BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 November, 2003, 16:22 GMT 21:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے بی ایس جعفری انتقال کر گئے
جعفری
وہ اپنے تصورات کا بے باکانہ اظہار کرتے تھے

پاکستان کے معروف صحافی اے بی ایس جعفری چار ماہ کی علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر چھہتر سال تھی۔ انہیں منگل کو ملک کے سینئر صحافیوں اور مداحوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں بعد نماز ظہر سپرد خاک کر دیا گیا۔

ان کا پورا نام اختر بن شاہد جعفری تھا اور وہ بھارت کے شہر بدایوں کے حکیم سید شاہد علی کے صاحبزادے تھے۔ ان کا خاندان پاکستان آنے سے پہلے مرادآباد جا بسا تھا۔

انہوں نے انیس سو سینتالیس میں دہلی کی ایک نیوز ایجنسی سے بحیثیت رپورٹر صحافت کا آغاز کیا اور اسی سال پاکستان کے قیام کی تقریب کی رپورٹنگ کرنے کے لیے پاکستان آئے لیکن پھر اس نئے ملک سے واپس نہیں جا سکے۔

انیس سو اٹھاون میں انہوں نے انگریزی کے معروف ترقی پسند اخبار روزنامہ ’پاکستان ٹائمز‘ سے بطور رپورٹر شمولیت اختیار کی اور مختلف حیثیتوں میں کام کرنے کے بعد انیس سو تہتر میں انہیں اخبار کے راولپنڈی ایڈیشن کی ادارت کے لیے منتخب کیا گیا۔

انیس سو اٹھہتر سے انیس سو اٹھاسی کے عرصے میں وہ’ کویت ٹائمز‘ کے مدیر رہے اور بعد میں پاکستان واپس آ کر روزنامہ ’دی مسلم‘ اور پھر ’پاکستان آبزرور‘ کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

انہوں نے کئی ایسے اخباروں کا اجراء بھی کیا جو زیادہ عرصہ شائع نہ ہو سکے۔ ان اخباروں میں کراچی سے شائع ہونے والا روزنامہ ٹریبیوں سرِ فہرست ہے۔

انہوں نے کراچی سے شائع ہونے والے روزنامہ ’دی فنانس‘ کی ادارت بھی کی لیکن اس اخبار کے مالکان کی وجہ سے کبھی بھی زیادہ سرگرمی سے حصہ نہیں لیا یہی وجہ تھی کہ اس اخبار میں کبھی بھی وہ رنگ نمایاں نہیں ہو سکا جو ان کی مخصوص ادارت کی شناخت تھا۔

انہوں نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے لیے بھی کام کیا تاہم بعد میں خود کو پاکستان کے روزنامہ ڈان، نیشن اور ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس کے لیے تـجزیئے لکھنے تک محدود کر لیا۔

’کویت ٹائمز‘ کی ادارت کے زمانے ہی میں انہیں گلے کے کینسر کا عارضہ لاحق ہوا جس کے آپریشن کے بعد انہیں بولنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اے بی ایس جعفری متعدد اخبارات کے مدیر ہونے کے علاوہ دس کتابوں کے مصنف و مرتب تھے

گزشتہ چار ماہ سے ان کا یہ عارضہ پھر عود کر آیا تھا اور ان کا علاج ہو رہا تھا۔

وہ آزادئی صحافت کے لیے کام کرنے والے پاکستان کے سرکردہ صحافیوں میں شامل تھے اور جنرل ضیاالحق کے دور میں لکھی گئی ان کی تحریروں کو آج بھی پڑھا اور یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوگواروں میں مداحوں کے علاوہ اہلیہ اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔

وہ دس کتابوں کے مصنف تھے اور ان کی تالیف ’ جناح بٹریڈ‘ یا جناح سے بے وفائی پاکستان کی تشکیل کے مقاصد اور ان سے انحراف کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے اور اس بناء پر خاصی متنازعہ بھی رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد