| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بھولی داستان
سن اکہتر کی جنگ کے دوران ہم بچوں نے بہت مزے کئے۔ ’سب اچھا‘ کا سائرن سن کر باہر گلی میں جا کر کھیلنا اور خطرے کا سائرن سن کر دوڑتے ہوئے گھر میں آنا، سارا دن اسی شغل میں گزر جاتا تھا۔ اور رات کو توپوں کی گھن گرج سن کر ڈر تو لگتا تھا لیکن پہلی دفعہ جنگ دیکھنے کا جوش اس سے کہیں زیادہ تھا۔ پھر ایک دن چچا شام سے پہلے گھر آ گئے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ہم سب گھبرا گئے کیونکہ ہم نے انہیں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ’ڈھاکہ فال ہو گیا‘ انہوں نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔ اس پر خواتین نے بھی رونا شروع کر دیا، لیکن بچوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ ڈھاکہ نام کی کوئی چیز تھی جو گر گئی، لیکن آخر اس میں رونے کی کیا بات ہے؟
کئی برس بعد جب مونچھ داڑھی نکل آئی اور ملکی تاریخ کا ادراک بھی ہو چکا تو بھی یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ہمارے بڑے اس روز کیوں روئے تھے۔ مشرقی پاکستان ایک بوجھ کے سوا اور تھا بھی کیا؟ ہر وقت وہاں سیلاب آیا رہتا اور مغربی حصے کا کام بس یہی رہ گیا تھا کہ متاثرہ لوگوں کو کمبل اور دوائیں بھجواتے رہیں۔ پھر بنگالیوں کو یہ زعم بھی تھا کہ ان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ ہے لہذا ملک کی زبان بنگلہ ہونی چاہئے، دارالحکومت ڈھاکہ میں ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ پنجابی اور پٹھان کو یہ شرمندگی بھی کھائے جاتی تھی کہ یہ چھوٹے قد اور سانولی رنگت کے مدقوق لوگ خود کو ان کا بھائی کہتے پھرتے ہیں۔ لیکن مغربی پاکستانی زیادہ سیانے بھی تھے اور شروع سے ہی جانتے تھے کہ یہ ہزار میل دور رہنے والی قوم زیادہ دیر ان کے ساتھ نہیں چل پائے گی اس لئے جب تک یہ تعلق رہا مغربی حصے نے مشرق سے بہت محدود تعلق رکھا، یعنی صرف لینے کا۔ سرکاری محکموں کو بھی اسی وجہ سے بنگالیوں سے پاک رکھا گیا۔ سن پچپن میں مرکزی سیکرٹیریٹ میں انیس سیکرٹری تھے جو سب کے سب مغربی پاکستانی تھے۔ اڑتیس جائنٹ سیکرٹری تھے جن میں سے تین کا تعلق مشرقی حصے سے تھا۔ ایک سو تئیس ڈپٹی سیکرٹریوں میں دس، اور پانچ سو دس انڈر سیکریٹریوں میں اڑتیس مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔
اسی طرح فوج کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانے کے لئے ضروری تھا کہ اسے بنگالیوں سے دور رکھا جائے۔ لہذا سن پچپن ہی کے ایک جائزے کے مطابق اعلیٰ ترین افسران کی تعداد کے حوالے سے بری فوج میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے، بحری فوج میں ایک اعشاریہ دو فیصد اور فضائیہ میں آٹھ اعشاریہ چھ فیصد۔ لیکن جب دسمبر سن ستر میں صرف انتخابی برتری جیسی چھوٹی سی بات کو لے کر بنگالی پورے ملک پر راج کرنے کا خواب دیکھنے لگے تو ضروری ہو گیا کہ ان کو سبق سکھایا جائے۔ پاکستان کی بہادر افواج، جو بہادر اسی لئے تھیں کہ ان میں بنگالی برائے نام ہی تھے، یہ ذمہ داری نبھانے کے لیے اپنا گولہ بارود لے کر مشرقی پاکستان جا پہنچیں اور پچیس مارچ سن اکہتر کو انہوں نے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔ اگلے ہی روز انتخاب جیتنے والی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی آزادی کا اعلان کر دیا اور اس کا نام بنگلہ دیش رکھا، یعنی انہوں نے مغربی ہموطنوں کی تشویش کو سچ کر دکھایا۔ جب یہ ذرا سا حجاب بھی اٹھ گیا تو غیور پاکستانی فوج نے مکتی باہنی (آزادی کے لئے لڑنے والوں) کی اچھی طرح خبر لینی شروع کی۔ اب الزام لگانے والے کہتے ہیں کہ فوج نے سویلین لوگوں کو بھی لوٹ مار اور قتل و غارت کا نشانہ بنایا لیکن یہ سراسر لغو بات ہے۔ پاکستانی فوج کے افسران کی ذمہ داری اور جمہوریت پسندی، اور جوانوں کی عوام دوستی سے کون واقف نہیں؟ لیکن پھر بیچ میں بھارت آ گیا۔ بنگالیوں کے بڑی تعداد میں بھارت میں پناہ لینے کو بنیاد بنا کر بھارتی فوج نے تین دسمبر سن اکہتر کو اپنی کارروائی شروع کی اور بارہ ہی دن میں پاکستان کے جوان لڑائی سے باز آ گئے۔ سولہ دسمبر کو افواج پاکستان کے پینتالیس ہزار افسروں اور جوانوں نے بھارتی فوج کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، اور چالیس سے پچاس ہزار سویلین مغربی پاکستانیوں کے ہمراہ بھارتی قیدی بنا لئے گئے۔ تو گویا یہ شکست خالصتاً فوج کی ناکامی تھی، خاص طور پر اس لیے بھی کہ اس وقت ملک کا صدر بھی ایک فوجی تھا؟ میں ایسا نہیں سمجھتا۔ سن اکہتر تک ملک کے دونوں حصوں کے درمیان تعلقات میں جس حد تک بد گمانی پیدا ہو چکی تھی، انتخابات کے بعد سے مغربی حصے نے جس سہولت سے بنگالی ووٹ کی قیمت مغربی پاکستانی کے ووٹ سے کم لگائی تھی، اور ایسی بپھری ہوئی آبادی میں، جو ایک چھوٹی سے پٹی کے علاوہ مکمل طور پر بھارت کے گھیرے میں ہے، اور جہاں پاکستانی فوج نے کبھی ہوائی اڈے یا دفاعی آلات نصب کرنا ضروری نہ سمجھا تھا، وہاں دنیا کی بہترین فوج کے لیے بھی بچنے کی صرف ایک صورت تھی: وہ یہ کہ بھارت لڑائی میں شامل نہ ہوتا۔ لیکن کیوں نہ ہوتا؟ بہت ہی بیوقوف دشمن بھی ایسے موقعے کو ہاتھ سے جانے نہ دیتا، اور یہ دشمن تو خاصا سمجھدار بھی ہے۔ تو پھر کیا یہ ہار سیاستدانوں کے کھاتے میں ڈالی جائے؟ بظاہر یہ لڑائی عوامی لیگ کے شیخ مجیب الرحمٰن اور پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان تھی، لیکن اس میں بہت سے اور کرداروں کے نام بھی آتے ہیں جن کی کوششوں یا حماقتوں سے ان دونوں انقلابی، ذہین اور انتہائی خود غرض سیاستدانوں کی ہار ہوئی گو آغاز میں دونوں جیتے تھے۔ دونوں نے اپنے اپنے ملک میں حکومت بنائی، دونوں نے پارلیمانی جمہوریت کو ختم کر کے صدارتی نظام نافذ کیا، دونوں نے سوشلزم کے نام پر صنعت کو قومیا لیا، دونوں نے ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی، دونوں پر دھاندلی اور طاقت کے استعمال کے الزامات لگے، دونوں کی عوامی مقبولیت بہت اوپر سے بہت نیچے گئی، اور دونوں فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ سیاست اور زندگی کی بازی ہارے ہوئے ان لوگوں پر کوئی کیا نیا الزام لگائے۔ میں نے کل ایک بنگلہ دیشی دوست سے پوچھا تمہارے ملک کے نوجوان پاکستان کے بارے کیا سوچتے ہیں؟ اس کا جواب تھا ’ کچھ بھی نہیں’۔ پاکستانی نوجوانوں کے بارے میں بھی عمومی طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش اور مشرقی پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے۔
آج اس سولہ دسمبر کی بتیسویں سالگرہ پر پاکستانی لوگوں کے دو ہی گروہ ملتے ہیں۔ ایک وہ جو کسی مردہ شخص پر (مجیب، بھٹو، بھاشانی، نیازی، ٹکا خان، یحییٰ وغیرہ) اس کا الزام لگا کر دکھی ہوتے ہیں، اور دوسرا گروہ جو زیادہ بڑا ہے، وہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے کبھی اس بارے میں کچھ سوچا ہی نہیں، یا جو سوچ کر بھی اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ خدا کی یہی مرضی تھی (اور قدرت اللہ شہاب سے یہ جملہ منسوب ہے کہ اپنی کوتاہیوں کو خدا کے کھاتے میں ڈالنا مسلمانوں کے عقیدے کا حصہ ہے) ۔ وہ آنسو جو میرے گھر کے بزرگوں نے سن اکہتر میں بہائے تھے، صرف اپنی بے بسی کا رونا تھا، کسی سے بچھڑنے کا غم نہیں تھا۔ ہارنا تو کسی کو اچھا نہیں لگتا نا؟ اور وہ بھی اس صورت میں کہ جس سے جنگ ہارے ہوں وہ آزادی کا جشن منا رہا ہو؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||