معاشرے اور حرم سرا میں انتخاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آرتھر کوئسلر نے ’جوگی اور کمیسار‘ میں انقلاب روس کے حوالے سے یورپ کے روشن خیال طبقے کا ردِ عمل بیان کرتے ہوئے لکھا کہ گویا لاسلکی ریڈیو پر آسمانی بادشاہت کے قیام کا اعلان نشر ہوگیا تھا۔ پاکستان کا قیام کچھ حلقوں کے لیے ایسی ہی ذہنی کیفیت کا پیغام لایا جن کا خیال تھا کہ انہیں اپنے پسندیدہ سیاسی اور معاشرتی رویوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک اکھاڑہ میسر آگیا ہے۔ انہی اصحاب میں لاہور کے ایک مولانا بھی تھے جو ہر روز انارکلی بازار میں ایک بڑی سی قینچی لیے کھڑے رہتے تھے۔ جس خاتون کے سر پر دوپٹہ نظر نہ آتا، یہ اُس کے بال کاٹنے کو دوڑتے۔ فیض صاحب نے دست ِصبا کا وہ شعر مولوی قینچی ہی کی شان میں ارزاں کیا تھا: دلبری ٹھہرا زبانِ خلق کھلوانے کا نام چھ عشرے بعد صورت حال میں صرف یہ فرق پڑا ہے کہ مولوی قینچی کی جگہ مولوی لہولہان سجادہ نشین ہیں۔ یہ صاحب ٹرانسپورٹ یونین کے عہدے دار ہوا کرتے تھے۔ کوئی بیس برس پہلے پنجاب میں ہر ویگن پر لکھا ہوتا تھا: مولوی لہولہان کو رہا کرو ورنہ....۔ اسلام آباد میں دو پیش اماموں کا اعلان جہاد اور فدائی حملوں کی دھمکی مولوی لہولہان کے اِس ’ورنہ‘ کی تشریح ہی تو ہے۔ 58 برس پہلے دستور ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما سریش چند چٹو پادھیا نے قراردادِ مقاصد کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر سیاست اور مذہب کو خلط ملط کیا جاتا رہا تو ایک دِن کوئی خدائی فوج دار ڈنڈا اُٹھائے آئے گا اور اللہ کا نام لے کر ریاست کو مفلوج کرکے رکھ دے گا۔ چٹو پادھیا کا نام تو پاکستانی تاریخ کی مفصل کتابوں میں بھی نہیں ملتا لیکن اُن کی پیش گوئی یوں پوری ہو رہی ہے کہ اسلام آباد پر خدائی فوج داروں کا ٹڈی دَل اُتر آیا ہے۔ وہ بھی جو باریش چہروں پر ڈھاٹے باندھے پھرتے ہیں، وہ بھی جو روشن خیال حکومت کی نیم روشن غلام گردشوں میں کہہ مُکرنیوں کے ذریعے تاریک خیالی کا ایجنڈہ آگے بڑھاتے ہیں اور وہ بھی جو اخبارات میں حقیقت اور واہمے کی، جمہوریت اور انتہاپسندی کی ایسی دلدل تیار کرتے ہیں کہ چےگویرا اور آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خواجہ خالد کے خدوخال کا فرق مٹ جاتا ہے۔
کچھ مبصرین اسلام آباد، ٹانک اور پارہ چنار میں انتہا پسندی کے پے در پے واقعات کا تعلق عدالتی بحران سے جوڑ رہے ہیں۔اُن کاخیال ہے کہ حکومت مُلا حضرات کو شہہ دے رہی ہے تاکہ عدالتی بحران سے توجہ ہٹائی جاسکے نیز کسی ممکنہ عالمی دباؤ کی شدت بھی کم کی جاسکے۔ تاہم کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ عدالتی بحران میں حکومتی موقف کو کمزور پا کر دارالحکومت کے مذہبی پیشوا موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جنرل مشرف کی رائے درست ہے کہ انتہا پسندوں کی تعداد چند ہزار ہے جب کہ ملک کے کروڑوں عوام اُن کے نقطہ نظر سے متفق نہیں ۔لیکن یہ کہتے ہوئے جنرل پرویز مشرف اس اَمر کو فراموش کردیتے ہیں کہ مٹھی بھر انتہا پسندوں کے پاس تو AK-47 کے انبار ہیں جب کہ ملک کی خاموش اکثریت کو سترہویں آئینی ترمیم سے بے بس کردیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ حفصہ مدرسے کی گرفتار معلمات تو اُسی روز رہا ہوجاتی ہیں جب کہ شمیم اختر اپنی بیٹی، بہو اور شیر خوار بچی کے ہمراہ تین روز تک لال مسجد میں محبوس رہتی ہے۔ 1995ءمیں افغانستان میں طالبان کی تحریک بھی متبادل عدلیہ اور نام نہاد فحاشی کے خلاف مہم سے شروع ہوئی تھی۔ اس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دُنیا کے کسی معاشرے میں فحاشی کو کوئی متفقہ تعریف ممکن نہیں اور پاکستان جیسی ریاست میں تو یہ کام اور بھی مشکل ہے جہاں قانون،گناہ اور جرم میں تمیز نہیں کرتا۔ جہاں مسلمان کی تعریف متعین کرنے میں 53 19سے73 19تک بیس سال لگے تھے، وہاں فحاشی کی تعریف کیسے متعین ہوگی؟
ڈاکٹر اسرار احمد کرکٹ کو فحش قرار دے چکے ہیں۔ طالبان حکومت میں گیند سے کھیلنے والے لڑکوں کو کوڑے لگائے جاتے تھے۔ پاکستانی یونیورسٹیوں میں شیکسپئیر اور ملٹن کو فحش قرار دیا جاچکا ہے۔ توبتہ النصوح میں ڈپٹی نذیر احمد نے شیخ سعدی پر فحاشی کا الزام دھرا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ تحفظ نسواں بل پر بحث کے دوران متحدہ مجلس عمل ’زِنا بالرضا‘ کی بجائے ’فحاشی‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر بضد تھی۔ فحاشی کا الزام وہ کمبل ہے جسے معاشرے پر ڈال کر مطلق العنانی کا ڈنڈہ گھمایا جاسکتا ہے۔ ملک کے عوام عدالتی نظام کی سُست روی سے اس درجہ بیزار ہیں کہ ان کی بڑی تعداد باقاعدہ عدالتوں کی بجائے جرگوں پر اعتماد کرتی ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ فتوؤں کی روشنی میں ہونے والے فوری انصاف میں کچھ طبقات کے لیے خاصی کشش ہو۔ عام آدمی تو تاریخ کا یہ سبق نہیں جانتا کہ فوری انصاف کا کوئی نظام انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔ فتوؤں کی تاریخی فہرست سے قطع نظر، ابھی چند ماہ پہلے تک بھارتی علما کے فتوے کی پرواز یہ تھی کہ زِنا بالجبر کا شکار ہونے والی بہو کو ملزم سُسر سے شادی کرنے کا حکم دیا جا رہا تھا۔ سماجی علوم کے ماہرین کے مطابق معاشرے کے اِرتقا کا راستہ اختلاف رائے، پُرامن مکالمے اور مختلف سماجی نمونوں کے تنوع سے ہموار ہوتا ہے۔ فتویٰ اپنی نوعیت کے اعتبار سے فکری یک رُخے پن اور یکسانیت پر مبنی معاشرے کی طرف لے جاتا ہے۔ حجاب کے رجحان ہی کو لیجیے۔ پاکستان کے کسی قانون میں خواتین کو پردے کی کسی شکل کا پابند نہیں کیا گیا چنانچہ پردے کو اختیار یا رَد کرنے والی پاکستانی خواتین کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتیں۔تاحال مغربی طرز زندگی اختیار کرنا بھی کوئی جرم نہیں۔ چنانچہ ریاست کا فرض ہے کہ قانون کے پابند شہریوں کو قانون کا تحفظ فراہم کیا جائے۔
گاہے گاہے ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ محکمہ تعلیم کے کسی برخود غلط ضلعی افسر کی رگِ اختیار پھڑکی اور اُنہوں نے تعلیمی اداروں میں لباس کے حوالے سے کچھ پابندیاں عائد کردیں۔ مری کی مال روڈ پر وہ تختی اب بھی لگی ہے جس میں ’حکم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ‘ مردوں کا نیکر پہن کر ہوا خوری کو نکلنا منع ہے۔ یہ رویہ البتہ نیا ہے کہ بندوبستی اضلاع میں حکومت نے دھمکیوں سے گھبرا کر طالبات کو حجاب بلکہ خیمہ پوشی کا پابند کیا ہے۔ صراحت سے کہا گیا ہے کہ فیشن ایبل برقعے کی بجائے شٹل کاک برقعہ اوڑھا جائے۔ اب فیشن تو کوئی متعین مظہر نہیں۔ فیشن کا مطلب ہے جو لوگوں کو مرغوب ہو۔ گویا اصل کِد عوام کی پسند سے ہے۔ اصولی طور پر تو چاہیے تھا کہ ایسی دھمکی آمیز مہم چلانے والوں کے خلاف نفرت انگیز تحریر و تقریر، بدامنی پھیلانے اور ترغیبِ جرم کے موجودہ قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی۔ تاہم عورت دشمنی کے اِن نمونوں کے سامنے سجدہ سہو کرنے میں صرف حکومت ہی شامل نہیں، وہ تعلیم یافتہ طبقات بھی شریک ہیں جنہوں نے اِن غیرقانونی اقدامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی۔ دوسری طرف تعلیم دشمنی کا جوش ایسا فراواں ہے کہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں درجنوں سکول اور کالج بند ہو چکے ہیں۔ ہمیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ گزشتہ سال تیمرگرہ میں قتل ہونے والی تین خواتین اساتذہ کے قاتلوں کا تعلق کس گروہ سے تھا اور نہ یہ معلوم ہوسکا کہ ٹانک کے فرض شناس پرنسپل اور پولیس افسر کے قتل پر کیا کارروائی ہوئی جنہوں نے طالب علموں کو جہاد کے لیے زبردستی بھرتی کرنے کی مزاحمت کی تھی۔ موجودہ مسئلہ ریاست کی نوعیت پر دو متضاد نقطہ ہائے نظر کا تصادم ہے۔ یہ مہذب معاشرے اور حرم سرا میں انتخاب کا سوال ہے۔ یہ جدید ریاست کا اُن عناصر کے ساتھ تصادم ہے جن کی تمدنی فکر زبردستی نکاح کرنے اور نکاح ٹوٹنے سے آگے نہیں جاتی۔ جن کا تبحرِ علمی ان دھمکی آمیز خطوں کی زبان اور املا سے ظاہر ہے جو بال کاٹنے کا کام کرنے اور سی ڈیز فروخت کرنے والوں کو بھیجے گئے ہیں۔
لال مسجد کے رہنما مولوی عبدالرشید نے اپنے اخباری کالم میں لکھا ہے کہ ’لائبریری کی نہ تو کوئی عظمت ہے، اور نہ تقدیس‘۔ گویا لوگوں کے کاروبار اور مکانات تقدیس کا درجہ نہیں رکھتے لہٰذا عظمتِ مذہب کے علم بردار اُن پر قبضہ کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ مولانا نے مذکورہ کالم میں سرکاری زمین پر قبضے کے لیے ’نظریہ ضرورت‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے۔ نظریہ ضرورت عدالت کے ایوانوں سے اجتماعی نفسیات میں سرایت کرتا حجروں تک آن پہنچا ہے۔ 13 اپریل چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی تاریخ سماعت ہے۔ یقینی طور پر حکومت اس دوران کوئی قدم اُٹھا کر امن و امان کی صورت حال کو مزید پیچیدہ نہیں کرنا چاہے گی۔ اس بیچ میں حفصہ مدرسے کی خواتین اور لال مسجد کے طالبان اپنی قوت کا اچھا خاصا مظاہرہ کرلیں گے اور پھر حکومتی حلقوں میں اپنے ہم خیالوں کے توسط سے سوچی سمجھی پسپائی اختیار کرلیں گے۔ اس دوران انہوں نے یہ تو جان ہی لیا ہوگا کہ پاکستانی ریاست اور روشن خیال طبقہ مذہبی عناصر سے ٹکراؤ کی ہمت رکھتا ہے یا بدستور سیاسی، قانونی اور معاشرتی منافقت کا خراج دیتا رہے گا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||