جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ 1958 ، اکتوبر کا مہینہ تھا۔ ایوب خان کوئی دس برس سے پسِ پردہ بندوق چھتیائے کھڑے تھے۔ بالآخر انہوں نے پردہ اُٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس دوران سیاسی قیادت کی کم نظری اور نااہلی پوری طرح واضح ہو چکی تھی۔ اسمبلیوں کی برطرفی، تدوینِ آئین میں تاخیر، انتخابات میں دھاندلی نیز انتظامی اہل کاروں کے ہاتھوں مقبول رہنمائوں کی تذلیل تک، سیاسی عمل کی کوئی ممکنہ بدنمائی ایسی نہیں تھی جو عوام نے دیکھ نہ لی ہو۔ اِس خطے میں عوام کا سیاسی شعور پہلے ہی کچھ ایسا توانا نہیں تھا۔ اب بالکل مفلوج ہو چکا تھا۔ نالیوں پر چونا گرایا جا رہا تھا،گوشت اور دودھ کی دکانوں پر جالیاں لگائی جا رہی تھیں۔ امرت دھارا نسخوں اور معجزاتی خوش فہمیوں کی دُنیا میں رہنے والوں کے لیے مارشل لاءگویا بجلی کا علاج تھا لیکن اس موڑ پر کہیں کہیں کوئی صاحبِ نظر سر نیہوڑائے لکھتا تھا : اس دور کی بساط پر ہر شہ کو مات ہے
یہ انجم رومانی تھے، سلطان پور لودھی کے مرنجاں مرنج مہاجر۔ ن م راشد نے لکھا،’مجھے فجر آئی ہے شہر میں، مگر شہر آج خاموش ہے‘۔ ناصر کاظمی کان لگائے غور سے سُن رہا تھا’اِن سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے‘ مگر قوم کے غالب ردعمل کی عکاسی ساغر صدیقی ہی نے کی۔ ٹھیک چالیس برس بعد سنہ 99 میں خاکی پوش بیرکوں سے نکل کر وزیر اعظم ہاؤس پہنچے تو پذیرائی کا رنگ کچھ مختلف نہیں تھا۔جمہوریت مانگنے والوں پر زبان طعن دراز کرنا آسان تھا۔ ضیاءالحق کی یبوست زدہ مذہبیت کے ستائے ہوئے روشن خیال تو دو کتوں کی شبیہ دیکھ کر ہی نہال ہوگئے۔ کسی کو پندرھویں آئینی ترمیم سے نجات کی خوشی تھی تو کوئی صاحبِ کارگل سے معجزوں کی توقع رکھتا تھا۔ کم ہی کسی کو یہ خبر تھی کہ گلی سے باہر تمام منظر بدل گئے تھے۔
اب عالمی حالات سیٹو اور سینٹو والے تھے اور نہ افغان جہاد کی انگیٹھی میں چنگاری باقی تھی۔بس اس کی راکھ کے ذرے تھے جو بین الاقوامی سرحدوں اور ریاستی تقاضوں سے بے نیاز گلی میں اڑ رہے تھے۔ پرویز مشرف کے اقتدار کا آغاز بہت مختلف حالات میں ہوا۔ 1998 کے جہادی فتوے، 1999 میں قندھار کے طیارہ ہائی جیکنگ اور گیارہ ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد نئے فوجی بندوبست کی مجبوریاں کھل کر سامنے آ گئیں۔ ایک طرف بیس برس سے نادیدہ کارروائیوں کی آڑ میں مالی مفادات اور فیصلہ کُن اختیارات کے مزے لوٹنے والے تھے تو دوسری طرف پاکستان کی عسکری قوتوں کا وہ بالائی حصہ تھا جو اقتدار کی چوٹی پر تو پہنچ گیا تھا مگر اُسے اپنی بقا کے لیے ممکن کی حدود کو مد نظر رکھنا تھا۔ سیاسی قیادت کو دورونِ خانہ سازشوں سے مفلوج کرنا اور ہے لیکن خود اقتدار کا بلا شرکت غیرے مالک ہونے کے بعد قومی اور بین الاقوامی نزاکتوں کی پھسلواں پگ ڈنڈیوں پر آگے بڑھنا احتیاط کے مختلف تقاضے رکھتا ہے۔ یہیں سے ہئیت مقتدرہ کے دوحصوں میں بنیادی اور ناقابل تصفیہ تضاد پیدا ہوا۔ برسراقتدار گروہ فوج کے دوررس داخلی مفادات سے روگردانی بھی نہیں کرسکتا اور بدلے ہوئے عالمی حالات میں گزشتہ پالیسیوں کو جوں کا توں بھی نہیں رکھ سکتا۔
اس پر طرہ یہ کہ گمراہ کن تعلیمی نصاب اور یک طرفہ ذرائع ابلاغ کی یلغار سے تشکیل پانے والی رائے عامہ عالمی سیاسی اور معاشی تقاضوں سے قطعی بے نیاز ہے اور آتش نمرود میں بےخوف و خطر کودنے کے سوا اپنے مفادات کے حصول کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں جانتی۔ وہ تو شاید آتش نمرود اور تابکار جہنم میں تمیز بھی نہیں کرسکتی۔ برسر اقتدار گروہ کی دوسری مجبوری ہر قیمت پر سیاسی عمل کو بے دست و پا کیے رکھنا ہے۔سابق فوجی حکمرانوں کی طرح پرویز مشرف بھی اپنی ذاتی قامت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اجتماعی عسکری قیادت کے نمائندے کے طور پر اقتدار میں آئے۔ سیاسی عمل کو ذرا سی بھی گنجائش دینے کا مطلب اپنی اصل اداراتی قوت سے انحراف تھا۔2001 کے بعد بین الاقوامی دباؤ اور بدلتے ہوئے علاقائی تناظر میں پرویز مشرف نے جو بھی قدم اُٹھایا، اسے کم ہمتی پر محمول کیا گیا۔ مذہبی قوتوں نے جہاد کے نام پر مالی امداد، تربیت یافتہ کارکنوں، جدید اسلحے، ماورائے ریاست تعلقات اور رائے عامہ میں کلیدی حیثیت کے جو فوائد حاصل کیے تھے،اُن کا رُخ مشرف کی ذات کی طرف کر دیا گیا۔
ابتدائی دو برس تک جنرل مشرف کے معتمد رفقاء پر چاند ماری ہوتی رہی لیکن ستمبر2001 کے بعد پرویز مشرف براہ راست تنقید کا نشانہ بننے لگے۔پاکستان میں یحییٰ خان اور ضیاءالحق سمیت کسی باوردی حکمران کو ذرائع ابلاغ میں ایسی کڑی تنقید کا نشانہ نہیں بننا پڑا۔ 2007 کے ابتدائی ہفتوں سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ جنرل مشرف مقبول سیاسی جماعتوں کے ساتھ کسی سمجھوتے کی بجائے اپنے آزمودہ رفقا کے ساتھ مطلق العنان اقتدار کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ معروف سیاسی قیادت کی غیر حاضری میں مذہبی قیادت سیاسی منظر پر اپنی گرفت مضبوط کر چکی ہے۔
مبصرین کے مطابق چیف جسٹس کے ساتھ اختلاف کی بنیادی وجہ نہ تو سٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ ہے اور نہ غیرقانونی طور پر گم شدہ شہریوں کا معاملہ۔ اس تضاد کی بنیاد یہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں اٹھنے والے آئینی سوالات کے ضمن میں مشرف حکومت چیف جسٹس پر مکمل اعتماد سے قاصر ہے۔ گزشتہ تجربات کی روشنی میں ایوان صدر کی یہ توقع بےبنیاد نہیں تھی کہ جسٹس افتخار کو انوارالحق، سعید الزمان صدیقی اور جسٹس یعقوب کی طرح چپکے سے رخصت کیا جا سکے گا۔ جسٹس افتخار کا واحد کارنامہ مستعفی ہونے سے انکار کرنا ہے۔ ممکنہ خدشات کے کھُل جانے کے بعد جسٹس افتخار کے انکار کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بعد کے واقعات اسی بد اعتمادی کا شاخسانہ تھے۔ اس معاملے کے زیر سماعت قانونی پہلو کچھ ایسی سیاسی اہمیت نہیں رکھتے۔ اصل بحران وہاں پیدا ہوا جب چیف جسٹس کے ساتھ تضاد میں حکومتی نقطۂ نظر کو کمزور پاتے ہوئے ہئیتِ مقتدرہ میں صدر مشرف کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے حلقوں نے اُنہیں بےبس کرنے کا فیصلہ کر لیا۔جنرل کے سیاسی حلیف نہ تو اُن کے نقطہ نظر سے کوئی قلبی تعلق رکھتے ہیں اور نہ سیاسی میدان میں صدر کا دفاع کرنے کی اہلیت سے بہرہ ور ہیں۔ مقتدر سیاسی جماعت کے سربراہ نے عدالتی بحران کو عدلیہ اور فوج کے درمیان کشمکش قرار دے کر حقیقت ہی بیان نہیں کی خود اپنی سیاسی قامت بھی متعین کی ہے۔ محمد علی دُرّانی نے ایوب کے وزیر اطلاعات وحید خان کا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ وصی ظفر کی کارکردگی پرویز مشرف کے ہاتھ مضبوط کرنے کی بجائے جگ ہنسائی کا سامان بنی ہے تو ارباب غلام رحیم کی مساعی مشرقی پاکستان کے سابق گورنر عبدالمنعم خان کی کارکردگی سے ملتی جلتی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس کی حاضری کے دوران دلچسپ مناظر دیکھنے میں آئے۔ دونوں معروف سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے اپنے کارکنوں کو سڑک پر آنے کی واضح کال نہیں دی۔
ڈیڑھ ہفتے پر محیط اس کشمکش کی باگ ڈور واضح طور پر نادیدہ قوتوں کے ہاتھ میں نظر آتی ہے۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر وکلا کے ساتھ معروف سیاسی اور جمہوری جماعتوں کے کارکن نہیں بلکہ مذہبی جماعتوں کے تربیت یافتہ کارکن پولیس سے متصادم تھے۔ موجودہ عدالتی اور سیاسی بحران میں مغربی قوتوں کی واضح لاتعلقی بھی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ حالات سے آگہی رکھنے والے اس بحران کے محرکات اور نتائج پر یکسو نہیں ہیں۔ معروف سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ مشرف حکومت سے کسی بامعنی مفاہمت کا وقت گزر چکا۔اب یہ ہئیتِ مقتدرہ کے مختلف حصوں کی باہمی کشمکش ہے۔ اوکاڑہ میں اپنے خلاف سازش کی دہائی دیتے پرویز مشرف کےخطاب سے مسٹر بھٹو کی وہ تقریر یاد آتی ہے جو اُنھوں نے راجا بازار، راولپنڈی میں سائرس وانس کا خط لہراتے ہوئے کی تھی۔ اقتدار کی تنہائی مکمل ہوچکی ہے۔ درختوں کی شاخوں کو اتنی خبر ہے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||