احمد بشیر انتقال کر گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے معروف دانشور ، مصنف اور نقاد احمد بشیر سنیچر کی شب طویل علالت کے بعد لاہورمیں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر بیاسی سال تھی۔ ان کا جنازہ اتوار کو ان کی گلبرگ میں واقع رہائش گاہ سے اٹھایا جائے گا اور مین مارکیٹ کے جامع مسجد چوک میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ مرحوم طویل عرصے سے کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔ ان کی مشہور تصانیف میں خاکوں پر مبنی کتاب ’جو ملے تھے راستے میں‘ اور ’دل بھٹکے گا‘ شامل ہیں۔ ناول ’منزل منزل دل بھٹکے گا‘ اور انگریزی ناول ’ رقص کرتے بھیڑیے ‘(ڈانسنگ وولف)شامل ہیں۔ ان کے پسماندگان میں چار بیٹیاں ایک بیٹا اور بیوہ شامل ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں سنبل اور نیلم بشیر مصنفہ ہیں جبکہ ان کی ایک بیٹی بشریٰ انصاری ٹی وی کی معروف فنکارہ ہیں۔ خود انہوں نے ایک فلم نیلا پربت بنائی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||