شوکت صدیقی انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو کےممتاز ناول نگار شوکت صدیقی پیر کی شام کراچی میں تراسی سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ منگل کو بعد نماز ظہر ڈیفینس کے علاقے میں مسجدِ علی میں ادا کی جائے گی۔ شوکت صدیقی چار افسانوی مجموعوں اور چار ناولوں کےخالق تھے۔ ان کےناول ’خدا کی بستی‘ کو انتہائی مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا۔اس ناول کے لیے انہیں انیس سو ساٹھ میں آدمجی ادبی انعام بھی دیا گیا۔ انیس سو ستانوے میں انہیں ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ اور دو ہزار چار میں اکادمی ادبیات پاکستان کے ’کمالِ فن‘ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصےسےعلیل تھے۔ پچھلےدنوں ان کی طبیعت قدرے بہتر تھی اور انہوں نے اپنا آخری انٹرویو انتقال سے تین روز قبل بی بی سی اردو کو دیا تھا۔ انہوں نےسوگواران میں اہلیہ کےعلاوہ دو بیٹےاور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ شوکت صدیقی بیس مارچ انیس سو تئیس کو لکھنئو میں پیدا ہوئےاور انیس سو چھیالیس میں سیاسیات میں ایم اے کرنے کے بعد انیس سو پچاس میں کراچی آگئے۔ کراچی میں انیس سو باون میں ثریا بیگم سےشادی ہوئی۔ ناولوں اور متعدد کہانیوں کے مجموں کے خالق کے علاوہ علاوہ وہ اردو کےایک ممتاز صحافی بھی تسلیم کئےجاتے تھےاور متعدد نامور صحافی ان سےصحافت سیکھنےکا اعتراف کرتےہیں۔ وہ کئی ہفت روزہ اور روزنامہ اخبارات سےوابستہ رہے۔ تاہم عملی زندگی کا آغاز انیس سو چوالیس میں ماہنامہ ’ترکش‘ سے کیا۔ وہ روزنامہ ’مساوات‘ کراچی کے بانی ایڈیٹر اور روزنامہ ’مساوات‘ لاہور اور روزنامہ ’انجام‘ کےچیف ایڈیٹر بھی رہے۔ ایک عرصہ تک وہ ہفت روزہ ’الفتح‘ کراچی کےسربراہ بھی رہے جس اخبار میں کئی ادبی صحافیوں نےکام کیا جنہیں آج پاکستان کےبڑےصحافیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شوکت صدیقی کےافسانوی مجموعوں میں ’تیسرا آدمی‘ انیس سو باون، ’اندھیرا اور اندھیرا‘ انیس سو پچپن، ’راتوں کا شہر‘ انیس سو چھپن، ’کیمیا گر‘ انیس سو چوراسی جبکہ ناولوں میں ’کمیں گاہ‘ انیس سو چھپن، ’خدا کی بستی‘ انیس سو اٹھاون، ’جانگلوس‘ انیس سو اٹھاسی اور ’چار دیواری‘ انیس سو نوے میں شائع ہوئے۔ ’جانگلوس‘ ان کا ایک طویل ناول ہے جس کےاب تک کئی ضخیم حصےشائع ہو چکےہیں جسے پنجاب کی الف لیلیٰ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کےناول ’خدا کی بستی‘ کی چھیالیس ایڈیشن شائع ہوئےاور یہ اردو کا واحد ناول ہے جس کا بیالیس دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ ’خدا کی بستی‘ کو حال میں تیسری مرتبہ قومی ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا جبکہ ’جانگلوس‘ کے ٹی وی پروڈکشن کے حقوق بھی ایک نجی ٹی وی چینل خرید رہا تھا۔ | اسی بارے میں سبحانی بایونس انتقال کرگئے31 May, 2006 | پاکستان اداکار ادیب انتقال کر گئے27 May, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||