BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 August, 2006, 18:57 GMT 23:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
این جی اوز نے کیا بگاڑا ہے؟

اشتہار
صوبہ سرحد کے علاقوں ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں کہا جاتا ہے کہ مذہب پسندوں کی اکثریت ہے
صوبہ سرحد کے علاقوں ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے بعد اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی غیرملکی امدادی تنظیموں کے خلاف مذہبی جماعتوں اور جہادی گروہوں کی مہم شروع ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ ادارے تمام مقامی خواتین کو ملازمتوں سے فارغ کردیں ورنہ انہیں علاقہ بدر کر دیا جائے گا۔ ان امدادی تنظیموں پر ’بے حیائی‘ پھیلانے نیز اخلاقی اقدار اور مقامی سماجی روایات کو پامال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں اکتوبر 2005 کے زلزلے کو قریب ایک برس گزر چکا ہے۔ توقعات کے عین مطابق ابتدائی ہفتوں کے جذباتی ردعمل کے بعد سے حکومتی کارکردگی معمول کی سطح اختیار کرچکی ہے۔ صدر پرویز مشرف گزشتہ چھ مہینوں میں متعدد مرتبہ قوم سے مخاطب کیا مگر انہوں نے ایک دفعہ بھی زلزلہ متاثرین کی بحالی کا ذکر تک کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ زلزلے کے بعد پیش کیے جانے والے پہلے بجٹ میں بھی زلزلہ زدگان کے لیے کسی اہم اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دوسرے لفظوں میں 80 ہزار افراد کی ہلاکت، لاکھوں زخمیوں اور بےگھر ہونے والوں کی ناقابلِ تصور تباہی کو کسی معمولی واقعے کی طرح فراموش کردیا گیا ہے۔ البتہ دنیا بھر سے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے پہنچنے والے سینکڑوں کارکن ابھی تک ان علاقوں میں موجود ہیں۔ مختلف ممالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے ان رضاکاروں نے انسانی ہمدردی کی بنیادی پر زلزلے کے ہاتھوں برباد ہونے والوں کی مثالی خدمت کی ہے۔

قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں زندگی تیزی سے پرانی ڈگر پہ لوٹ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں باٹاگرام سے انسانی حقوق کے معروف کارکن صابر شمیم نے دو تراشے بھجوائے ۔ان میں سے ایک اخباری اشتہار تھا اور ایک اخباری خبر۔ کسی مہذب ملک کے ذرائع ابلاغ میں ایسی بے سر و پا تحریریں اشتعال انگیزی اور ہتکِ عزت کے زمرے میں آتی ہیں۔ )اشتہار کا عکس ملاحظہ فرمایئے۔(

یہ اشتہار ’تحریکِ اصلاحِ معاشرہ‘ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ یہ نکتہ دلچسپ ہے کہ سنہ88 سے سنہ 99 تک جب سیاسی حکومتوں کو گرانا یا کمزور کرنا مقصود ہوتا تھا تو اخبارات میں اشتہاری مہم ’تحریکِ اصلاحِ معاشرہ‘ ہی کے نام سے چلائی جاتی تھی۔ مسلم لیگ )نواز( اور پیپلز پارٹی ایک سے زیادہ مرتبہ اس ’تحریک‘ کی اصلاح سے مستفید ہوچکی ہیں۔

دنیا بھر میں حکومتیں پاکستان جانے والے شہریوں کے لیے ہدایات جاری کرتی ہیں جن میں لباس اور معاشرتی معمولات پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ مغربی شہری خود اپنے تحفظ کے نکتہ نظر سے ان ہدایات کی پابندی کرتے ہیں۔ خواتین شلوار قمیص پہنتی ہیں بلکہ کچھ کو تو دوپٹہ اوڑھے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ امدادی کارکنوں نے شلوار قمیص کی بجائے پتلون اور شرٹ کو ترجیح دی ہو کیونکہ بھاگ دوڑ کے کاموں کے لیے اس لباس میں عملی سہولت رہتی ہے۔

تاہم مذہبی رہنماؤں کو اصل اعتراض لباس کی تفصیلات پر نہیں ہے۔ محمد حسن عسکری نے ’ساقی‘ میں لکھا تھا کہ فحاشی تو ’وہ آئی، وہ گئی‘ میں سے بھی نکالی جاسکتی ہے۔

جن لوگوں کی نظر میں عورت کا وجود ہی فحاشی کے مترادف ہو، وہ بے بنیاد الزامات کا انبار لگانے سے نہیں گھبراتے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ پاکستانی معاشرے میں غیرت وغیرہ جیسے طعنوں سے اشتعال پھیلانا نہایت آسان ہے۔ شاید کچھ افراد کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں وہ بحث یاد ہو جو ابو الاعلی مودودی صاحب کی ’تصنیف‘ پردہ میں سکول جانے والی بچیوں کی کردار کُشی کے حوالے سے ہوئی تھی۔

لیاقت علی خان نے ان الزامات کا مُسکت جواب دیا تھا مگر وہ کتاب آج بھی قابلِ اعتراض حصوں سمیت شائع ہوتی ہے۔

اصل مقصد عوام کے جذبات سے کھیلنا، مقامی سطح پر اپنی حیثیت مضبوط کرنا، ریاستی اداروں کو بے وقعت کرنا اور معاشرے کو یرغمالی بنانا ہے۔ مالا کنڈ اور دیر کی طرح مانسہرہ بھی جہادی گروہوں کے لیے بھرتی کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پیوستہ مفادات کے حامل حلقوں کو یہ خدشہ ہوسکتا ہے کہ ان پسماندہ علاقوں کے عوام میں برسوں کی محنت سے مغرب دشمنی کے جو جذبات پیدا کیئے گئے ہیں یورپ سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنوں کی بے لوث خدمت کے نتیجے میں ان جذبات کا گراف کہیں نیچے نہ آجائے۔

مقامی روایات کی دلیل جس قدر نازک ہے اسی قدر پیچیدہ بھی ہے۔ کیا معاشرے کے تمام طبقات میں اخلاقی اقدار پر مکمل اتفاق رائے پیدا ہونا ممکن ہے؟ ابھی تک تو طالبان نما ضابطے نافذ کرنے کی مہم ملک کے دوردراز حصوں تک محدود ہے۔ جلد یا بدیر یہ لہر اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں تک بھی پہنچے گی جہاں رہن سہن، لباس اور معاشرتی اقدار میں بے پناہ تنوع پایا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں معاشرتی خلفشار کی جو صورتیں پیدا ہوں گی، ابھی ان کا ادراک بھی مشکل ہے۔

علاقہ بدر کرنے کی غیرانسانی اور پسماندہ روایت اب تک قبائلی علاقوں میں رائج تھی لیکن اب یہ رجحان واضح طور پر بندوبستی اضلاع تک پھیل رہا ہے۔ مذکورہ مہم میں این جی او میں کام کرنے والے پاکستانی مردوں اور خواتین کو ضلع بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں کسی ملکی قانون کا حوالہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

گزشتہ بیس برس میں پاکستان کے مذہبی عناصر اور نادیدہ قوتوں میں این جی اوز کی مخالفت پر اتفاق رہا ہے بلکہ سیاسی حکومتیں بھی غریب کی جوروسمجھ کر سول سوسائٹی کے پیچھے پڑی رہتی تھیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں این جی اوز پر گولہ باری کی ذمہ داری ڈاکٹر شیر افگن کے سپرد تھی۔ مسلم لیگ حکومت میں یہ منصب گجرات کے مرحوم پیر بنیامن رضوی کو حاصل تھا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق این جی اوز کے کارکنوں کو گاڑیوں سمیت نذرِ آتش کرنے کی دھمکی تک دی گئی ہے۔ ان دھمکیوں کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کا ردّ عمل دلچسپ ہے۔ ایبٹ آباد میں ضلعی انتظامیہ نے اشتعال پھیلانے والے عناصر کو قابو میں کرنے کی بجائے امدادی اداروں پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی ہے۔ صوبائی حکومت نے ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس میں مذہبیی رہنماؤں ، فوجی افسروں اور امدادی اداروں کے کارکنوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی امدادی کارکنوں کے لیے لباس کے قواعدوضوابط طے کرے گی۔ اُمید کرنی چاہیئے کہ کمیٹی کی سفارشات میں عورتوں کے لیے طالبان والا شٹل کاک برقعہ تجویز نہیں کیا جائے گا۔ ورنہ جگ ہنسائی کی نئی صورتیں پیدا ہوں گی۔

معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت روشن خیالی کے دعوؤں کے باوجود درحقیقت سیاسی اور معاشرتی ڈھانچوں سے کھلواڑ کرنے والے عناصر کے ہاتھ میں یرغمالی ہے۔

پاکستان میں زمینی صورت حال بدلے یا نہ بدلے، بہرصورت حکومت کو دنیا میں پاکستان کا نرم تاثر پیدا کرنے کی خاصی فکر ہے۔ غالب امکان ہے کہ اعتدال پسند تاثر پیدا کرنے کی ان سرکاری کوششوں کو تب بڑی تقویت ملے گی جب کٹھن حالات میں انسانی ہمدردی کے نام پر پاکستانی شہریوں کی مدد کرنے والے کارکن اپنے ملکوں میں واپس پہنچ کر سرکاری اور معاشرتی سطح پر احسان مندی اور شکرگذاری کی داستانیں بیان کریں گے۔

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں)

قاناقانا:قہر کے انگور
یہ بھونڈا مذاق اسرائیلی فوج ہی کر سکتی ہے
لبنانلبنان: الجھا نقشہ
آگ اور خون کا کھیل پھر سے لوٹ آیا ہے
ثقافت کا الجھا سوال
موسیقی، رقص قانون کی زد میں: وجاہت مسعود
کیا ہو سکتا ہے؟
’میثاقِ جمہوریت‘ وجاہت مسعود کا جائزہ
مرزا طاہر18 برس تک مقدمہ
’طاہر کی رہائی دباؤ کا نتیجہ ہوگی‘
اسی بارے میں
ایف ایم ریڈیو: فی سبیل اللہ فساد
30 March, 2006 | قلم اور کالم
اک نا ممکن خواب کا خواب
24 March, 2006 | قلم اور کالم
خبر کا جبر
04 February, 2006 | قلم اور کالم
حدود آّرڈیننس اور حقوقِ نسواں
14 December, 2005 | قلم اور کالم
’سنہ 65 کا جذبہ یا قوم کی توہین‘
22 November, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد