استاد بسم اللہ خان انتقال کرگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے معروف شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان اکیانوے برس کی عمر میں اپنے آبائی شہر وارانسی میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال پر اترپردیش کی حکومت نے ایک روز کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے اور پوری ریاست میں ایک دن کی تعطیل کر دی گئی ہے۔ بسم اللہ خان کی آخری رسومات وارانسی میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔ ان کے سیکرٹری جاوید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں سے استاد بسم اللہ خان کی طبیعت خراب تھی اور انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں پیر کی علی الصبح انہیں دل کا شدید دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ بسم اللہ خان کے سیکرٹری کے مطابق اتوار کو وہ’اچھے موڈ‘میں تھے اور انہوں نے دلی میں انڈیا گیٹ پر شہنائی بجانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ استاد بسم اللہ خان کو ہندوستان کے سب سے بڑے اعزاز ’بھارت رتن‘سے بھی نوازا گیا تھا۔ شہنائی کے اپنے فن کے لیئے استاد بسم اللہ خان نے پوری دنیا میں شہرت حاصل کی۔ جہاں شہنائی روایتی طور پر شادی بیاہ اور مندروں میں عبادت کے وقت بجائی جاتی تھی وہیں استاد بسم اللہ خان نے اسے کلاسیکی موسیقی کی ایک ہیئت کی شکل میں اسے دنیا بھر میں ایک شناخت دلائی۔
استاد بسم اللہ خان کو گنگا جمنی تہذیب کا ایک اہم ستون تصور کیا جاتا تھا اور ان صحت کے لیئے جو لوگ دعائیں کر رہے تھے ان میں ہندو اور مسلم دونوں ہی شامل تھے۔ اتنی شہرت کے باوجود استاد بسم اللہ خان نے وارانسی میں اپنے چھوٹے سےگھر میں انتہائی سادگی کے ساتھ زندگی گزاری۔ چند ماہ قبل جب وارانسی کے ایک مندر میں بم دھماکے ہوئے تھے تو انہوں نے اس عمل کی کڑی مذمت بھی کی تھی۔ | اسی بارے میں کننڑ فلموں کے راج کمار نہیں رہے12 April, 2006 | فن فنکار ’رامائن‘ کے خالق انتقال کر گئے13 December, 2005 | فن فنکار پرویز مہدی انتقال کر گئے29 August, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||