امریکی پولنگ پر ایک دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج صبح پولنگ کے پاس میں نہیں گیا بلکہ پولنگ چل کر میرے پاس آئی۔ ہوا یوں کہ میں نے صبح کمرے کی کھڑکی سے باہر کیا دیکھا کہ ایک صاحب روڈ کی سائیڈوں پر پیلے رنگ کی بڑی تختیاں لگا رہے تھے جو تیر کا نشان بتلاتی تھیں اور پولنگ سٹیشن کا راستہ دکھا رہی تھیں۔ میں گھر سے باہر اخبار کے کیوسک پر رکا۔ پچاس سینٹ کا ’سان ڈیاگو یونین ٹربیون‘ مشین سے نکالا اور بی بی سی کی نشریات سننے کے بعد ’سان ڈیاگو یونین ٹربیون‘ اور ٹیلیفون پکڑے باتھ روم گیا۔ یونین ٹربیون کی شہ سرخی تھی’دوسری ریاستوں میں چاہے ٹرن آؤٹ کچھ بھی ہو لیکن کیلیفورنیا میں کم ہی ووٹ پڑیں گے‘۔ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ حیدرآباد سندھ سے میرا یار غار اسلم خواجہ تھا جو امریکی انتخابات پر مجھے ’وِش‘ کرنا چاہتا تھا۔ ’آج بڑا دن ہے اور تم اب تک گھر میں ہو، باہر نکل کر دیکھو آج تمہارے ہان الیکشنز ہیں۔ میں نے تمہیں وِش کرنے کو فون کیا‘ اسلم نے کہا۔ میں نے سوچا واقعی امریکہ کے حالیہ انتخابات پر دنیا کی نظر ہے- میں کیمرا اور نوٹ بک سبنھالے گھر سے باہر نکلا۔ صبح والی پیلی تختی پر نظر بڑی جو پولنگ سٹیشن کا راستہ بتا رہی تھی۔ پولنگ سٹیشن میرے گھر سے سڑک کے اس پار والے چرچ کے احاطے میں ایک گھر میں بنایا گیا تھا۔ چرچ نے آج کے دن یہ گھر پولنگ کے لیئے عطیہ دیا تھا۔ بہت سے لوگ اپنے گھروں میں بھی پولنگ سٹیشن بنانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ نہ فوج نہ پولیس، نہ بینر ، نہ جھنڈے، نہ کوئی کھڑکی ٹوٹی، نہ نعرہ، نہ پولنگ ایجنٹ، یہ کیسے الیکشن ہیں۔ ہاں البتہ اس امریکی پولنگ سٹیشن پر میں جس چیز کو شناخت کرسکا وہ گتے کا بنا ہوا ووٹوں کا ڈبہ یا بیلٹ باکس تھا جو میز پر رکھا تھا اور میز کے پیچھے پولنگ ورکرز بیٹھے تھے۔ دو رضا کار لڑکیوں کی عمر ابھی ووٹ دینے کی نہیں تھی، وہ سترہ سال کی تھیں اور ہائي سکول سے آئی تھیں۔ پولنگ ورکر، ایک خاتون اور تین مرد۔ میرے پوچھنے پر ان میں سے ایک نے بتایا کہ وہ ستر ڈالر فی کس یومیہ پر پول ورکر ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک جج، ایک انسپکٹر اور سٹوڈنٹس سمیت باقی پول ورکرز تھے۔ مجھے پیارے وطن کے ٹیچر اور سرکاری ملازم یاد آئے۔ سندھ کے تھر کو ہی لے لیجئے وہاں وزیر اعظم تبدیل ہونے کی خبر تھریوں کو یوں پہنچتی تھی جب وہ دیکھتے تھے کہ ڈیپلو سے ٹیچر تبادلہ ہوکر ننگر پارکر پہنچا یا مٹھی سے لائن میں تبدیل ہوکر عمرکوٹ چلا گیا- خیر اب تو تھر کے لوگوں نے وزیر اعظم بھی گھر سے چن لیا ہے۔ ’کیا تم لوگوں نے ووٹ نہیں دینا‘ میں نے ایک پول ورکر سے پوچھا۔ ’ہم نے تو کل رات ہی ایبسینٹی (غیر حاضر) ووٹ دے دیا تھا سوائے ایک کے جو قریب ہی رہتا ہے اور آخر میں اپنا ووٹ یہیں استعمال کرے گا‘، خاتون پول ورکر نے بتایا- میں نے اس خاتون سے پوچھا کہ کیا میں یہاں بیٹھ کر پولنگ کا مشاہدہ کرسکتا ہوں تو اس نے کہا ’ہاں بالکل کرسکتے ہیں اور وہاں کافی، چائے تو نہیں لیکن میز پر رکھے ڈونٹ بھی کھا سکتے ہیں‘۔ ووٹر ہاتھ میں الیکشن آفس یا اپنی چوائس کی پارٹی کی طرف سے ان کے پتے پر آئے انتخابی معلومات کا سربمہر لفافہ دکھا کر اپنا نام پول ورکر کے ہاں ووٹر فہرست سے چیک کرواتے، وہ ٹِک کرتے، ووٹر آگے بڑھ کر دوسری پول ورکر سے ’پروپوزیشن‘ اور دیگر پولنگ معلومات کا وہ کتابچہ لیتے ( جس میں مقامی سطح سے لے کر ریاست اور وفاق کی سطح پر مجوزہ اور منظمر شدہ قوانین، منصوبوں اور امیدواروں کے بارے میں ’ہاں اور نہ‘ کہنے کے متعلق ’ٹک مارک‘ کرنے پر معلومات ہوتی( اور پھر ووٹر سے اس کی اپنی مرضی پر کاغذ یا الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا پوچھا جاتا۔ کیلیفورنیا میں ایسی الیکٹرانک ٹچ سکرین مشینیں پہلی مرتبہ اورامریکہ کے ایک تہائی ووٹرز پہلی بار استعمال کررہے تھے۔ الیکٹرانک مشین پر ٹچ سکرین کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے خواہشمند ووٹروں کو پول ورکر مشین کے استعمال کے متعلق ڈیمانسٹریشن بھی دیتے۔
پرنٹر بٹن سے اگر چہ پرنٹ باہر نہیں آتا لیکن اس بار ووٹ کا ریکارڈ ’پیپر ٹریل‘ یا کاغذی صورت میں بھی محفوظ رہے گا، اگر ایکٹرانک ووٹنگ مشین کی میموری چپ ناکارہ ہوجائے تب بھی۔ پچھلی دفعہ بہت سی ریاستوں میں متعارف کردہ اس مشین میں پیپر ٹریل نہیں تھا جس سے دھاندلی کی شکایتیں بھی ہوئي تھیں۔ غیر حاضر ووٹر سر بمہر لفافے میں ووٹ پولنگ ورکر کے پاس جمع کروا کر رسید لیتے اور کاغذ کا ووٹ استعمال کرنے والا ووٹر بھی پول ورکر سے ایک لمبی فہرست والا کاغذ لے کر ووٹنگ ایریا میں مشینوں کے ساتھ رکھے ڈیسک پر آکر کسی امتحانی پرچے کی طرح ووٹ کا پرچہ حل کرتے نظر آتے۔ بہت سے امریکی آج بھی مشینوں اور کاغذی خانہ پری میں اناڑی واقع ہوئے ہیں۔ اوسطاً ہر ووٹر چار یا پانچ سے آٹھ منٹ تک اس پورے جمہوری پروسس میں لگا رہا تھا۔ ’ووٹروں کے فوٹو لینے سے پہلے آپ ان لوگوں سے اجازت ضرور لیں‘‘ ایک خاتون پول ورکر نے مجھ سے کہا - پوچھنے پر کئی وٹروں نے جواب دیا:’ضرور کیوں نہیں۔ ہم ووٹ دینے آئے ہیں، ووٹ دینے کا یہ سٹیکر بھی حاصل کیا ہے تو فوٹو کیوں نہیں؟‘۔ میں نے گھر سے نکلنے سے پہلے آج نیشنل پبلک ریڈیو سنا تھا اور وہ بتا رہا تھا کہ ٹچ سکرین مشینیں ووٹروں میں کنفیوژن کا موجب بن سکتی ہیں جیسا کہ کہیں کہیں ووٹروں کے ایک امیدوار کا نام ٹچ سکرین پر دبانے سے دوسرے امیدوار کا نام آجانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ جب میں نے یہی سوال پولنگ عملے سے کیا تو انہوں کہا ’ کیا واقعی؟ ہم لوگ نیشنل پبلک ریڈیو باقی دن تو زیادہ تر سنتے رہتے ہیں لیکن آج نہیں سنا‘۔ میں نے پولنگ سٹیشنوں پر گشت کرنے والے الیٹرانک مشینوں کے انجینیئر مائیکل شسکی سے پوچھا تو انہوں نے کہا ’میرے زیر نگرانی چھ پولنگ سٹیشن ہیں اور صرف مشینوں کے متعلق دو شکایات موصول ہوئی ہیں جہاں مشینیں ٹھیک کرنے کے لیئے مجھے بھیجا گیا تھا‘۔ ’مشنینیں استعمال میں بہت آسان ہیں‘ ایک پولنگ ورکرنے دہرایا۔ پھر مشین کے بوتھ سے ایک ووٹر نے مجھے پولنگ ورکر سمجھ کر مجھ سے پوچھا ’کیا آپ میری تصویر اسی لیئے کھینچ رہے ہیں کہ بتا سکیں کہ مشینیوں کا استعمال کتنا آسان رہا؟‘ اس چرچ کی حدود میں قائم اس پولنگ پر زیادہ تر ووٹر سفید فام ہونے کے ساتھ کچھ افریقی نژاد بھی تھے (جن میں اس خاتون کو میں جانتا تھا جس کا ذہنی مریض بتائے جانے والا جواں سال بیٹا کچھ سال قبل پولیس فائرنگ میں مارا گیا تھا اور جس نے مشین پر اپنے ووٹ میں بڑا ٹائم لگایا۔ ایسے لگا وہ دیکھ بھال کر نشانات لگا رہی ہوگي)۔ وہ ووٹرز بھی تھے جو اٹھارہ سال کے تھے اور پہلی بار اپنے ووٹ کا حق استعمال کررہے تھے اور وہ کافی پرجوش نظر آئے۔ ایشیائي نسل کے بزرگ اور ادھیڑ عمر کے ووٹر بھی تھے تو کچھ لاطینی امریکی بھی۔ اس وقت تک اس پولنگ سٹیشن پر ایک سو چھبیس ووٹروں میں سے ایک سو دس اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔
تھوڑی دیر کے لیئے ایسے بھی وقفے آئے جب ووٹروں کی آمد کم ہوئی اور پول ورکر، بقول شخصے، مکھیاں مارنے لگے- میں نے پولنگ سٹیشن سے باہر ووٹروں سے بات کرنا چاہی۔ سام کولی ایک ریپبلکن ووٹر ہیں جو ہمیشہ ریپلیکن نہیں رہے تھے۔ انہوں نے کہا ’میں پہلے ایک لبرٹیرین (آزاد خیال) تھا، پھر ڈیموکریٹ اور اب ریپبلکن کی حمایت کرتا ہوں اس لیئے کہ میں شروع شروع میں ریپبلکن ہی تھا‘۔ لیکن اس نے کہا ’ضروری نہیں کہ میں عراق جنگ کو درست سمجھتا ہوں‘۔ میں نے اسی جگہ دو نوجوان لڑکیوں ایملی اور نیٹالی سے بھی بات کی جو حال ہی میں اٹھارہ برس کی ہوئی ہیں اور پہلی بار ووٹ استعمال کرنے آئی تھیں۔ ایملی نے گلے میں امن کے نشان والا لاکٹ پہنا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا وہ ڈیموکریٹ ہیں- لیکن ان کی سہیلی نیٹلی نے کہا ’میں نہ ریپبلکن ہوں نہ ڈیموکریٹ بلکہ میں تو گرین پارٹی اور رالف ناڈر کی حمایتی ہوں‘۔ ’میں نے اپنا حق استعمال کر لیا‘ افریقی نژآد امریکی ووٹر وِلی وارڈ نے مجھ سے کہا۔ وِلی نے کہا ’میں ہوں تو ڈیموکریٹ لیکن ریپبلکن کی بھی حمایت کرتا رہا ہوں کیونکہ دونوں میں کوئي بڑا فرق نہیں‘۔ لیکن قوس و قزح کے رنگوں والی کالی ٹی شرٹ پہنے ایک ووٹر نے(جس نے اپنا نام نہیں بتانا چاہا اور نہ ہی تصویر کھنچوانا چاہی) کہا ’مجھے توقع نہیں کہ اگر ڈیموکریٹ آ بھی گئے تو اس سے کوئي زیادہ فرق پڑے گا۔ میں نہیں سمجھتا۔ بلکہ بہت سے معاملات پر پالیسیوں میں وہ تو ایک جیسے پختہ یقین نظر آتے ہیں‘۔ لیکن پرجوش ریپبلکن ووٹر کارلا نورس نے کا کہنا تھا ’یہ انتخابات مقابلہ ہے عیسائی اور غیر عیسائی قوموں میں۔ اسقاط حمل اور رحم مادر میں بچے کو زندگي کا حق دینے والوں میں اور بہت سےایسی بنیادی اور اہم مسئلوں پر۔ اسی لیے میں ریپبلکن پارٹی کی حامی ہوں‘۔ مجھے یاد آیا کہ منگل کی صبح پاکستانی نژاد امریکی ووٹر اور پنجابی شاعر فاروق طراز نے کیلیفورنیا کے شہر برکلے سے مجھے ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ وہ جارج بش کے خلاف ووٹ دینے جا رہے ہیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیلیفورنیا میں تو ریپبلکن گورنر آرنلڈ شیوارزنگر کے چانسز دوسری بار منتخب ہونے کے بھی بن رہے ہیں تو انہوں نے کہا ’آرنلڈ نے کیلیفورنیا میں سارے کام بش کی پالیسیوں کے خلاف کیے ہیں ، خاص کر ماحولیات کے سلسلے میں۔ ایسے اقدامات تو شاید ڈیموکریٹس بھی نہیں کرسکتے تھے۔‘ |
اسی بارے میں امریکی سیاست، جنسی سکینڈل کا شور12 October, 2006 | آس پاس سیکس اسکینڈل: کانگریس کی تفتیش06 October, 2006 | آس پاس پہلے جنگ لڑی، اب انتخاب لڑیں گی23 March, 2006 | آس پاس ’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘25 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||