BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خالی تانگہ آ گیا کچہریوں‘

فضل الرحمٰن
فضل الرحمٰن تو خیر پہلے ہی سے حجتوں کی ایک فہرست پیش کر چکے تھے
کوئی تین ہفتے سے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں بحث جاری تھی کہ متحدہ مجلسِ عمل اپنے بلند آہنگ دعوؤں کے مطابق چھ دسمبر کو اسمبلیوں سے مستعفی ہو گی یا نہیں۔ بالآخر جمعرات کو مجلس کے دو روزہ طویل اجلاس کے بعد واضح ہو گیا کہ سجن شکارے جائیں گے اور نین مریں روئیں گے۔ استعفوں کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

جمیعت علمائے اسلام کے فضل الرحمٰن تو خیر پہلے ہی سے حجتوں کی ایک فہرست پیش کر چکے تھے۔ مثال کے طور پر عورتوں اور اقلیتیوں کے لیے مخصوص نشستیں خالی نہ چھوڑنے کا عندیہ دیا جا چکا تھا۔ سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود رہنے کا دروازہ بھی کھلا رکھاگیا۔ جواز یہ کہ ایسا کرنے سے ملک میں بحران پیدا ہو جائے گا۔ گویا قومی اسمبلی سے استعفے دینے سے حکومت کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔

فضل الرحمٰن کا ڈھنگ کچھ یوں تھا کہ اب بھی کوئی منا لے تو بگڑی نہیں ہے بات۔ دلچسپ ترین دلیل یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بےنظیر نے بھی استعفے نہ دینے کی سفارش کی ہے۔ پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ میں تحفظ حقوقِ نسواں بل کی کھلی حمایت کی تھی جس کے خلاف احتجاج کا یہ سب کھٹراگ کھڑا کیا گیا ہے۔

حسب توقع اردو اخبارات میں کوئی درجن بھر کالم ایسے شائع ہو چکے جن میں اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ حدود میں ترمیمی بل متعارف کرانے سے گلی کوچوں میں زنا کا لفظ اچھالا جا رہا ہے اور بے راہ روی پیدا ہورہی ہے۔ گویا فروری 1979میں حدود قوانین نافذ کرنے سے لوگ زنا کا لفظ بھول گئے تھے۔

اس دلیل پر اعتراض کی گنجائش کم ہی ہے کہ خود اس مسودہ قانون کے حوالے سے حکومت کے عزائم زیادہ شفاف نہیں۔ صدر پرویز کو امتیازی قوانین کی ایسی ہی فکر تھی تو یہ کام ان کے اقتدار کے ابتدائی برسوں میں کہیں آسانی سے کیا جا سکتا تھا جب وہ مطلق اختیارات کے مالک تھے اور عوام ان کے کسی اقدام کے خلاف دم مارنے کی مجال نہیں رکھتے تھے۔ یہ تو ستمبر 2001 کے بعد مغربی دنیا کو احساس ہوا ہے کہ امتیازی قوانین بالآخر کسی معاشرے کو انتہا پسندی کی طرف لے جاتے ہیں۔

سوویت قبضے کے خلاف جہاد کے دنوں میں قاضی کا طوطی بولتا تھا

بہرصورت حدود کا ترمیمی بل بذات خود ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے ملک کی ہزاروں عورتوں کو بدترین ناانصافی کی کچھ صورتوں سے نجات ملے گی۔ پولیس کا یہ اختیار جاتا رہا کہ زنا بالجبر کی شکایت لے کر تھانے میں آنے والی مظلوم خاتون کو اعتراف زنا کے جرم میں دھر لیا جائے۔ زنا بالجبر کی شکایت کرنے والی خاتون کو چار کی بجائے دو گواہ پیش کرنا ہوں گے۔ اسی طرح جج کو صوابدیدی اختیار ہو گا کہ زنا بالرضا کی صورت میں حدود کی بجائے تعزیر کا قانون منطبق کرے۔ البتہ گواہی کے ضمن میں عورتوں اور غیر مسلم گواہوں کے بارے میں امتیاز قائم رکھا گیا ہے۔

حدود قوانین یا ان کی ترمیمی صورت کے اسلام سے ہم آہنگ یا منافی ہونے کے بارے میں بھی خاصی گرد اڑائی گئی ہے۔ حالانکہ1979 میں نافذ کیے جانے والے حدود قوانین کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے طویل مدت تک رکن رہنے والے ماہر قانون سید افضل حیدر کی گواہی خاصا وزن رکھتی ہے۔ سید افضل حیدر اپنی کتاب ’اسلامی نظریاتی کونسل: ارتقا اور کارکردگی‘ میں بیان کرتے ہیں کہ پاکستان میں نافذ ہونے والے حدود قوانین کا مسودہ موتمر عالمِ اسلامی کے سربراہ معروف الدوالبی نے سعودی حکومت کی خصوصی ہدایت پر عربی زبان میں تیار کیا تھا۔

خود اسلامی نظریاتی کونسل کے جسٹس چیمہ ( تب سربراہ) نے اپنی سالانہ رپورٹ 1978-79 میں تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر معروف دوالبی نے اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی تھی اور حدود قوانین کے مسودے پر کونسل کے ارکان کے اعتراضات کو ’حکامِ بالا‘ کا حوالہ دے کر رد کر دیا تھا۔

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر معروف جیسے غیر ملکی شہری کو ایک آئینی ادارے کے اجلاس کی اجازت کیسے مِلی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایرانی انقلاب سے خوفزدہ سعودی حکومت پاکستانی معاشرے میں اپنی طرز کا اسلامی نمونہ نافذ کرنے کے لیے بے چین ہو رہی تھی۔

ایم ایم اے میں قاضی حسین احمد اور فضل الرحمٰن کے اختلافات کا تجزیہ زیادہ مشکل نہیں۔ سوویت قبضے کے خلاف جہاد کے دنوں میں قاضی کا طوطی بولتا تھا۔ حکمت یار جیسے جہادیوں سے ان کے گہرے تعلقات تھے۔ پھر وقت نے کروٹ لی اور طالبان حکومت میں دیوبندی مدرسوں کے فارغ التحصیل طالبعلوں کی اکثریت کے بل پر فضل الرحمٰن کی بن آئی۔

تین واضح نکات
 قاضی حسین احمد اب مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ نواز شریف کی صدر پرویز مشرف کے ساتھ مصالحت کا کوئی امکان نہیں۔اور تیسرا یہ کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی کوئی صورت گجرات کے چوہدری برادران کے لیے سیاسی خود کشی کے مترادف ہو گی۔

پشاور کے تجزیہ نگار محمد رضا کے مطابق 2002 میں ایم ایم اے کو ملنے والا ووٹ مذہبی ہونے سے زیادہ پشتون ووٹ تھا۔ انتخابی نتائج سے معلوم ہوا کہ ایم ایم اے کی انتخابی کامیابی تو دراصل جے یو آئی کی کامیابی تھی۔ انتخابی سطح پر غیر مؤثر آواز رکھنے والی جماعت اسلامی کو جمہوری سیاست میں اپنے امکانات مسدود نظر آنے لگے۔ یہیں سے قاضی حسین زیادہ شعلہ بیان ہوتے گئے۔ قاضی حسین احمد سڑکوں پر نکل کر نعرے کی سیاست کرنے کے خواہش مند ہیں جب کہ فضل الرحمٰن سمجھتے ہیں کہ عوام کی موہوم مذہبی جذباتیت پر بھروسہ کرتے ہوئے دو صوبوں میں حکومت، قومی اسمبلی اور سینٹ میں معتدبہ موجودگی نیز پارلیمانی حزبِ اختلاف کی قیادت سے ہاتھ کیوں دھوئے جائیں۔ قاضی صاحب شہری متوسط طبقے نیز طالبعلموں کے بل پر سڑکوں پر ملین مارچ نکالنا چاہتے ہیں جب کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنے آزمودہ انتخابی مراکز کے بل پر جوڑ توڑ کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ حافظ حسین احمد کا جمیعت علمائے اسلام سے خارج کیا جانا معمولی واقعہ نہیں۔

تحفظ حقوقِ نسواں بل کے حوالے سے سرکاری حلقوں کی صورت حال بھی دِلچسپی سے خالی نہیں۔ سرکاری مسلم لیگ نے خاصے پس و پیش کے بعد مسودہ قانون کی حمایت تو کر دی مگر رائے شماری کے موقع پر اس کے چھیالیس ارکان قومی اسمبلی سے غیرحاضر پائے گئے۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ شجاعت حسین کی ان حلقوں سے شیفتگی کوئی راز نہیں جنہیں وہ علمائے کرام قرار دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی تحریک نے تحفظ حقوقِ نسواں بل کی بھرپور حمایت کی مگر صدر پرویز مشرف جب عوامی اجتماعات میں عوام کو انتہا پسند حلقوں کی مخالفت پر اکساتے ہیں تو یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کیا وہ پیپلز پارٹی کو بھی روشن خیالی کی سند عطا کرنے پر تیار ہیں یا نہیں۔

اس الجھی ہوئی صورت حال میں تین نکات بہر صورت واضح ہیں۔ قاضی حسین احمد اب مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ نواز شریف کی صدر پرویز مشرف کے ساتھ مصالحت کا کوئی امکان نہیں۔اور تیسرا یہ کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی کوئی صورت گجرات کے چوہدری برادران کے لیے سیاسی خود کشی کے مترادف ہو گی۔

مذہبی سیاست کے دیرینہ محرم تنویر افضال کا تجزیہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں مولانا فضل الرحمٰن چوہدری شجاعت کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے اور قاضی صاحب کا ہاتھ نواز شریف کے ہاتھوں میں ہو گا۔ حالات میں کوئی غیر معمولی اور اچانک تبدیلی واقع نہیں ہوتی تو پیپلز پارٹی ایک سو سے اوپر نشستیں تو شاید جیت لے مگر اس کی پارلیمانی طاقت سے صدر پرویز مشرف کو کوئی خاص خدشہ نہیں ہو گا۔ مزید یہ کہ مذہبی قوتوں کے انتشار سے مغرب کی تالیف قلب کا انتظام بھی ہو جائے گا۔ چت بھی میری ہے پٹ بھی میری ہے، میں کہاں ہار ماننے والا۔

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔)

فانے کا پتلا سِرا
حسبہ بل: شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت
اخباری اشتہاراین جی اوز کا قصور
مذہبی عناصر مخالف کیوں؟ وجاہت مسعود
ثقافت کا الجھا سوال
موسیقی، رقص قانون کی زد میں: وجاہت مسعود
قاناقانا:قہر کے انگور
یہ بھونڈا مذاق اسرائیلی فوج ہی کر سکتی ہے
کیا ہو سکتا ہے؟
’میثاقِ جمہوریت‘ وجاہت مسعود کا جائزہ
اسی بارے میں
اک نا ممکن خواب کا خواب
24 March, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد