غلام اسحاق خان: نصف صدی کا قصہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غلام اسحاق خان نہیں رہے۔ ان کی بے لچک ضابطہ پسندی سے کچھ بعید نہیں کہ قضا و قدر کے فرشتوں سے تکرار ہو رہی ہو کہ انہوں نے انتقال کیا ہے یا انہیں اضافی ترقیوں کے ساتھ نئی تقرری کا پروانہ دیا جا رہا ہے۔ وہ فرائض زندگی سے بطریق احسن سبکدوش ہوئے ہیں یا انہیں موجودہ مراعات سمیت فارغ خطی دی جا رہی ہے؟ قواعد و ضوابط کی کتابوں سے گرد جھاڑی جا رہی ہو۔ قانونی ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہو۔ ذرائع ابلاغ کو اشارے کنائے میں مشیت ایزدی کا عندیہ دیا جا رہا ہو۔ ممکن ہے زیڈ اے سلہری صاحب نے ایک مبسوط مقالہ بھی رقم کر لیا ہو کہ غلام اسحاق خان ایٹمی پروگرام کے محافظ تھے جنہوں نے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ان سے اعمال کے حساب کا تقاضا کرنا پاکستان کی سالمیت کو خطرے میں ڈالنا اور دو قومی نظریے کی توہین کرنا ہے نیز یہ کہ اس ضمن میں عسکری قیادت بالخصوص حساس اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایک امکان تو یہ بھی ہے کہ بہشت کے جملہ باشندوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہوں کہ نو وارِد بلحاظِ عہدہ جنت کے مقامِ اولٰی کی طرف خراماں خراماں بڑھ رہے ہیں یا جہنم کی ہیئت مقتدرہ نے ساکنانِ جنت کی صفوں میں اپنا نمائندہ بٹھانے کا اہتمام کیا ہے؟غلام اسحاق خان ان مٹھی بھر افسروں میں شامل تھے جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے حصے میں آئے۔ ممتاز مسلم لیگی رہنما اسلم خٹک روایت کرتے تھے کہ 32 برس کا نوجوان افسراسحاق خان سڑک کے کنارے کسی پٹھان کو دیکھتا تو اسے ایک روپیہ دے کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کی فرمائش کرتا تھا۔ نمودِ عشق کی معصومیت میں مآلِ کار کی خبر کسے رہتی ہے۔ الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ کراچی ائرپورٹ پر سابق وزیر اعظم سہروردی نے انہیں دیکھا تو بلا کر بے ساختہ پوچھا، ’الطاف، پاکستان کی فوج اتنے تھوڑے عرصے میں اتنی بدعنوان کیسے ہو گئی؟‘ فروری 1959 میں سہروردی کا یہ سوال دراصل پاکستانی حکمرانوں کی دوسری نسل کے بارے میں تھا۔ پہلے دُودمان کے چراغ چوہدری محمد علی اور غلام محمد تھے۔ سول افسر شاہی سے وردی پوش تانا شاہی تک کے سفر میں ایک پڑاؤ سکندر مرزا کا پڑتا تھا۔ 50 کی دہائی میں جو کردار سکندر مرزا کو ملا تھا،80 کے عشرے میں اسی نوعیت کے کچھ نالے غلام اسحاق خان کے سپرد ہوئے تھے۔ رپورٹ پٹواری مفصل (لفِ ہذا) سے معلوم پڑتا ہے کہ یہ نالے بطریقِ احسن دم ہوئے۔ غلام اسحاق خان کی پیشہ وارانہ اہلیت اور فکری استعداد پر معروضی رائے دینا مشکل ہے۔ یوں تو پاکستان میں انگریزی بولنے اور دفتری قواعد و ضوابط سے آگہی ہی کو قابلیت کا معیار ٹھہرایا جاتا ہے مگر اسلامیہ کالج پشاور سے قومی خزانے کے مہتمم کی فکری اُپج میں کچھ فرق تو ہونا چاہیے۔ واپڈا کے انتظام کی ذمہ داری گھمبیر سہی لیکن مملکت کے سربراہی کے لیے درکار بصیرت کے تقاضے کچھ اور ہوں گے۔
انہوں نے نئے ملک میں اپنے پیشہ وارانہ سفر کا آغاز خود ساختہ مردِ آہن قیوم خان کے پولیٹیکل سکریٹری کی حیثیت سے کیا تھا۔ فیروز خان نون کی سربراہی میں جس کمیٹی نے زرعی اصلاحات کی سفارش کی تھی اس میں غلام اسحاق محکمہ آبپاشی کے نمائندے کی حیثیت سے شامل تھے۔ کمیٹی کی رپورٹ میں غلام اسحاق خان کے کچھ کاٹدار جملوں کو بہت مقبولیت ملی۔ بھٹو صاحب کا سوشلزم آیا تو جس دو رکنی کمیٹی کی رپورٹ میں بینکوں کو قومیانے کی سفارش کی گئی اس میں اے جی این قاضی کے علاوہ غلام اسحاق خان بھی شامل تھے۔ موسم بدلا تو ضیاالحق پاکستان کو اسلام سے متعارف کرانے تشریف لائے۔ اس مہم میں غلام اسحاق خان کو معیشت کے سر پر عقیدے کی رِدا اوڑھانے کی ذمہ داری ملی۔ انہوں نے نفع نقصان میں شراکت کی بنیاد پر اسلامی بینکاری متعارف کرائی۔ اردو میں بجٹ پیش کرنے کی روایت شروع ہوئی جس سے اردو اخبارات کے معاشی تجزیوں میں اقبال کے اشعار کی پذیرائی بڑھی۔ بینک کھاتہ داروں کی بچتوں سے زکوٰۃ کاٹنے کا سلسلہ شروع ہوا جس سے ملک بھر میں خضر صورت بزرگوں کی غربت میں معتدبہ کمی واقع ہوئی البتہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی شرح ربع صدی میں20 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک جا پہنچی۔ جولائی 1977 میں جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو غلام اسحاق خان سکریٹری دفاع تھے۔ پیپلز پارٹی کے حلقوں میں، صحیح یا غلط، یہ خیال ہمیشہ موجود رہا کہ بطور سکریٹری دفاع غلام اسحاق خان ضیا الحق کے ارادوں سے با خبر تھے مگر انہوں نے بھٹو صاحب کو اندھیرے میں رکھا۔ اس رائے کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملی کہ ضیا عہد میں جنرل چشتی سے لیکر کے۔ایم۔عارف تک اور آغا شاہی سے لیکر محمد خان جونیجو تک چل چلاؤ کا عالم رہا مگر غلام اسحاق خان گیارہ برس تک ضیا الحق کی مونچھ کا بال رہے۔
جن ملکوں میں عوامی تائید کے بغیر حکمرانی کا طور جڑ پکڑ لے، وہاں ایک نہ ایک کردار ایسا پیدا ہو جاتا ہے، جسے سدا بہار سمجھا جاتا ہے۔ اقتدار جس روپ میں بھی رونمائی دے، یہ کسی خوشنما تِل کی صورت رُخِ انور کی رونق بڑھاتے رہتے ہیں۔ روس میں یہ اعزاز گرومیکو کو حاصل تھا۔ پاکستان میں یہ منصب غلام اسحاق خان کو ملا۔ اس طرح کے کردار کی تین خوبیاں ہوتی ہیں۔ وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی میں مستعد ہوتا ہے۔ اقتدار کے مرکز پر ہوتے ہوے بھی خود کو نمایاں کرنے سے گریز کرتا ہے۔ روز مرہ معاملات میں قاعدے قانون کی لفظی پابندی کرتا ہے مگر بنیادی سوالات پر دو ٹوک رائے ظاہر کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اسلام آباد کے کامیاب دانشور غلام اسحاق خان کی کہہ مکرنیوں کو ان کی اصول پسندی قرار دیتے تھے۔ ایسے ہی کسی موقع پر لاہور کے دانشور صحافی اسلم ملک نے فقرہ چست کیا تھا کہ ’غلام اسحاق خان قانون اور دستور کے ہر لفظ بالخصوص شق 58 ٹو بی کا جان توڑ کر دفاع کرتا ہے لیکن پورے دستور کو فوجی بوٹ سے ٹھوکر مار کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا جائے تو اسے اونگھ آ جاتی ہے‘۔ پاکستان میں ان خانہ ساز دانشوروں کی کمی نہیں رہی جو غلام اسحاق خان کی مفروضہ مالی دیانتداری کو ان کی قائدانہ صلاحیت کی دلیل بنا کر پیش کرتے تھے۔ بد عنوانی کو مالی خورد برد یا رشوت ستانی تک محدود کرنا انسانی معاشرے کی پیچیدہ نوعیت اور جدید اداروں کے کردار سے لاعلمی کی نشانی ہے۔ مالی بدعنوانی بےشک معاشی اور سماجی ترقی کے لیے زہر کا درجہ رکھتی ہے تاہم مہذب معاشرے میں سب سے خطرناک انفرادی بد عنوانی کسی حکمران کے اقتدار کا ناجائز ہونا ہے۔ اجتماعی سطح پر بدعنوانی کی بدترین صورت اداروں کا اپنے آئینی دائرہ کار سے تجاوز کرنا ہے۔
انفرادی دیانت داری کا پھول ایسے معاشروں میں بہار دیتا ہے جہاں عوام کے امکان پر اعتماد کیا جاتا ہو۔ جہاں قانون کی بالا دستی قائم ہو۔ جہاں علم، دستور اور ضابطے کی مدد سے معیار زندگی میں مسلسل بہتری اجتماعی نصب العین ہو۔ جہاں رائے کے شخصی اور اجتماعی اظہار پر پابندیاں نہ ہوں۔ جہاں واقعاتی کوتاہیوں کا سدباب انفرادی پارسائی کی بجائےاختیارات اور احتساب کے اداراتی توازن سے کیا جاتا ہو ۔ دیانت داری کی کرن سازش اور منافقت کی تاریکی میں نہیں پھوٹتی۔ بدقسمتی سے غلام اسحاق خان کا تاریخی کردار دیانتداری کے جدید معیار پر پورا نہیں اترتا۔وہ قریب نصف صدی تک ان قوتوں کا مرکزی حصہ رہے جنہوں نے غیر آئینی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشرتی ڈھانچوں کی صورت گری کی ہے۔ آج پاکستان کے عوام کی سیاسی آواز غیر مؤثر ہے۔ ان کے معاشی اور سماجی اشاریے جنوبی ایشیا کے تناظر میں بھی قابلِ تشویش ہیں۔ ریاستی اداروں کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہے۔ پاکستان کے ان خدوخال کی ذمہ داری بہت سے دوسرے کرداروں کے علاوہ غلام اسحاق خان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ خان صاحب شعر کا عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ صحافیوں سے تبادلہ خیال میں ان کی بلاغت عام طور پر کسی پشتو ضرب المثل یا فارسی شعر کی صورت بہار دیتی تھی۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف حکومت کی برطرفی کو ناجائز قرار دیا تو خان صاحب نے اقبال کا سہارا لے کر تنبیہ کی کہ پیر مغاں کا کام تمام نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ انگور کی ٹہنیوں میں شراب کے بہت سے پیالے ابھی باقی تھے۔ مگر سیاست کا مہادیو اپنی چال چل چکا تھا۔ چند ماہ بعد صدارتی انتخاب کا ڈول ڈالا گیا۔ اکتوبر 1993کی گلابی دھوپ میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر سیر کو نکلنے والوں نے ایک80 سالہ بزرگ کو عالمِ تنہائی میں اِدھر اُدھر پھرتے دیکھا تو جان لیا کہ پیرِ مغاں کا کھیل انجام کو پہنچ چکا تھا۔ 27 اکتوبر 2006 کی صبح خبر آئی کہ انگور کی شاخوں میں شراب کا آخری قطرہ بھی تہہ جام اتر آیا ہے۔ | اسی بارے میں غلام اسحاق خان کی زندگی27 October, 2006 | پاکستان غلام اسحاق خان انتقال کرگئے27 October, 2006 | پاکستان یکم نومبر 1989 01 November, 2004 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||