اب چتاؤنی کون دے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہماچل اور جموں کی درمیانی سرحد پر شوالک کے پہاڑی سلسلے سے ایک دریا نکلتا تھا جو پنجاب میں گورداسپور اور ہوشیار پور کے اضلاع کے بیچوں بیچ خطِ تقسیم کی طرح اُترتا، ستلج تک پہنچتا تھا۔ یہ دریائے بیاس تھا، پنجاب کا پانچواں دریا۔ اسی دریا کے مشرقی کنارے پر ہوشیار پور کے موضع خانپور میں منیر نیازی پیدا ہوا۔ جسے بیسویں صدی میں اقبال، راشد، فیض اور میرا جی کے بعد اُردو شاعری کا پانچواں دریا سمجھا گیا۔ منیر نیازی ستائیس دسمبر کی شام لاہور کی مٹّی میں اُتر گئے۔ سب دریا کہیں نہ کہیں اُتر جاتے ہیں۔ دریا اپنے پیچھے اک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور ہی نہیں، بہت سی زرخیز مٹّی بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ جس میں پھولوں سے لدی ڈالیوں پہ کوئلیں کوکتی ہیں، اس مٹی میں گھنے درختوں کے جنگل بھی پروان چڑھتے ہیں جن کی جانب سے امڈتی گھٹائیں دیکھ کر لڑکیاں خوش ہوتی ہیں۔ منیر نیازی نے اپنے پیچھے اردو کے تیرہ اور پنجابی کے چار مشعل مجموعے چھوڑے ہیں جن کی روشنی میں اردو اور پنجابی شاعری بہت دیر تک اور بہت دور تک چلتی رہے گی۔ اشفاق احمد اور منیر نیازی کی دوستی بھی رنگِ گُل اور بُوئے گُل کا قصہ ٹھہری۔ دونوں کی زندگی اور موت کا گراف کم و بیش ساتھ ساتھ چلا۔ ایک آدھ سال کا فرق بیچ میں تھا۔ معاشرتی پس منظر بھی کچھ ایسا مختلف نہیں تھا۔ دونوں کی ذات میں ذہانت سے پھوٹتی شرارت اور شرارت کی اوٹ سے جھانکتی بے پناہ خود اعتمادی جیسی صفات مُشترک تھیں۔ کس کو خبر کہ ذات کے تالاب میں کون سا کنکر کہاں ارتعاش پیدا کرتا ہے کہ آخری تصویر کے خدّوخال اتنے مختلف اُترتے ہیں۔ ایک نے روایت کے استھان پر دھونی رمائی۔ دوسرا شاہ حسین اور حافظ کے رنگ میں ڈوبا رخصت ہوا۔ زبان پر حمد لیے، ہاتھ میں شراب لیے۔ 1950 میں منیر نے لاہور کے دیال سنگھ کالج سے گریجویشن کی۔ تب اس درسگاہ کا پرنسپل وہ دیالو تھا جسے سید عابد علی عابد کہتے تھے۔ اسی برس لاہور کے ادبی حلقوں میں منیر کی رونمائی ہوئی۔ بہت قریب کی یہ آواز ساہیوال کے قصبے سے ’سات رنگ‘ نامی ہفت روزے کی صورت درا ہوئی تھی۔ یہ شاعری کاہے کو تھی۔ یہ تو ایک خواب کے دھندلانے اور بکھر جانے کی حکایت تھی۔ نوجوان شاعر نے تہذیب کے خواب کو متروکہ جائیدادوں کی ہڑبونگ میں پریشان ہوتے دیکھا تو اسے اپنی ذات کی پناہ میں لے لیا۔ شہر میں ریاکاری کی وبا پھیل جائے تو شاعر کے پاس دان کرنے کو اپنی ذات کے سوا کیا بچتا ہے۔ منیر نے اس اجتماعی دکھ کو درویش کے کمبل کی طرح کاندھے پر رکھا اور لاہور کی گلیوں میں نکل آیا۔ لاہور کی ادبی طیف کے ایک کنارے پر فیض تھا اور دوسرے سِرے پر ناصر ۔ اپنے عصر کا پورا شعور مگر لہجہ مُڑ مُڑ کے رفتگی سے آنکھ ملاتا ہوا۔ ایسے میں منیر کی آواز بہت چونکا دینے والی تھی۔ منفرد علامتیں، انوکھی تصویریں، بیان میں وارفتگی اور لحن میں نغمگی۔ فیض نے تقسیم کو داغ داغ اُجالے کا نام دیا۔ ناصر نے اسے ہجرت جانا۔ سلمان رُشدی نے اِسے نیم شب کا استعارہ دیا۔ منیر نیازی نے دو زمانوں اور دو زمینوں کو قطع کرتی اس لکیر کو شام کی اداسی بخشی۔
جب وہ درسگاہوں میں پرندوں کے پرِ پرواز پہ گرہ باندھنے والوں کو ادب کی اقلیم میں دندناتے دیکھتا تھا تو انہیں مکروہ قرار دیتا تھا۔ انتظار حسین کے ناول ’بستی‘ میں کرامت اور افضال کے کرداروں کو اپنے دوٹوک جُملوں سے نیست و نابود کرنے والا عرفان کا کردار منیر نیازی ہی کا عکس ہے۔ منیر کے لہجے میں اک بہادر شخص کی للکار کے ساتھ جھنجھلاہٹ بھی شامل ہونے لگی۔ وہ خود کلامی کے ڈھنگ میں تجویز کرتا تھا کہ اس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہیے۔مگر اس کی تجویز تو یہ بھی تھی کہ شام آئی ہے شراب تیز پینا چاہیے۔ منیر نے تعّزز فروشوں کی ملامت سہی، اپنے خواب کو شعر میں حصار کیا اور جیتا رہا۔ اس کے شعر میں موجود اور وجود کے امکان نت نئے زاویوں سے حُسن کی تحسین بُنتے رہے۔ اس کی فنی مہارت پر بہت کُچھ لکھا جائے گا لیکن اُس کی یہی دین کیا کم ہے کہ نظم ہو یا غزل۔ اس کی شاعری میں سونگھنے، چکھنے، سُننے اور چھونے کی حسیں یوں ایک دوسرے کو جگاتی چلی جاتی ہیں کہ پڑھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رنگ خوشبوؤں کوپکارتے ہیں اور خوشبوئیں آوازوں کے تعاقب میں ہیں۔اردو شعر میں آنکھوں دیکھی تصویر تو بنتی آئی ہے، یوں پڑھنے والے کی سب حِسّوں سے ہمکنار ہوتی بونداباندی کہاں تھی جو شاعری کے صحن کو چمکاگئی، بیلوں کو گیلا کر گئی۔ منیر کی خوش قسمتی تھی کہ اُسے پڑھنے والوں تک بے پناہ رسائی نصیب ہوئی۔ غزل لکھی تو زبان زدِ عام، گیت لکھا تو بول نگر کے کونے کونے میں یوں پھیلے جیسے چاوڑی میں داغ کی غزل۔ کوئی برخود غلط شاعرہ ہو یا رسالے کا مُدیرِ شہیر، منیر کی منجنیق کا فقرہ جس پر چُست ہوا، وہ پھر زمین سے اٹھ نہیں پایا۔ منیر نے طویل زندگی پائی مگر وہ اپنے شہر سے لاتعلق نہیں ہوا سو اس نے غیرمتعلق ہونے کا عذاب نہیں دیکھا۔ بڑھتی ہوئی عمر نے صرف اتنا کیا کہ اب وہ محبت کرنے والوں کے بیچ اس شان سے رونق دیتا تھا جیسے قبیلے کا بوڑھا جنگجو اپنے لہجے کی توانائی اور داستان کی طلسمی کشش سے سننے والوں کی حیرت کو مہمیز کرتا ہے۔ گلیاں اجڑ گئی تھیں مگر پاسباں تو تھا۔ اب اردو شعر کے بچوں کو چوتھے کھونٹ جانے کی چتاؤنی کون دے گا؟ |
اسی بارے میں منیر نیازی کو دفن کر دیا گیا27 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی معاصرین کی نظر میں27 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی انتقال کر گئے26 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||