پاکستان:انتخابی دھاندلی کی تاریخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انتخابی دھاندلیوں کی تاریخ وہاں ’ انتخابات منعقد کروانے کی روایات‘جتنی ہی پرانی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں بہت سے لوگ انیس سو ستر میں پہلی بار بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے عام انتخابات کو ہی شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ کہتے ہیں لیکن ایسا کہنا بھی ناانصافی ہی ہے۔ انیس سو ستر میں دھاندلی بعد از انتخابات یوں ہوئی کہ ان میں اکثریتی طور پر جیت کر آنیوالی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے سے بزور طاقت روک دیا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے فوراً ہی بعد انتخابات میں دھاندلی کا جھرلو محمد علی جناح کی زندگی میں ہی پھرنا شروع ہو گیا تھا جب دادو ضلع کے انتخابات میں جی ایم سید بمقابلہ قاضی محمد اکبر تھے۔ لیکن آج کے پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے اپنے ہی متعارف کروائے ہوئے شہری اداروں کے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی خبریں فیلڈ مارشل ایوب خان کے دنوں میں بنیادی جمہوریتوں عرف بی ڈی نظام میں فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی دھاندلیوں کی یاد دلاتی ہیں جب انتخابی دھاندلی پاکستان میں سیاسی ثقافت کے جزو لاینفک کے طور پر متعارف کروائی گئی تھی۔ جب گلاب کے پھول اور لالٹین کے مقابلے میں جھرلو،گلاب کے حق میں پھیرا گیا تھا۔ ایوب خان کی حمایتی کنونشن لیگ کو آپ آج کی ق لیگ ہی سمجھیں۔ انہی دنوں کے بعد سے مسلم لیگ کو ایک ایسی بیوہ کہا گیا جس کا عقد ثانی ہر دور کے فوجی آمر کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور آتا ہے اور پاکستان میں انیس سو ستتر کے قبل از وقت انتخابات میں وزیرِاعظم کے خلاف جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو کاغذات نامزدگی داخل کروانے سے پہلے سرکاری سرپرستی میں اغوا کر لیا گیا۔ کیا اگر مولانا جان محمد عباسی کو اغوا نہیں کیا جاتا تو وہ لاڑکانہ میں بھٹو سے جیت جاتے؟ اگر چہ وہ بلامقابلہ کامیاب ہوئے مگر مقدر کے ہاتھوں بھٹو کو ہار جانا ہی تھا۔ آج کی پی پی پی کے لیڈر خالد احمد کھرل تب لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر اور غلام مصطفی جتوئی سندھ کے اور صادق حسین قریشی پنجاب کے وزرائے اعلیٰ تھے۔’ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ جیسے یہ بزرگ بھٹو کے دوست تھے۔ ان حضرات نے بھٹو کو سو فی صد انتخابی فتح کی نوید سنائی۔ راوی لکھتے ہیں ’یار مروا دیا، بھٹو نے کہا تھا کچھ کم کرو۔‘
انیس سو ستتر کے انتخابات کے موقع پر حزب مخالف نے بھٹو حکومت پر زبردست دھاندلیوں کے الزامات لگائے۔ ملک میں بنیاد پرست، مذہبی اور دائيں بازو اور کچھ این ڈی پی اور تحریک استقلال جیسی’لبرل‘ جماعتوں کے اتحاد ’قومی اتحاد‘ کی تحریک نےگلی کوچوں میں تحریک چلائی جسے فوج اور دوسرے ریاستی اداروں نے کچلنے کی کوشش کی۔ بہت سے مقامات پر قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے کارکن زبردست تشدد میں ملوث پائے گئے جن میں کراچی، فیصل آباد، لاہور اور حیدرآباد شامل ہیں اور یہ شہر فوج کے حوالے کر کے ایک طرح کا منی مارشل لاء نافذ کردیا گیا جس نے جنرل ضیاء الحق کو پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا بہانہ فراہم کیا جو بھٹو کی معزولی اور بعد میں ان کی پھانسی پر منتج ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے ملک میں نوے دن کے اندر انتخابات کروا کے اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کر جانے کا وعدہ(جن وعدوں میں سے ایک اس نے کعبے میں کیا تھا) گیارہ سال تک محیط ہو گیا۔ سندھی زبان میں کہتے ہیں ’خدا ظالم کو لمبی رسی یا ڈھیل دے دیتا ہے‘۔ ضیاء الحق دو دفعہ انتخابات کروانے کا وعدہ کر کے مکر گئے۔ آخر کار انہوں نے اپنے آپ کو منتخب کروانے کیلیے ریفرنڈم کروایا جس میں بقول جنرل ضیاءالحق اور ان کی ہم رکاب میڈیا کے ننانوے فی صد ووٹ پڑے۔ا ن کے ریفرنڈم کے ڈبے بھرنے کیلے بیلٹ پر ٹھپے لگانے والوں میں جہاں انتخابی عملے کے لوگ شامل تھے تو وہاں خفیہ ایجنیسوں کے اہلکار اور ریٹرننگ افسر بھی اور ایسے مقامی سیاستدان بھی جو آج کل پیپلز پارٹی سمیت حزب مخالف اور حزب اقتدار کے بڑے بڑے نام ہیں۔ اسی ریفرنڈم کو دیکھ کر حبیب جالب نے کہا تھا: ’ہرطرف ہو کا عالم تھا ’ کیا آپ مسلمان ہیں ؟‘ جیسےاور اس طرح کے چند اور سوالات کا جواب ’ووٹر‘ کی ’ہاں میں دینے‘ کو اسے ’زبردست مثبت نتائج‘ کہتے ہوئے جنرل ضیاءالحق نے اپنے آپ کو آئندہ پانچ برس کے لیے ملک پر’منتخب صدر‘ کےطور پر مسلط کر دیا۔ بہت سے لوگوں نے ایسے طریقہ انتخابات کو ’فرشتوں‘ کے ڈبے بھر جانے سے تعبیر کیا۔ پھر پاکستان پر ان کے سائے تلے غیر جماعتی انتخابات ہوئے، مقصد پیپلز پارٹی کو آنے سے روکنا اور اپنی پسند کے وزیرِاعظم کو مسند پر بٹھانا تھا- بعد میں اسی وزیرِاعظم محمد خان جونیجو کو ان کے گاؤں والوں نے ’فاتح ضیاء الحق‘ قرار دیا۔ بہرحال پیپلز پارٹی انیس سو اٹھاسی کے انتخابات جیت کر اقتدار میں آئی تو سہی لیکن غلام اسحاق خان جہيز میں لائی جنہوں نے بیس مہینوں کے اندر بینظیر حکومت کی چھٹی کرکے وفاق میں غلام مصطفی جتوئی کو نگران وزیرِ اعظم اور سندھ میں جام صادق علی کو نگران وزیرِاعلی نامزد کیا۔
یہ تو اب اس وقت کے نگران وزیرِاعظم غلام مصطفی جتوئی خود اعتراف کرتے ہیں کہ انیس سو نوے کے انتخابات میں دھاندلیاں کی گئی تھیں۔ جام صادق علی نے تواس وقت کے صدر سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو بینظیر بھٹو کو لاڑکانہ سے بھی ہروا سکتے ہیں۔ انیس سو ستانوے میں نواز شریف اور ان کی پارٹی کو واقعی کتنا بھاری مینڈیٹ ملا تھا۔ وہ بھاری پن تو بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو ہی ہوا ہو گیا جب اس شام پاکستان کے افق سے تخت رائیونڈ کا سورج غروب ہوا اور اس کے بعد اب تک جو کچھ ہوا وہ ایک جیتی جاگتی تاریخ ہے یا ضیاء الحق کے دور کا دوسرا ایکٹ اس کا فیصلہ تو آنے والا مورخ ہی کر سکتا ہے لیکن اقلیتوں کے جداگانہ انتخابات کی جگہ مخلوط طرز انتخابات کو واپس لانے کی دل کھول کر داد نہ دینا بڑی بخیلی ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||