منیر نیازی نے ’شوق‘ پورا کرلیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کُج اُنج وی راہواں اوکھیاں سن کُج گل وچ غم دا طوق وی سی کُج شہر دے لوک وی ظالم سن کُج مینوں مرن دا شوق وی سی منیر نیازی کے اس مشہور پنجابی قطعے کو بڑی آسانی سے اردو میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ کچھ یوں بھی راہیں مشکل تھیں چھبیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ کی شام لاہور کے ایک ہسپتال میں منیر نیازی نے مرنے کا یہ شوق پورا کر لیا۔ موت سے چند ہفتے قبل ایک محفل مذاکرہ میں ان سےمیری آخری ملاقات ہوئی تو انہوں نے تیس برس پہلے میرے ساتھ دیکھی ہوئی مشرقی یورپ کی ایک فلم ’ کیپریشس سمر‘ کو بہت یاد کیا اور بار بار مجھے یاد دلایا کہ تالاب میں بارش کی بوندیں گرنے کا منظر کتنا دلکش تھا۔ یہ ملاقات گزشتہ پینتیس برس کے دوران ہونے والی بے شمار ملاقاتوں میں سے محض ایک تھی لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ان سے میری آخری ملاقات ہے اور اس موقع پر مجھے ان سے ہونے والی اولین ملاقات یاد آ رہی ہے۔ سال تھا انیس سو بہتر اور میں طالبعلمی کا دور ختم کرکے ریڈیو پاکستان لاہور میں پروڈیوسر ہوچکا تھا۔ میرے ذمہ بچوں کا پروگرام تھا اور میں نے ایک سلسلہ وار انٹرویو شروع کر رکھا تھا جس میں مشہور و معروف لوگ آکر اپنے بچپن کے واقعات سنایا کرتے تھے۔ جب سیاستدان، کھلاڑی اور فنکار وغیرہ بھگت چکے تو شاعروں اور ادیبوں کی باری بھی آگئی اور سب سے پہلے منیر نیازی کو اپنے بچپن کا احوال سنانے کے لیے بلایا گیا۔ انہوں نے آتے ہی بچوں کو ایک جِن کا ہولناک واقعہ سنایا جو کہ صبح صبح ان کے محلے کی مسجد میں گھس آیا تھا۔ وہ سائیز میں اتنا بڑا تھا کہ اس کی کمر مسجد کی ایک دیوار سے لگی تھی اور پاؤں دوسری دیوار سے۔ جدید زمانے کے بچے یہ احوال سن کر ہنس پڑے اور پوچھنے لگے کہ پھر بعد میں کیا راز کُھلا۔ منیر نیازی ذرا غصے میں آگئے اور بولے کہ راز کیا ہونا تھا، وہ جن ہی تھا۔ اصلی جن۔ بچوں نے جب منیر نیازی کو سنجیدگی سے یہ کہتے سنا تو وہ ایک دم سہم گئے۔ اس پر منیر نیازی نے انہیں اس سے بھی زیادہ دہلا دینے والا ایک قصہ سنایا جس میں ایک پِچھل پیری گلی میں ان کا تعاقب کرتے کرتے ان کے گھر تک آگئی تھی۔ یہ سن کر تو بچوں کا حال برا ہوگیا۔ خوش قسمتی سے بچوں کی آپا جان یعنی کومپیئر کا کردار مسز ستنام محمود کرتی تھیں۔ انہوں نے بچوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑتی دیکھیں تو تسلی دینے کے انداز میں بولیں۔ ’بچو! شاعر کا تخیل بہت اونچا ہوتا ہے اور شاعر کی حقیقت عام آدمی کی حقیقت سے بہت مختلف ہوتی ہے۔۔۔‘ اور اس طرح بچوں کو بہلا پھسلا کر پروگرام کو’ٰانجام خیر‘ کی منزل تک پہنچایا گیا۔
منیر نیازی عام زندگی میں بے ساختہ جس طرح کی باتیں کرتے رہتے تھے اگر انہیں ریکارڈ کر کے بعد میں تحریری شکل دے دی جاتی تو اقوال زریں کا ایک خزانہ منظر عام پر آجاتا اور یہ مجموعہ شاید ان کی شعری کلیات سے زیادہ مقبول ہوجاتا۔ روز مرہ گفتگو میں وہ اپنے کچھ مخصوص محاورے بھی استعمال کرتے تھے اور کچھ الفاظ کے معانی انہوں نے اپنی سہولت کے لیے تبدیل کردیے تھے۔ مثلاً کسی آدمی کو جب وہ خوبصورت قرار دیتے تو اشارہ قطعاً اس کی شکل و شباہت کی طرف نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کی سیرت اور کردار کا حسن مراد ہوتی تھی۔ اسی طرح بدصورت آدمی سے مراد ایک بدخصلت، بدنیت اور ناقابل برداشت شخصیت ہوتی تھی خواہ وہ شکل و صورت میں حسینۂ عالم ہی کیوں نہ ہو۔ اس سلسلے کے بے شمار واقعات میں سے صرف ایک سنا دیتا ہوں۔ امرتسر ٹیلی وژن کی نشریات نئی نئی شروع ہوئی تھیں اور پاکستان میں لوگ بڑے بڑے اینٹینے لگا کر بڑے ذوق و شوق سے امرتسر کا بلیک اینڈ وائٹ سگنل وصول کرتے اور سارے کام چھوڑ کر وہاں کی نشریات دیکھتے تھے۔ منیرنیازی نے ایک شام چند دوستوں کو اپنے فیروز پور روڈ والے گھر میں مدعو کیا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ نیازی صاحب نے اپنے ہاتھ سے صحن میں چھڑکاؤ کیا۔ ایک میز لا کر رکھی اورمیز پر اپنا چھوٹے سائیز کا سفید و سیاہ ٹیلی ویژن لا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد میز کے گرد دوستوں کے لیے پانچ کرسیاں نیم دائرے میں رکھ دیں۔ پِھر انہوں نے ایک جگ میں پانی اور ایک پیالے میں برف کے ٹکڑے لا کر رکھے اور ایک ولایتی مشروب سے دوستوں کی تواضع شروع کر دی۔ جب دوستوں نے اس تقریب کی وجہ دریافت کی تو منیر نیازی مسکرا کر بولے۔ ’آج امرتسر ٹی وی سے امرتا پریتم ایک پروگرام پیش کرے گی۔ کتنی خوبصورت عورت ہے!‘ تھوڑی دیر میں پروگرام شروع ہوا تومنیر نیازی ساری خاطر تواضع چھوڑ کر پروگرام کی طرف متوجہ ہوگئے۔ امرتا پریتم کی گفتگو کا موضوع تھا ’پاکستان کے پنجابی شاعر‘۔ منیر نیازی کا خیال تھا کہ ابتداء انہی کے ذکر سے سے ہوگی لیکن خاتون نے ایک نسبتاً غیر معروف شاعر کے کلام سے آغاز کیا۔ اس پر منیر نیازی بولے۔ ’یہاں بھی مشاعرے والا پروٹوکول چل رہا ہے۔ میرا ذکر شاید آخر میں ہوگا۔‘ آدھا گھنٹہ پروگرام چلتا رہا لیکن نیازی صاحب کا ذکر نہ آیا۔ منیر نیازی کی نگاہیں حیرت اور بے یقینی کی کیفیت میں سکرین پر گڑی رہیں۔ آخر جب امرتا پریتم ان کا ذکر کیے بغیر رب راکھا کہہ کر رخصت ہوئیں تو منیر نیازی نے ٹی وی سے نگاہیں ہٹا کر پہلی بار دوستوں کی طرف دیکھا اور گمبھیر لہجے میں بولے۔ ’کتنی بدصورت عورت ہے، یہ!‘ چھبیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو لاہور کے ایک ہسپتال میں کئی خوبصورت اور بدصورت ڈاکٹروں اور نرسوں کے نرغے سے نکل کر منیر نیازی کی روح عالم جاودانی کی طرف پرواز کرگئی۔ اس وقت شہر میں بوندا باندی ہورہی تھی اور ہسپتال کے باہر چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں جمع ہونے والے پانی پر بارش کی بوندیں گر رہی تھیں۔ | اسی بارے میں منیر نیازی انتقال کر گئے26 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی معاصرین کی نظر میں27 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی کا آخری انٹرویو26 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||