BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 July, 2006, 23:26 GMT 04:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قانا میں قہر کے انگور

قانا میں تباہی
لبنان کے جنوب مشرق میں واقع قصبے طائر کے گاؤں قانا کے باغات میں قہر کے انگور پھر سے اُُگ رہے ہیں۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایک بجے اس گاؤں میں دو تین منزلہ عمارات پر بمباری میں ساٹھ شہری ہلاک ہوئےجن میں دوتہائی تعداد بچوں کی تھی۔ ان افراد نے بمباری سے بچنے کے لیے تہہ خانے میں پناہ لے رکھی تھی۔

اسرائیلی فوج نے ٹھیک دس برس پہلے اٹھارہ اپریل 1996 کو اسی گاؤ ں میں اقوامِ متحدہ کی پناہ گاہ پر فضائی حملہ کر کے ایک سو چھ افراد ہلاک کیے تھے۔ اس وقت اقوامِ متحدہ کی عمارت میں قریب 800 افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ تب اس حملے کو فوجی اصطلاح میں ’قہر کے انگور‘ قرار دیا گیا تھا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ قہر کے انگوروں کی یہ اصطلاح نوبل انعام یافتہ امریکی مصنف جان سٹین بیک کے ناول Grapes of Wrath سے مستعار لی گئی تھی۔ 1939 میں چھپنے والے اس ناول میں کساد بازاری، قحط سالی اور استحصالی سرمایہ داری کا شکار ہونے والے امریکی خاندانوں کی حالت زار بیان کی گئی تھی۔

1940 کے کیلیفورنیا اور سنہ 2006 کے لبنان میں ایک فرق یہ ہے کہ لبنان قدرتی آفت نہیں ریاستوں کی ستیزہ کاری اور آگ اگلتی فوجوں کی چیرہ دستی کا شکار ہوا ہے۔ البتہ ایک قدر مشترک ہے۔ بنیادی کھیل یہاں بھی طاقت اور سرمائے کا ہے۔ کشور کشائی کی ہوس حزب اللہ میں ہو یا اسرائیل میں، لبنان کے پھول مرجھا رہے ہیں۔ اپنی ظالمانہ کارروائی کو ایک امن پسند اور انسان دوست ادیب کے شاہکار ناول کا عنوان دینا وہ بھونڈا مذاق ہے جو اسرائیلی فوج ہی کرسکتی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم اور کچھ وزراء نے غیرمسلح شہریوں اور معصوم بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا رسمی اظہار تو کیا ہے لیکن یہ تکمہ بھی ٹانک دیا ہے کہ قانا کے باسیوں کو اڑتالیس گھنٹے پہلے گاؤں خالی کرنے کا حکم دیا جاچکا تھا۔ جنگ میں ملوث ریاستیں اور طاقتیں اس قسم کی کہہ مکرنیاں پیش کرتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش کردیتی ہیں کہ دنیا میں بہت سے لوگ تو عام حالات میں بھی نقل مکانی کے وسائل سے محروم ہوتے ہیں۔ جنگ تو معمولاتِ زندگی کے درہم برہم ہونے کا نام ہے۔ کچھ کے پاس گاڑیاں نہیں ہیں اور جن کے پاس گاڑیاں ہیں اُن میں پٹرول نہیں ہے۔ آسمان سے برستی بے محابا آگ میں سڑکیں بھی تو محفوظ نہیں ہے۔ اور یہ لوگ کس امید پر قانا چھوڑ کر طائر منتقل ہوجائیں۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جنگ کے شعلے طائر کے قصبے تک نہیں پہنچیں گے۔

حزب اللہ گوریلا لڑائی لڑ رہی ہے۔ واضح بات ہے کہ حزب اللہ روایتی لڑائی میں اسرائیل کی منظم فوج کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ ویت نام ہو یا افغانستان، گوریلا لڑائی لڑنے والے گروہ قدرتی طور پر غیر روایتی مقامات کو اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں۔ مثلاً ہسپتال، عبادت گاہیں اور گنجان آبادی والے گلی کوچے۔ متحارب فوج ان مقامات سے صرفِ نظر کرے تو گوریلا فوج کو اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا موقع ہاتھ آتا ہے۔ اور اگر ان پر حملہ ہو تو عام شہری ہلاک ہوتے ہیں جس سے گوریلا گروہوں اور اُن کی پشت پناہی کرنے والوں کو لاشوں کی سیاست کرنے کا بہانہ ہاتھ آتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حزب اللہ گوریلے ان مقامات سے راکٹ فائر کرتے ہیں۔ تین ہفتے کی لڑائی میں اسرائیل پر پندرہ سو سے زیادہ راکٹ پھینکے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کو راکٹ پھینکنے کے مقام کی نشاندہی اور وہاں جوابی کارروائی کرنے میں دس سے پندرہ منٹ لگتے ہیں ۔ حزب اللہ کے تربیت یافتہ لوگوں کو موقع سے فرار ہونے کے لیے یہ وقفہ کافی ہوتا ہے۔ بوڑھے ماں باپ اور ننھے بچوں کے ساتھ سر چھپائے بیٹھے شہری تو کہیں نہیں جاسکتے۔ سو وہ مارے جاتے ہیں۔ حدیثِ درد بجز قتلِ محض کچھ بھی نہیں۔

اب عالمی ردّ عمل دیکھیے۔ محترم امریکی صدر نے اپنے سات سالہ اقتدار میں شاید پہلی بار ایسے کسی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ اس میں بھی وہ ایک مذہبی دعا سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ جدید سیاست میں مذہبی اصطلاحات کی دخل اندازی پارسائی کا کوئی درجہ نہیں بلکہ انسانی افعال کو غیر مرئی اسباب کے سرمنڈھنے کی کوشش ہے۔ لبنانی وزیراعظم اور کوفی عنان صاحب کے ایما پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ فرانس نے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی مگر اس ساری کارروائی کا نتیجہ افسوس کے رسمی اظہار سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ نہ تو جنگ بندی کی قرار داد منظور ہوئی اور نہ اسرائیل کی مذمت کی گئی۔ حزب اللہ سے اغوا شدہ اسرائیلی فوجی رہا کرنے کا مطالبہ ہو سکا اور نہ یہ سوال اُٹھایا گیا کہ حزب اللہ جیسے ماورائے ریاست گروہ کو مہلک ہتھیار فراہم کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اس ستم رانی کے لیے مزید دو ہفتے کی مہلت مانگی ہے۔ تصادم کی زمینی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے تو دو ہفتوں میں حزب اللہ کا صفایا ممکن نظرنہیں آتا۔ دنیا بھر کی ریاستیں بظاہر راضی برضا نظر آتی ہیں۔ میڈیا میں بڑھتے ہوئے قتل و غارت پر زور و شور سے بحث ہورہی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ابھی لڑائی کے مجوزہ مقاصد پورے نہیں ہوئے۔ سرو کے درختوں سے منسوب لبنان کے قصبوں میں قہر کے انگور نچوڑے جاتے رہیں گے۔ اشکوں سے ابھی ضبط کا پشتہ نہیں ٹوٹا۔

لبنانلبنان: الجھا نقشہ
آگ اور خون کا کھیل پھر سے لوٹ آیا ہے
تباہی کی تصویر
دمشق سے بیروت تک وسعت اللہ نے کیا دیکھا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد