BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 June, 2007, 20:31 GMT 01:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیکھا پاکستان: رات کی رات پڑی ہے

دیکھا پاکستان
تیس برس پہلے شام کی اذان کے ساتھ ہی سینکڑوں پرندے قطار اندر قطار اپنے گھونسلوں کی طرف اُڑتے دکھائی دیتے تھے
پاکستان کے ابتدائی دن تھے۔ جہاں تہاں سے قافلے بے سروسامانی کی داد دیتے چلے آ رہے تھے۔ کوئی انبالہ کے لٹے ہوئے قریے کی روشنی تھا تو کوئی دہلی کا روڑا ۔ کچھ جن کے ہاتھ پاؤں میں دم تھا وہ متروکہ جائیدادوں کی بہتی گنگا دیکھ کر گھر بیٹھے مہاجر ہو گئے تھے۔

اردو دان مہاجروں میں سے بہت سوں کو شعر کی چیٹک بھی تھی۔ یوں اہل زبان کو شعر فہمی کا دعوٰی تو رہتا ہی ہے۔ معمولاتِ زندگی درہم برہم تھے۔ کرنے کو کچھ تھا نہیں۔ سو لاہور میں مشاعروں کا بازار گرم ہو گیا۔ لارنس باغ کے ایسے ہی ایک مشاعرے میں امرتسر کے نووارِد شاعر نفیس خلیلی سے ایک شعر سرزد ہوا جو گلشن میں طرزِ بیان کا درجہ اختیار کر گیا۔

دیکھتا کیا ہے میرے منہ کی طرف
قائداعظم کا پاکستان دیکھ

روایت ہے کہ اس شعر پر ایسا غلغلہ ہوا کہ شاعر عدالت میں کھنچا کھنچا پھرا۔ خیر گزری کہ میرِ عدالت جسٹس رستم کیانی تھے جن کی آنکھ سرکاری بوالعجبیوں کی تحقیق میں تہہ در تہہ جاتی تھی۔ اُنہوں نے نفیس خلیلی کو یہ کہہ کے بری کر دیا کہ شاعر محبِ وطن ہے اور اس کی تجویز ہے کہ قائد اعظم نے جو ملک بنایا ہے، اسے گھوم پھر کر دیکھا جائے۔ آپ اگر چاہیں تو نعم البدل کے طور پر نفیس خلیلی کا منہ دیکھتے رہیں۔

بیرونِ ملک تعلیم کی تہمت لے کر وطن لوٹے کچھ مہینے گزر گئے تو خیال آیا کہ کچھ تاخیر ہی سے سہی، نفیس خلیلی کی تجویز پر عمل کرنا چاہیے۔ طے پایا کہ کراچی اور لاہور جیسے آبادی سے کُلبلاتے جنگلوں سے ہٹ کر چھوٹے شہروں اور قصبوں کا رُخ کیا جائے۔ ’دیکھا پاکستان‘ کا یہ تحریری سلسلہ پنجاب اور سندھ کے قصبوں میں بستے ان خوبصورت انسانوں میں گذرے پُرلطف دنوں کی دین ہے جنہیں ریاستی غفلت اور معاشرتی پسماندگی نے انہونی اور ہونی کی اس پگڈنڈی پہ چھوڑ دیا ہے جہاں سے انسانی ترقی کی شاہراہ بقول صوفی تبسم ’نظر تو آتی ہے، نزدیک نہیں آتی‘۔

ایسا نہیں کہ لکھنے والا اُن ’بابا لوگ‘ میں شُمار ہوتا ہے جنھیں ’آیا لوگ‘ پالتی ہیں۔ بس اتنا ہوا کہ کوئی پچیس برس ہوئے ہم نے وادی غربت میں قدم رکھا تھا۔ اس کے بعد ’حقیقی پاکستان‘ سے تعلق کچھ ایسا ہی رہا جیسا جمہوریت سے۔ ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔

چھوٹے شہر
لاکھوں کی آبادی پر مشتمل پاکستانی قصبوں میں کُچھ بنیادی شہری ضروریات کا سرے سے غائب ہونا حیران کُن ہے

لاکھوں کی آبادی پر مشتمل پاکستانی قصبوں میں کُچھ بنیادی شہری ضروریات کا سرے سے غائب ہونا حیران کُن ہے۔ سکھر ہو یا ساہی وال، گوجرانوالہ ہو یا گجرات، سڑکوں پر کہیں فٹ پاتھ نظر نہیں آتے۔ گردوغبار میں اٹی، کیچڑ میں سنی تارکول کی شکستہ سڑک کے دونوں کناروں پر یا تو تجاوزات ہیں یا مٹی اور کوڑا کرکٹ کے انبار۔ گویا شہری بندوبست کے ذمہ دار اداروں نے پیدل چلنے والی مخلوق کو ایسے ہی آبادی کا غیر فعال حصہ قرار دے دیا ہے جیسے پچیس اور پچاس پیسے کے سکے اب نظر نہیں آتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان شہروں کے ایک خاص حصے میں فٹ پاتھ ہی موجود نہیں بلکہ فٹ پاتھ کے کناروں پر سفید اور سیاہ روغن کا التزام بھی نظر آتا ہے۔ سہولتوں کے اس نخلستان کو سرکاری کاغذوں میں کنٹونمنٹ اور عوامی لُغت میں کینٹ کہتے ہیں۔ اِن سبزہ زاوں کے باسی البتہ اپنی بستی کو ڈیفنس کہنا پسند کرتے ہیں۔ اِن کا فرضِ منصبی بھی ڈیفنس یعنی دفاع ہے۔ ملک کے باقی ماندہ باشندوں کی پیدائش کا حادثہ ہی ان کا آفنس (Offence) یعنی جُرم قرار پایا ہے۔ قدیم مذہبی اساطیر میں اسے اوریجنل سِن یعنی موروثی گناہ کی اصطلاح بخشی گئی تھی۔

ملک بھر میں دو تین بڑے شہروں کے سوا تعلیم یا علاج معالجے کی اطمینان بخش سہولتیں تو خیر ناپید ہیں، سڑکوں کے کنارے درخت بھی نظر نہیں آتے۔ نیو یارک، لندن اور ٹوکیو جیسے بڑے شہروں کو طنزیہ طور پر کنکریٹ اور لوہے کے جنگل کہا جاتا ہے۔ لیکن پاکستانی قصبوں میں تو اونچی عمارتیں بھی نہیں۔ کتب خانے ہیں اور نہ فنون لطیفہ کی سرگرمیاں۔ سو ذہنوں میں روشنی کی کِرن نہیں پھوٹتی۔ درخت بھی نہیں کہ ہریالی دیکھ کر آنکھوں ہی میں ٹھنڈک اترے۔

چھوٹے شہر
شہری بندوبست کے ذمہ دار اداروں نے پیدل چلنے والی مخلوق کو ایسے ہی آبادی کا غیر فعال حصہ قرار دے دیا ہے جیسے پچیس اور پچاس پیسے کے سکے

کوئی تیس برس پہلے شام کی اذان کے ساتھ ہی سینکڑوں پرندے قطار اندر قطار اپنے گھونسلوں کی طرف اُڑتے دکھائی دیتے تھے۔ اب سورج غروب ہونے پر اذان کی آواز مسجد کے میناروں ہی سے نہیں، ریڈیو اورٹیلی ویژن سے بھی بلند ہوتی ہے، مگر پرندے نظر نہیں آتے۔ پرندوں کی صرف تعداد ہی کم نہیں ہوئی، اُن کے تنوع میں بھی کمی آئی ہے۔ پاکستانی بچے پرندوں کے نام پر صرف چڑیا اور کوے سے آشنا ہیں۔ فاختہ، توتا، لالی، ہُد ہُد اور تیتر اُن کی کتابوں میں ہوں تو ہوں، اُن کے مشاہدے کا حصہ نہیں۔ فصلی بٹیرے بھی فضا میں نہیں، اقتدار کی غلام گردشوں میں ملتے ہیں۔ قصبہ میلسی کے شاعر عباس تابش نے کبھی لکھا تھا۔

شام ہوتی ہے تو یاد اس کو بھی گھر آتا ہے
اک پرندہ میرے کاندھے پہ اُتر آتا ہے

کچھ سال گزرنے پر اسی شاعر نے لکھا :

یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا
کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کر جانا

ایسا نہیں کہ دنیا بھر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں مگر سادہ سی بات ہے کہ جہاں انسان بستے ہوں، وہاں بچوں کی ہنسی اور بڑوں کی آسودہ مسکراہٹ روزمرہ کا حصہ ہوتی ہے۔ نہایت تعجب ہے کہ پاکستان میں ایک چوک سے دوسرے چوک تک چلے جائیے، آپ کو کسی چہرے پر مسکراہٹ نظر آئے یا کانوں میں ہنسی کی آواز آئے تو آپ خوش نصیب ہوں گے۔ حد تو یہ ہے کہ مقبول عام لطائف میں بھی مزاح سے زیادہ مایوسی اور غصے کا اظہار ملتا ہے۔

پاکستان میں عوامی بیت الخلاء
 پاکستان میں عوامی بیت الخلاء کا کوئی تصور نہیں۔ ضرورت پیش آنے پر مرد حضرات تو ہر دس قدم پر موجود مسجد میں گُھس جاتے ہیں اور بقول منٹو ڈرائی کلین کرتے برآمد ہوتے ہیں

دستور اور قانون کی باتیں تو وکیل لوگ کیا کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ انسانی زندگی کا ایک پوچ سا حصہ حوائجِ ضروریہ کہلاتا جاتا ہے۔ پاکستان میں عوامی بیت الخلاء کا کوئی تصور نہیں۔ ضرورت پیش آنے پر مرد حضرات تو ہر دس قدم پر موجود مسجد میں گُھس جاتے ہیں اور بقول منٹو ڈرائی کلین کرتے برآمد ہوتے ہیں۔ خواتین کو یہ سہولت بھی میسر نہیں۔ عورتوں کو گھر کی چاردیواری میں قید رکھنے کے خواہشمند حلقوں کے پیش نظر شاید یہی مصلحت ہو گی کہ عورتوں کو ناگہانی زحمت سے محفوظ رکھا جائے۔

کالم کی گنجائش تمام ہوئی اور بات باقی ہے۔ یاد دِلاتے چلیں کہ حکومتِ پاکستان نے سنہ2007 کو سیاحت کے فروغ کے لیے وزٹ پاکستان کا سال قرار دیا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ سیاحت کی وفاقی وزیر نیلوفر بختیار نے اس مہم کو زیادہ ہی سنجیدہ سمجھ لیا۔ حالانکہ اس کا حقیقی مقصد غالباً صرف بے راہرو مغربی سیاحوں کو لال مسجد آ کر توبہ تائب ہونے کی ترغیب دینا تھا۔ فرانس کادورہ کرتے ہوئے نیلوفر بختیار نے پاکستان کا خوشگوار تاثر ابھارنے کی ایسی پُرجوش کوشش کی کہ روشن خیال حکومت کے حساس تار جھنجھنا اٹھے۔ اب نیلوفر مستعفی ہو کر گھر بیٹھی ہیں اور پاکستان کا سافٹ امیج پیدا کرنے کا کام ادھورا ہے۔ اب بھی رات کی رات پڑی ہے۔

 بنظیر بھٹومیثاق کا مستقبل
میثاق جمہوریت میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔
بگٹی کی ہلاکت
پاکستان کے لیے آفاتِ ناگہانی کا اشارہ ؟
صدر جنرل پرویز مشرفصدر کے لیئے خطوط
کیا یہ مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی سعی ہے؟
پاکستان میں عورتوں کا دن کروں نہ یاد مگر . . .
پاکستان میں عورتوں کا دن 12 فروری کو کیوں؟
حبیب جالب 12 فروری 1983بارہ فروری 1983
جالب نے کہا ’ہٹو پولیس والو، چلو بیبیو‘
احمدی: ’مظلوم فرقہ‘
’جب احمدیوں کا وجود ہی جرم قرار دے دیا گیا‘
’بے چاری سیاست‘
تجزیہ: سیاست سے نفرت مگر۔۔۔
اسی بارے میں
معاشرے اور حرم سرا میں انتخاب
09 April, 2007 | قلم اور کالم
جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں
20 March, 2007 | قلم اور کالم
خوشامد علمِ دریاؤ ہے
07 March, 2007 | قلم اور کالم
اب چتاؤنی کون دے گا
28 December, 2006 | قلم اور کالم
کیا روشنی سے ڈرتے ہو؟
17 December, 2006 | قلم اور کالم
غلام اسحاق خان: نصف صدی کا قصہ
28 October, 2006 | قلم اور کالم
معاہدہ وزیرستان: کس کی جیت؟
07 September, 2006 | قلم اور کالم
این جی اوز نے کیا بگاڑا ہے؟
25 August, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد