح جوڑنے اور گرانے، وزاءِ اعظموں کو برطرف کرنے سے لے کر فرقہ ورارانہ اور لسانی خونریزیوں گلبدین حکمت یار سے لے کر الطاف حسین تک کو منظرعام پر لانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ برطانوی محکمہ دفاع کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں آئي ایس آئی پرالقاعدہ اور طالبان انتہا پسندوں کی حمایت کے الزمات پر اپنی ایک رپورٹ میں آئی ایس آئی کوتوڑنے کی سفارش کی ہے۔ یہ رپورٹ بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ پر نشر کی گئی تھی۔ اسی پروگرام میں پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف نےاس برطانوی رپورٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی جنگ میں القاعدہ کے سینکڑں مبینہ دہشتگرد پکڑنے کا سہرا آئی ایس آئی سر باندھا ہے۔ جبکہ بہت سے ممالک آئی ایس آئی کو القاعدہ اور طالبان کا ہمدرد اور حامی اور ان کے دعوؤں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے پاکستان کے دو سابق لیکن جلاوطن وزرائے اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے ’میثاق جمہوریت‘ میں بھی آئی ایس آئی کے سیاسی سیل کو ختم کرنے کی شق شامل ہے۔ یہ اور بات ہے کہ نواز شریف کو سیاست میں لانے والے ضیا ءالحق حکومت میں آئي ایس آئی کے سربراہ جنرل جیلانی ہی تھے۔ آئی ایس آئی اپنے ہم عصر ہندوستانی جاسوسی ادارے کو کئی گنا اور کئی سال پیچھے چھوڑ گئي ہے۔ اب تو آئي ایس آئی کے انڈر کور پاکستانی سفارتی عہدے دار اپنی سرگرمیاں یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ تک پھیلا چکے ہیں۔ آئی ایس آئی کا اصل کام تینوں مسلح افواج میں ملک کے اندر جاسوسی اور بیرون ملک کاؤنٹر جاسوسی کرنا ہے۔ اسے پاکستان آرمی کے آسٹریلوی نژاد ڈپٹی چیف آف اسٹاف میجر جنرل آر کیتھوم نے انیس سو اڑتالیس میں قائم کیا تھا۔ کشمیر میں جاسوسی اور کاؤنٹر جاسوسی بھی آئی ایس آئی کے فرائض میں شامل تھی اور کہتے ہیں کہ انیس سو پچاس کے عشرے میں اسی نے انڈیا کے شمال مشرق میں دراندازوں کو بھیجنے میں مدد کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آئی ایس آئی بلوچستان میں فوجی کارروائی کے دوران اور بلوچ قوم پرستوں اور ان کے حامیوں کے خلاف نہایت ہی سرگرم رہی جس میں ان کی گمشدگیاں اور ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ لیکن بھٹو نے اپنے پیشرو ایوب خان کی طرح سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کیلیے ناصرف آئی ایس آئی سے کام لیا بلکہ اسے اپنے وزیروں اور پارٹی ساتھیوں اور یہاں تک کہ ان کے بیڈ رومز میں بھی ان کی جنسی سرگرمیوں پر بھی جاسوسی کرنے کے لیئے استعمال کیا۔ وہ بھٹو کی ہی آئی ایس آئی کے جنرل جیلانی تھے جو ان کے تختہ الٹنے سے پہلے اپنے وزیر اعظم کی سرگرمیوں اور منصوبوں سے ضیاءالحق کو پیشگی آگاہ کرتے رہے تھے۔ ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جنرل جیلانی کو اپنے عہدے پر برقرار رکھا۔ بعد میں جنرل جیلانی کو پنجاب کا گورنر مقرر کیا۔ آجکے نواز شریف بھی جنرل جیلانی کی سیاسی پیداوار ہیں جنہوں نے شریف خاندان کے اس نوجوان کا ہاتھ مانگا اور انہیں پنجاب کا وزیر خزانہ بنوایا۔ آج کی آئی ایس آئي کے صحیح معنوں میں تشکیل جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں ہوئی جب انہوں نے جنرل اختر عبدالرحمان کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا اور اس کے سیاسی شعبے کو جنرل حمید گل کے سربراہی میں مزید ’فعال‘ بنایا- جنرل ضیاء کے دنوں میں آئي ایس آئی کا سیاسی شعبہ ضیاء مخالف گروپوں اور افراد کے پیچھے لگ گیا تھا۔ میجر جنرل تجمل کی سربراہی میں انکے بھائي بھتیجوں اور کئي سینئر فوجی افسروں کی ضیاء الحق کا تختہ الٹے جانے کی سازش میں گرفتاریاں، سندھ میں کیمونسٹ طالبعلم رہنما نذیر عباسی کی ہلاکت اور جام ساقی سمیت اس کے ساتھیوں کی گرفتاریاں، مبینہ طور شاہنواز بھٹو کا جنوبی فرانس میں قتل، ضیاء مخالف شیعہ تنظیموں، کارکنوں، علماء اور رہنماؤں کی جاسوسی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کو منظم کرنا اور مسلح کرنا اسی آئی ایس آئی کا کارستانیاں ہیں۔ خاص طور پر ضیاء سب سے بڑی مخالف پیپلز پارٹی اور الذوالفقار کے پیچھے آئی ایس آئی ’آدم بو آدم بو‘ کرکے لگي ہوئي تھی۔ آئي ایس آئی نے انیس سو اسی کے عشرے میں اندراگاندھی حکومت کے خلاف پاکستان میں سکھ جنگجوؤں کے لیئے تربیتی کیمپ بھی قائم کیے۔ جنرل جیلانی کے دنوں میں آئی ایس آئی سندھ میں ہر اس ہندو کو دوہزار روپے ماہانہ ادا کرتی تھی جو ہندو مذہب ترک کرکے سکھ پنتھ اختیار کرتےتھے اور انہیں کی سربراہی میں ہندوؤں کے مندروں پر زبردستی قبضہ کرکے انہیں گردواروں میں تبدیل کروا دیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ شمالی سندھ کے اکثر ہندو شروع سے ہی بیک وقت ہندو اور سکھ مذہب کے ماننے والے ہوتے ہیں۔ لیکن سنہ انیس سو اناسی میں جنرل اختر عبدالرحمان کے آئي ایس آئی کے سربراہ بننے کے اورافغانستان میں سابقہ سوویت یونین کے فوجی مداخلت نے اس جاسوسی تنظیم کی ہیئت ہی تبدیل کرکے رکھ دی۔ آئی ایس آئی کے ہمددر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس تنظیم نے روسی فوجوں کو (لیکن امریکی امداد و حمایت سے) شکست دی تھی۔ لیکن اسی افغان جنگ میں آئی ایس آئی نے جس بھی چیز کو ہاتھ لگایا وہ اس کے لیے سونا بن گئی۔ افغانستان میں امریکی سی آئی اے اور سعودی انٹیلیجنس کی مدد سے افغان مزاحمت کاروں میں مالی امداد اسلحہ اور تربیت پاکستان سے آئی ایس آئی کے تواسط سے کی گئی جس سے جہاں آئي ایس آئي نے ہزاروں گوریلے تیار کیے وہاں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں اور پیسوں کی خرد برد بھی کی۔ امریکی صحافی میری این وویر نے فروری انیس سو نناوے میں ’اسامہ بن لادن‘ پر لکھے ہوئے اپنے پروفائیل میں کہا ہے کہ انیس سو اٹھانوے میں خوست میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانوں پر امریکی ٹام ہاک میزائیلوں سے حملوں کے نتیجے میں مبینہ طور آئی ایس آئی کے پانچ عملدار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ عملدار وہاں عسکریت پنسدوں کو کیمپوں میں تربیت دے رہے تھے۔ | اسی بارے میں اسامہ بن لادن اور برطانوی انٹیلیجنس 26 July, 2005 | قلم اور کالم انٹیلیجنس کے تبادلے پر اتفاق06 June, 2006 | پاکستان ’فوجی نصب العین سے انحراف‘22 September, 2006 | پاکستان ’شاید وہ سچ نہیں بول رہے‘25 September, 2006 | پاکستان ’دفاع کے لیئے کتاب سکیورٹی رسک ہے‘27 September, 2006 | پاکستان ’آئی ایس آئی نے سرد جنگ جیتی‘28 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||