موسیقی اور رقص قانون کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گنٹرگراس کے ناول ’ٹِن ڈرم‘ کا افتتاحی منظر بہت دلچسپ ہے۔ سڑک سے نازی سپاہی عسکری دھنیں بجاتے ہوئے گزر رہے ہیں۔ ایک کھڑکی میں کھڑا بچہ اپنا کھلونا ڈرم بجانے لگتا ہے۔ نفرت اور حقارت کا کریہہ شور بچے کی معصوم موسیقی میں ڈوب جاتا ہے۔ انسانیت جنگ پر فتح پاتی ہے۔ افسوس کہ عام زندگی میں موسیقی ہمیشہ ایسی خوش قسمت ثابت نہیں ہوتی۔ پشاور سے خبر آئی ہے اور اِن دنوں پشاور سے اچھی خبر کم ہی آتی ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے نومبر 2005 میں موسیقی، رقص اور خواتین کی تصویروں کے بارے میں جو دو قانونی مسودے اسمبلی میں پیش کیئے تھے، اُن کی باضابطہ منظوری سے پہلے ہی اُنہیں عملی طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ پشاور اور صوبے کے دوسرے شہروں میں خدائی فوجداری کے آثار واضح نظر آ رہے ہیں اور سڑکوں پر پولیس کے زیرِ اہتمام وڈیو کیسٹوں اور سی ڈیز کے الاؤ جلائے جا رہے ہیں۔
سڑکوں پر دو رویہ لگے اشتہارات میں نسوانی چہروں پر رنگ ملا جارہا ہے۔ تجارتی اداروں سے خواتین ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور بین الاضلاعی بسوں کو زبر دستی نماز کے لیے روکا جا رہا ہے۔ ایک طرف قبائلی علاقوں میں مبینہ شرعی نظام کے لیے طالبان کی مہم زور و شور سے جاری ہے تو دوسری طرف صوبے کے بندوبستی اضلاع میں قدرے مختلف رنگ میں یہی مہم سرکاری سرپرستی میں چلائی جا رہی ہے۔ نشتر آباد (پشاور) سے انسانی حقوق کے کارکن نور الحسن آفندی کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے ویڈیو دکانوں کو فی کس دو سو سی ڈیز اور کیسٹس جمع کرانے کا پیغام دے دیا جاتا ہے۔ اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ سی ڈیز یا کیسٹس فحش ہیں یا نہیں، کارآمد ہیں یا ردی۔ وقت مقررہ پر پولیس حکام کی قیادت میں ہجوم جمع ہوتا ہے، دُعا مانگی جاتی ہے اور فحاشی کے مبینہ اسباب کو آگ دکھا دی جاتی ہے۔ دینی مدارس کے طالب علم تجارتی کمپنیوں کے اشتہارات تباہ کر رہے ہیں۔ سنہ 2002 کے موسم خزاں میں برسراقتدار آنے کے بعد متحدہ مجلس عمل نے 2 جون 2003 کو سرحد اسمبلی سے شریعت بل منظور کرایا۔ بعدازاں حسبہ بل کا مسودہ اسمبلی میں پیش کیا گیا جس کا بنیادی نکتہ سعودی عرب اور طالبان کی طرز پر اخلاقی پولیس کا قیام تھا۔ حسبہ بل کے مضمرات کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی۔عدالت عظمٰی نے حسبہ بل میں مطلوبہ ترامیم تک گورنر سرحد کو اس پر دستخط کرنےسے روک دیا۔حسبہ بل میں ناکامی کے بعد صوبائی وزیر قانون ظفر اعظم نے اسمبلی میں دو مسودۂ قانون پیش کیے۔ ایک کو امتناع رقص و موسیقی بل2005 اور دوسرے کو امتناع تصاویرِ زنان بل 2005 کا نام دیا گیا۔ دونوں قوانین میں مبینہ جرائم کو ناقابلِ ضمانت قرار دیتے ہوئے 5 سال قید اور 10 ہزار روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
متحدہ مجلس عمل اپنے اقتدار کے چار برسوں میں امن عامہ اور معیار زندگی میں بہتری کے حوالے سے کوئی ایسا نمونہ پیش نہیں کرسکی جسے غیر مذہبی نظام حکومت سے مختلف سمجھا جا سکے۔ دُنیا بھر میں جمہوریت سے متصادم نظریات کے علم برداروں کو اسی نوعیت کے نمائشی اقدامات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر نے برصغیر سے موسیقی کا جنازہ نکالنا چاہا تھا۔نازی جرمنی نے یہودی مصنفین کی کتابوں کے الاؤ جلائے تھے۔ 1979 کے بعد ایران سے سینکڑوں فنکاروں کو جان بچا کر فرار ہونا پڑا۔ افغان طالبان نے فنون عالیہ کے ان گنت نمونے تباہ کیے۔ 1971 کے خون آشام ایام میں آغا محمد یحیٰی خان پشاور میں اپنا گھر تعمیر کر رہے تھے جس کے سوئمنگ پول کے قصے کوچہ و بازار تک پہنچ رہے تھے۔ مشرقی پاکستان میں شکست کے بعد غیض و غضب سے بھرا ہوا ایک احتجاجی جلوس یحیٰی خان کے مکان کی طرف چل پڑا۔ پنجاب کے سابق آئی جی پولیس راؤ عبدالرشید لکھتے ہیں کہ اِس موقع پر ایک مذہبی جماعت کے مقامی رہنماؤں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ایک پُرجوش مولوی نے ہجوم سے مخاطب ہو کر کہا’بھائیو! قصور یحیٰی خان کا نہیں، شراب کا ہے‘۔ سو بپھرا ہوا ہجوم یحیٰی خان کو بھول کر شراب کی دکانوں پر ٹوٹ پڑا۔ عوام کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھانے کے لیے نمائشی اقدامات کی طویل فہرست سے قطع نظر اس بحث کے تین پہلو ہیں۔ اول: مذہبی سیاست کا تصور بنیادی طور پر عورت دشمن ہے۔ عورتوں کے تحفظ اور احترام کے نام پر مسلط کردہ ضابطے دراصل نصف انسانی آبادی کا دائرہ کار، صلاحیت اور امکان متعین کرنے کا اختیار سلب کرنے کے مترادف ہیں۔ عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین بنائے جاتے ہیں۔ عورتوں کی نقل و حرکت، تعلیم اور روزگار پر پابندیاں عائد کر کے ان کی تحقیقی، تخلیقی اور پیداواری صلاحیتوں سے انکار کیا جاتا ہے اور انہیں اجتماعی فیصلہ سازی میں مؤثر آواز سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جدید معاشرہ جسمانی فرق کو انسانی عقل اور صلاحیت کی بنیاد قرار نہیں دیتا دوسری طرف روایتی فکر عورت اور مرد میں لکیر کھینچتے ہوئے انسانی جسم کے احترام سے انکار کرتی ہے۔ اگر انسان اپنے جسم کا احترام کھو کر جسمانی خصوصیات پر فخر یا شرمندگی جیسے احساسات کا شکار ہو جائیں تو وہ معاشرے کی سیاسی اور سماجی فیصلہ سازی میں مؤثر آواز اٹھانے کے اہل نہیں رہتے۔ عورتوں پر مردانہ بالادستی کا ایک عملی پہلو بھی ہے۔ گھر کی چاردیواری میں مرد ایک مطلق العنان سربراہ کے طور پر بیوی بچوں سے بے چون و چرا اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔ گھریلو زندگی میں تسلیم و رضا کی اس تربیت سے حکومت کے لیے معاشرے کو مطلق العنان اطاعت کے ڈھب پر لانا آسان ہو جاتا ہے۔ علی عباس جلالپوری کہتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں جہاں مذہبی پیشواؤں نے سیاسی اختیار حاصل کیا، وہاں عصمت فروشی اور بردہ فروشی کو فروغ ہوا۔ اس میں ایک نازک سی نفسیاتی علت کارفرما ہے۔ ذہنی رفاقت سے بیگانگی کا رجحان جنسی نارسائی کے احساس پر ختم ہوتا ہے۔ چنانچہ تحکم پسند ذہن اس ناکامی کی تلافی تشدد اور تحکمانہ اختیار میں تلاش کرتا ہے۔ جدید فکری روایت میں عورت اور مرد کا رشتہ ایک دوسرے پر اختیار کا نہیں، دو مکمل اور مساوی اکائیوں کی سانجھ کا نام ہے۔ ایسی رفاقت رتبے، حقوق اور اختیار کی مساوات کے بغیر ممکن نہیں۔ بنیاد پرست ذہن کا المیہ یہ ہے کہ وہ کلی اختیار اور مطلق حاکمیت کے خبط کا اسیر ہے۔چنانچہ ثقافت ہو یا معیشت، مذہبی سیاست کی تان عورتوں پر جا کے ٹوٹتی ہے۔ دوم: پاکستان کی معروف سیاسی جماعتوں نے سستی مقبولیت کے شوق میں پاکستانی معاشرت سے کھلواڑ کیا ہے۔ مذہبی نعروں سے تو ذوالفقار علی بھٹو بھی دامن نہیں بچا سکے تھے۔ مسلم لیگ نواز کی پہلی حکومت نے 1991 میں شریعت بل منظور کیا۔ اگست 1998 میں پندرہویں آئینی ترمیم کو بھی شریعت بل ہی کا نام دیا گیا تھا۔مالاکنڈ میں قاضی عدالتوں کا متوازی نظام قائم ہوا تو موجودہ وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیر اعلیٰ تھے۔ سوم: پاکستان میں ثقافت کا سوال خاصا اُلجھا ہوا ہے۔ پاکستان کی ثقافت کی جڑیں دھرتی میں رکھی جائیں یا اکثریتی عقائد میں؟ ہزاروں برس کی مشترکہ تاریخ کے نشان ٹیکسلا، ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی صورت جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔غالب اور اقبال کی ادبی روایت سے حافظ، خیام، میرا بائی اور تلسی داس کے باہم گتھے ہوئے دھاگوں کو کس طرح الگ کیا جائے؟ استاد فیاض خان اور بڑے غلام علی کو پاکستان کا حصہ گنا جائے یا بھارت کے سپرد کر دیا جائے؟ پاکستانی موسیقی کو ہندوستانی موسیقی سے ممیز کرنے کی مصنوعی کوششوں کا انجام وہی ہوسکتا ہے جو احمد بشیر نے ذوالفقار بخاری کو تجویز کیا تھا کہ بھیرویں کی بندش ’موری بیّاں نہ مروڑو کرشن مراری‘ کو’ موری بیّاں نہ مروڑو میاں عبدالباری‘ کردیا جائے۔ صنعتی پیداوار اور تجارتی ڈھانچے کی عدم موجودگی میں پاکستان میں اُبھرنے والے درمیانے طبقے کی بڑی تعداد خوش حالی کے لیے خلیجی ممالک کی مرہون منت ہے۔ یہ متوسط طبقہ فنون لطیفہ سے تہذیبی لگاؤ رکھنے والی اشرافیہ سے بہت مختلف ہے۔ اس میں دولت اور خلیجی طرز کے بے آب و گیاہ معاشرتی نمونے کو مترادف سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی عوام کی بڑی تعداد نے اِس ربع صدی میں سخت گیر مذہبیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو وی سی آر اور کیبل کے ذریعے رد کرنے کی کوشش کی ہے۔ اتفاق سے تفریح کے اِن ذرائع کا معتدبہ حصہ بھارت سے تعلق رکھتا ہے۔ ہندوستان سے تصادم پاکستان کے مذہبی اورعسکری حلقوں کا مشترکہ نکتہ ہے۔ پاکستان کی سیاسی طاقتیں بھارت سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کریں تو اسے پاکستانی فوج کو کمزور کرنے کی بالواسطہ کوشش سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ پاکستانی حکومت کی روشن خیالی کا المیہ اِسی اُلجھی ہوئی تصویر سے برآمد ہوتا ہے۔ ثقافتی رجحانات کو نشوونما کا پورا موقع دینے سے فوج کی بالادستی اور مذہبی تحکم پسندی کا پورا ڈھانچا زمین بوس ہو جاتا ہے، دوسری طرف عالمی صورتِ حال اور قومی معیشت اجازت نہیں دیتے کہ دُنیا کو جہاد اور دہشت گردی میں فرق کرنے کا درس جاری رکھا جائے۔ اِسے مخمصے کا شکار ہونے والے جنرل کی کلاسیک مثال سمجھنا چاہیے جو بین بین راستہ اختیار کرتا ہے۔ ثقافت اور ثقافت دشمنی میں انتخاب نہ کر پانے کا نتیجہ بھی یہی ہوگا کہ چارسدہ میں رُباب کے تار سُر نہیں ہو پائیں گے، پشاور کے ڈبگری بازار میں جسم فروشی پھیل جائے گی،گوجرانوالہ کے تھیٹر ویران رہیں گے اور ثقافت فحاشی کے استعارے میں بدل جائے گی۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔) |
اسی بارے میں اک نا ممکن خواب کا خواب24 March, 2006 | قلم اور کالم بنگلہ بھاشا اندولن: ڈھاکہ پہ کیا بیتی21 February, 2006 | قلم اور کالم خبر کا جبر04 February, 2006 | قلم اور کالم حدود آّرڈیننس اور حقوقِ نسواں14 December, 2005 | قلم اور کالم ’سنہ 65 کا جذبہ یا قوم کی توہین‘22 November, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||