’سیاسی عمل سے انکار کا رویہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ڈونر کانفرنس کی کامیابی سے نہ صرف ڈگمگاتی ہوئی حکومت کو خاصا سہارا ملا ہے بلکہ پشتینی نمک خواروں کو بھی سیاسی قیادت کو ’لتاڑنے‘ کا اچھا موقع ہاتھ آیا ہے۔ دشنام کی اس فہرست میں کوئی خاص ندرت نہیں ہے۔’سیاسی رہنما بےعمل ہیں۔ عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھے ہیں۔ وہ کوئی مثبت کام کرنے کی بجائے محض باتیں بگھارنا اور تنقید کرنا جانتے ہیں۔‘ یہ الاپ گذشتہ 50 برس میں بڑے تسلسل سے دہرایا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں سیاسی عمل کا انحطاط مختلف مراحل سے گزرتا ہوا گذشتہ 20 برس میں گویا اپنے منطقی انجام کو پہنچا ہے تاہم جمہوری مکالمے اور سیاسی عمل سے انکار کا رویہ ہماری تاریخ کے تاروپو میں گندھا ہوا ہے۔ اگر آپ نے کبھی مختلف تعلیمی درجوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کے اردو اخبارات میں انٹرویو پڑھے ہیں تو شاید آپ نے محسوس کیا ہو کہ ان نونہالوں سے ایک سوال سیاست دانوں کے بارے میں ضرور پوچھا جاتا ہے اور ان ہونہاروں نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا ہمیں سیاست سے نفرت ہے۔ ڈاکٹر ،انجینیر یا سول سرونٹ بن کے قوم کی خدمت کریں گے۔ گویا سیاست میں حصہ لے کر قوم کی خدمت نہیں کی جا سکتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی سانس میں مثالی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہونہار بِروا قائدِ اعظم محمد علی جناح کا نام لینا نہیں بھولتے۔ ہم عصر جنوبی ایشیا پر سند کا درجہ رکھنے والے سٹینلے والپرٹ نے زلفی بھٹو آف پاکستان کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں جہاں جہاں بھٹو صاحب کے کسی ناقابلِ دفاع یا ناقابلِ توجیہ رویے کا ذکر آیا ہے مصنف رومن اردو میں ایک لفظ سیاست لکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ والپرٹ صاحب سیاست کے انگریزی مترادف سے آگاہ نہیں ہیں۔ بات یہ ہے کہ اردو میں اس لفظ کا مفہوم ہی بدل گیا ہے۔ انگریزی زبان میں کسی شخص کو سیاسی کہنا گویا اس کے باشعور اور ذمہ دارانہ سماجی رویے کا اعتراف ہوتا ہے۔ ادھر ہمیں کسی کو عیار، دھوکے باز اور کایاں قرار دینا ہو تو ہم سلیس اردو میں کہتے ہیں، بھئی وہ شخص بڑا سیاسی ہے یا پھر کہتے ہیں میاں سیاست نہ کرو، کام کی بات کرو۔
تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان تعلیمی، سماجی اور معاشی اعتبار سے خاصا پسماندہ تھا چنانچہ یہاں سیاسی روایت بھی کمزور تھی۔ کانگرس عوامی تنظیم اور جدوجہد کے ان گنت مراحل سے گزر کر سیاسی پختگی کو پہنچی تھی دوسری طرف مسلم لیگ کے اوراق میں عوامی رابطے، تنظیم اور جدوجہد کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تحریکِ پاکستان کے کارکن تو بے شمار ہیں لیکن چند مستثنیات کے ساتھ تحریکِ آزادی کا کارکن نسخے میں ڈالنے کو نہیں ملتا۔ مسلم لیگ کی تنظیمی کمزوری پر مستزاد تقسیم کی اکھاڑ پچھاڑ تھی۔لیاقت علی ایسے سٹپٹائے کہ اسمبلی کے فلور اور پھر جلسہ عام میں سہروردی کے خلاف قابلِ اعتراض زبان استعمال کی۔ چھوٹتے ہی ڈاکٹر خان صاحب کی وزارت برطرف کر دی گئی۔ سیاسی عمل کا آغاز غداری کے الزام سے ہو تو الٹے پاؤں کا یہ سفر جمہوریت کی بجائے آمریت پہ ختم ہوتا ہے۔ پاکستان کی بانی جماعت عوام کے اعتماد کی بجائے حیلے بہانوں سے حکومت کرنے کا سوچنے لگی۔ ریاست کے جدید نمونے میں آئینی اور جمہوری عمل سے انحراف اندھیری رات میں دروازہ کھلا چھوڑنے کے مترادف ہے۔ ایسے گھر میں چور اور درندے گھس آتے ہیں۔ افسر شاہی نے سوچا کہ اگر آئین، زبان اور قومیتوں پر لڑتے جھگڑتے سیاست دانوں نے عوامی تائید کے بغیر ہی حکومت کرنا ہے تو پھر انتظامی مہارت اور تجربے سے بہرہ ور افسر شاہی کیوں نہ حکومت کرے۔ پھر جلد ہی بابو صاحبان کی انگلی پکڑے فوج اقتدار میں چلی آئی۔ دلیل یہ کہ فوج ایک منظم ادارہ ہے جو پارلیمانی ہلڑ بازی کی بجائے مستعدی سے مسائل حل کر کے ملک کو سیدھے راستے پر ڈال دے گا۔
اس میں اڑچن یہ ہے کہ اگر غیر جمہوری اور غیر سیاسی تدابیر سے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو پھر اقتدار دوبارہ سیاستدانوں کے سپرد کیوں کیا جائے؟ سو غیر نمائندہ حکمرانوں کا ایک اہم منصبی فریضہ جمہوریت کی مذمت اور سیاستدانوں کی کردار کشی قرار پایا۔ 1958ء کے بعد سے ہر فوجی حکومت کل وقتی بنیادوں پر یہ کام تندہی سے کرتی چلی آ رہی ہے۔ دوسری طرف اقتدار میں آنے والی کوئی بھی سیاسی قیادت اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود اپنی قومی فوج کی سرعام مذمت نہیں کر سکتی۔ اس کشمکش کا حتمی نتیجہ سیاسی عمل سے برگشتگی کی صورت میں برآمد ہوا۔ جمہوریت کی طرف پیش رفت سیدھی شاہراہ پر مسلسل سفر نہیں ہے۔ جمہوری عمل طویل، صبر آزماء اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ معاشرتی ارتقا میں ہزار رکاوٹیں آتی ہیں لیکن جمہوریت کا لطیف دودھ تیر بہدف صدری نسخوں کی ملاوٹ قبول نہیں کرتا۔سیاسی کار کنوں کو پختگی تک پہنچنے کے لیے ایک عمر درکار ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ ہوتا رہا کہ جتنی دیر میں سیاسی قیادت کی ایک نسل تیار ہوتی ہے اگلی فوجی حکومت دھڑن تختہ کرنے کو آن موجود ہوتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد تو گویا اس رہزنی کا کھٹکہ بھی نہیں رہا۔ تمدنی قوتوں پر عسکری بالا دستی کی ربع صدی دیکھ لینے کے بعد صحافیوں، وکلاء، سول افسروں اور پیشہ وارانہ طبقات کی بڑی تعداد نے گویا ماورائے آئین حکمرانی کے ساتھ ان کہا سمجھوتہ کر لیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ طویل خشک سالی کے باعث پانی کی سطح اتنی نیچے چلی گئی کہ مستقل بنجر پن نے آ لیا۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات شخصی سیاست کا نقطۂ آغاز تھے۔ ذات پات اور شخصی اثر و نفوذ کی بنیاد پر سیاست کا نقطۂ اختتام 2002ء کے انتخابات میں سامنے آیا جب کسی سیاسی جماعت نے منشور تک پیش کرنے کی زحمت نہیں کی۔ حتٰی کہ پورے ملک میں ایک بھی بڑا جلسہ منعقد نہیں ہوا۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت نے فوجی بالادستی میں اپنے شعور کی آنکھ کھولی تھی۔ آج پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت یا رہنماء ایسا نہیں جس نے کہیں نا کہیں غیر جمہوری یا غیر آئینی سلسلۂ جنبانی یا سمجھوتے نہ کیے ہوں۔ ٹریڈ یونینوں، صحافتی تنظیموں، بار کونسلوں اور اعلٰی تعلیمی اداروں میں سیاسی شعور کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔سیاسی بیداری کے ان سرچشموں کو یا تو سایۂ عاطفت میں لے لیا گیا ہے یا ان کے پر کاٹ دیۓ گۓ ہیں۔ پاکستان میں کسی منتخب حکومت نے اپنی آئنی مدت پوری نہیں کی۔ رائے دہندگان کبھی کسی برسراقتدار جماعت کو ووٹ کے ذریعے تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ حتٰی کہ جن انتخابات میں کوئی متحارب فریق اقتدار میں نہیں تھا، رائے دہندگان ٹھیک ٹھیک جانتے تھے کہ ان دیکھی مقتدر قوتوں کی جانب سے کس جماعت کو اذنِ اقتدار ملا ہے۔ پاکستان میں کوئی انتخاب دھاندلی کے الزامات سے خالی نہیں رہا کیونکہ خود مختار اور غیر جانبدار الیکشن کمشن کی روایت موجود نہیں ہے۔ فی الوقت سیاسی منظر نامے میں سیاسی کارکن نام کی جنس معدوم ہے۔ جماعتی وابستگی کی حقیقت صرف یہ ہے کہ بیشتر انتخابی حلقوں میں روایتی حریف خاندانوں کو نمائشی طور پر کسی سیاسی جماعت کی مدد درکار ہوتی ہے۔ مقابلہ صرف یہ ہے کہ کون حکومتِ وقت کی سرپرستی جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ دوسرا حریف سیاسی بقا کے لیے وقتی طور پر حزبِ اختلاف کا رخ کر لیتا ہے۔ جن معاشروں میں ریاست کے تنخواہ دار ادارے خود کو حساس قرار دیں وہاں رائے عامہ بے حس ہو جایا کرتی ہے۔ جاندار رائے عامہ کی عدم موجودگی میں سیاسی عمل اپنی موت آپ مر جاتا ہے اور سیاسی قیادت نہیں پنپتی۔ کسی قوم کا، خاص طور پر اگر وہ سولہ کروڑ محنتی، باصلاحیت اور بنیادی طور پر دیانتدار انسانوں پر مبنی قوم ہو، تمدنی، علمی اور جمہوری امکان مردہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن موجودہ مایوس کن تصویر کی جڑیں ایک ہی بنیادی علت سے جڑی ہوئی ہیں کہ پاکستان میں ریاستی اداروں نے سماج پر تحکمانہ بالادستی قائم کر رکھی ہے۔ سیاسی عمل تو معاشرے کے گلی کوچوں سے جنم لیتا ہے۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں کی نا گفتہ بہ صورت حال کا پھلکا اڑانا تو زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔) | اسی بارے میں پاکستان:انتخابی دھاندلی کی تاریخ19 August, 2005 | قلم اور کالم پاکستان کی تاریخ کا مہلک باب16 August, 2005 | قلم اور کالم کشمیر پر پس پردہ مذاکرات کی تاریخ23 November, 2004 | آس پاس ایک بھولی داستان15 December, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||