شاعر حفیظ تائب سپرد خاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو اور پنجابی زبان میں نعت لکھنے والے شاعر حفیظ تائب کو اتوار کو علامہ اقبال ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کے جنازہ میں پاکستان کے شاعروں ادیبوں علماء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ان کی عمر اکہتر برس تھی اور وہ کینسر کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ ان کا انتقال سنیچر کی رات کو ہوا۔ مرحوم نے دس سے زائد کتب لکھی تھیں۔ ان کا پہلا مجموعہ’صلو علیہ و آلہ‘ انیس سو اٹھتر میں شائع ہوا تھا۔ ان کی مشہور تصانیف میں ، وہی یایسن وہی طاحہٰ‘،’وسلم تسلیمہ‘، ’کوثریہ‘، اور ’سِک مِتراں دی ‘بھی شامل ہیں۔ ان کا شمار پاکستان میں نعت گوئی کو فروغ دینے والے بانی شعراء میں ہوتا ہے۔ انہیں نعت کے ایک اعلیٰ پایہ کے محقق اور تنقید نگار کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ فروغ نعت کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی دیا جا چکا ہے اس کے علاوہ انہیں نقوش ایوارڈ ، آدم جی ایوارڈ، ہمدرد فاؤنڈیشن ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈ دیے گئے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پنجابی میں بھی بطور پروفیسر خدمات انجام دیتے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||