منیر نیازی معاصرین کی نظر میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر منیر نیازی منگل کی شام لاہور کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ ان کی شخصیت اور کلام کے بارے میں چند معاصرین نے یوں اظہار خیال کیا ہے۔ زمین دور سے تازہ دکھائی دیتی ہے
ممتاز نقاد ڈاکٹر سہیل احمد کہتے ہیں۔ ’منیر نیازی کی شاعری ایک طویل جلاوطنی کے بعد وطن کی پہلی جھلک دیکھنے سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس شاعری میں حیران کردینے اور بھولے ہوئے گم شدہ تجربوں کو زندہ کرنے کی ایک غیرمعمولی صلاحیت ہے۔۔۔‘ ممتاز ادیب انتظار حسین کا کہنا ہے کہ منیرنیازی کی شاعری میں نامعلوم کا خوف اور نامعلوم کے لیے کشِش کی صورت کچھ ایسی ہے جیسے آدم و حوا ابھی ابھی جنت سے نکل کر زمین پر آئے ہیں۔‘ بس اتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سب وہ کہتے ہیں۔ ’اس نے اپنے عہد کے اندر رہ کر ایک آفت زدہ شہر دریافت کیا ہے۔ اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں
انتظار حسین کے بقول منیر نیازی کا عہد منیر نیازی کا کوفہ ہے۔ پھر ہر پھر کر شہر کا ذکر بھی ایک معنی رکھتا ہے۔ اس سے شاعر کا اپنے ارد گرد کے ساتھ گہرے رشتے کا پتہ چلتا ہے۔ سویا ہوا تھا شہر کسی سانپ کی طرح شاعر اور نقاد سلیم الرحمن کا کہنا ہے کہ منیر نیازی کی شاعری کی تین بڑی علامتیں ہیں۔ ہوا، شام اور موت۔ صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر سلیم الرحمن کو ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ہوا کی آواز میں موت کی ندا سنائی دیتی ہے۔ جب تیز ہوا کے جھونکے آتے ہیں تو کچھ پیلی مرجھائی پتیاں ٹوٹ کر گر جاتی ہیں! ’ٹوٹا پتا ڈال سے لے گئی پون اُڑا کے‘۔ وہ کہتے ہیں۔’منیر مسافر بھی ہے تو، شام کا مسافر۔ کہتے ہیں سفر وسیلہ ظفر ہے۔ منیر کے ہاں تو سفر وسیلۂ خبر ہے۔ نامعلوم کی خبر۔‘ سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہو منیر نیازی ان خوش قسمت اہل فن میں سے تھے جنہیں ان کی زندگی میں ایک بڑا شاعر مانا گیا اور ان کی تعریف و تحسین کی گئی۔
ان کے پہلے مجموعے پر تبصرہ کرتےہوئے معروف ادیب اشفاق احمد لکھتے ہیں۔ ’منیر نے بات کی اور ختم کردی! سننے والے سوچنے پر مجبور ہوگئے اور پھر ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف، ذہن کے چلو میں قطرہ قطرہ ہو کر ٹپکنے لگا۔۔۔‘ آہ! یہ بارانی رات منیر کے ایک بڑے ہم عصر شاعر مجید امجد ان پر اپنے مضمون میں کہتے ہیں کہ ’اس کے احساسات کسی عالم بالا کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ اس کی اپنی زندگی کی سطح پر کھیلنے والی لہریں ہیں۔ انہی نازک، چنچل، بے تاب، دھڑکتی ہوئی لہروں کو اس نے شعروں کی سطروں میں ڈھال دیا ہے اور اس کوشش میں اس نے انسانی جذبے کے ایسے گریز پا پہلوؤں کو بھی اپنے شعر کے جادو سے اجاگر کردیا ہے جو اس سے پہلے اس طرح ادا نہیں ہوئے تھے۔‘ اشفاق احمد نے منیر نیازی کے بارے میں کہا تھا: ’وہ ان شاعروں کا آواگونی روپ ہے جو سنسار کے ایک کونے میں اپنی کلا جگا کر سالوں اور صدیوں کے نیچے نیچے کسی دوسری اور نکل جاتے ہیں۔‘ چھبیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو منیر نیازی کسی اور نکل گئے۔ انہوں نے کہا تھا۔ یاد بھی ہیں اے منیر اُس شام کی تنہائیاں | اسی بارے میں منیر نیازی انتقال کر گئے26 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی نے ’شوق‘ پورا کرلیا27 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||