منیر نیازی کو دفن کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو اور پنجابی کے مشہور شاعر منیر نیازی کو بدھ کو لاہور کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کے جنازے میں بڑی تعداد میں شاعروں ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، اساتذہ، سرکاری ملازمین کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ منیر نیازی منگل کی شام انتقال کر گئے تھے اور بدھ کی صبح سے ہی ان کے گھر سوگواروں کی آمد شروع ہو گئی تھی اور جب ٹاؤن شپ سے ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر چکی تھی۔ منیر نیازی کی میت ایک ایمبولینس میں رکھ کر قریبی مسجد میں لائی گئی جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔ ان کی میت کو ایمبولینس میں ہی دو تین کلومیٹر دور ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں لے جایا گیا۔
ان کے کئی ہم عصر دانشور ادیب اور شاعر ان کی قبر کی ڈھیری مکمل ہونے اور اس پر پھول ڈالے جانے تک وہیں موجود رہے۔ قبرستان میں موجود شاعر و موسیقار خواجہ پرویز نے کہا کہ ’ادب کی آخری شمع کو دفن کرکے جارہا ہوں اب یہاں اندھیروں کےسوا کچھ نہیں ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ احمد ندیم قاسمی کے بعد منیر نیازی کی وفات سے ادب کے دونوں مینار گر چکے ہیں۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’ان دونوں کے اس جہان فانی سے رخصت ہونے کے بعد اب ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو کبھی پورا نہیں ہوسکے گا کیونکہ اب کوئی اچھا شاعر رہا نہ ادیب۔‘ ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلیں بھی یہ خلا پوری نہیں کر سکیں گی۔ شاعر اورکالم نویس حسن نثار نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ ابھی ابھی تاریخ کو دفن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منیر نیازی شاعر کے طور پر منفرد اور شخصیت میں انوکھے تھے وہ دیکھنے میں بھی جتنے خوبصورت تھے شاعری میں اتنے ہی خوبصورت تھے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ ان کا کون سا پہلو زیادہ خوبصورت تھا۔ صحافی شاعر اور ادیب سرفراز سید نے کہا کہ مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا کہ میں نے خود منیر نیازی کو مٹی میں دفن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس شہر کو خوبصورتی تین بڑے آدمیوں نے دی، فلم میں سنتوش کمار، کرکٹ میں فضل محمود اور شعر و سخن میں منیر نیازی۔ ’تینوں ایک جیسے بلندقامت سفید رنگت اور اپنے اپنے فن میں کامل تھے۔‘ مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ سوشل نہیں تھے میرے خیال میں ان کی عظمت کا راز یہی تھا کہ انہوں نے خود کو الگ رکھا۔ مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر عام شاعروں کی طرح وہ محفلوں میں دھکے کھاتے فوٹو بنواتے اور بیانات جاری کرتے تو کبھی اتنے بڑے شاعر نہ ہوتے۔ | اسی بارے میں منیر نیازی انتقال کر گئے26 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی معاصرین کی نظر میں27 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی نے ’شوق‘ پورا کرلیا27 December, 2006 | پاکستان دورِ حاضر کا بڑا شاعر27 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||