منیر نیازی انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر منیر نیازی منگل کی شام لاہور کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر اناسی برس تھی۔ منیر نیازی کے بھانجے ڈاکٹر نعیم ترین نے بتایا کہ ان کے ماموں کو سانس کی تکلیف کے باعث جناح ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ ساڑھے آٹھ بجے شام ایمرجنسی وارڈ میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے۔ ان کی نماز جنازہ بدھ کو نماز ظہر کے بعد ٹاؤن شپ سیکٹر ون میں ادا کی جائے گی۔ منیر نیازی ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں انیس سو ستائیس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم پائی اور جنگ عظیم کے دوران میں ہندوستانی بحریہ میں بھرتی ہوگئے لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر گھر واپس آگئے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور آگئے۔
نقاد سلیم اختر کے بقول منیر نیازی نے جنگل سے وابستہ علامات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے استعمال کیا۔ انہوں نے جدید انسان کے روحانی خوف اور نفسی کرب کے اظہار کے لیے چڑیل اورچیل ایسی علامات استعمال کیں۔ نقاد سلیم اختر کہتے ہیں کہ منیر نیازی کی نظموں میں انسان کا دل جنگل کی تال پر دھرتا ہے اور ان کی مختصر نظموں کا یہ عالم ہے کہ گویا تلواروں کی آبداری نشتر میں بھر دی گئی ہو۔ اردو کے معروف ادیب اشفاق احمد نے منیر نیازی کی ایک کتاب میں ان پر مضمون میں لکھا ہے کہ منیر نیازی کا ایک ایک شعر، ایک ایک مصرع اور ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ ذہن کے پردے سے ٹکراتاہے اور اس کی لہروں کی گونج سے قوت سامعہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ان کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔ منیر نیازی نے پس ماندگان میں ایک بیوہ چھوڑی ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ | اسی بارے میں منیر نیازی نے ’شوق‘ پورا کرلیا27 December, 2006 | پاکستان منیر نیازی معاصرین کی نظر میں27 December, 2006 | پاکستان شوکت صدیقی انتقال کر گئے18 December, 2006 | فن فنکار سبحانی بایونس انتقال کرگئے31 May, 2006 | پاکستان استاد بسم اللہ خان انتقال کرگئے21 August, 2006 | فن فنکار احمد بشیر انتقال کر گئے 26 December, 2004 | پاکستان سندھی ادیب جمال ابڑو انتقال کر گئے01 July, 2004 | فن فنکار صحافی ضمیر نیازی انتقال کر گئے11 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||