BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 September, 2006, 20:50 GMT 01:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاہدہ وزیرستان: کس کی جیت؟

یہ واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد پر اس معاہدے کی شرائط کا اطلاق نہیں ہوتا
پانچ ستمبر کو شمالی وزیرستان میں پاکستانی حکومت اور شدت پسند اسلامی بنیاد پرستوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ ابھی ذرائع ابلاغ اور طاقتور حلقوں میں طالبان کے خفتہ حامی ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہو پائے تھے کہ چھ ستمبر کو میجر جنرل شوکت سلطان کے ایک معصوم سے جملے نے گویا امن معاہدے کی ہوا نکال دی۔

مذکورہ امن معاہدے کا مکمل متن ذرائع ابلاغ کو جاری نہیں کیا گیا تاہم اس معاہدے کی مختلف ذرائع سے منظر عام پر آنے والی تفصیلات میں بے حد ابہام پایا جاتا ہے۔ وزیرستان معاہدے کا کمزور ترین پہلو یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں موجود مسلح انتہا پسندوں کی کارروائیوں کو افغانستان کے حالات سے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں لیکن اس معاہدے میں نہ تو افغان حکومت کا کوئی کردار ہے اور نہ وزیرستان کی سرحدوں سے پتھر بھر فاصلے پر موجود نیٹو افواج کو کوئی مقام دیا گیا ہے۔ اس معاہدے میں امریکہ کی سربراہی میں قائم دہشت گردی کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد کا بھی کوئی ذکر نہیں جس کی صفِ اول میں شمولیت کا حکومتِ پاکستان کو اشتیاق رہا کرتا ہے۔ اس صورت میں یہ امر واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد پر اس معاہدے کی شرائط کا اطلاق نہیں ہوتا۔

گزشتہ ماہ پاکستان، افغانستان اور نیٹو کے سہ فریقی مذاکرات میں بنیادی بحث افغانستان میں سرگرم مسلح عناصر کے گرم تعاقب پر محیط تھی۔ ان حالات میں مذکورہ جنگ بندی میں تنازعے کے اہم فریقوں کو نظرانداز کرنے سے معاہدے کی عملی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج نے مبینہ پاکستانی طالبان کے خلاف فوجی کارروائیاں بند کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس سے ایک طرف تو بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے خلاف عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف مہم سے دست برداری کا الزام لگانے کا موقع ملے گا اور دوسری طرف قبائلی علاقوں میں بیرونی مداخلت کا امکان بڑھ جائے گا۔

امن معاہدے کی مبینہ تفصیلات میں ایک دلچسپ شق یہ ہے کہ شمالی وزیرستان سے جملہ غیر ملکی عناصر کو باہر نکالا جائے گا اور جو باہر نہ جانا چاہیں انہیں پرامن شہریوں کی طرح قانون کے تابع رہنا ہو گا۔ اس شرط کے دو حصے ہیں اور دونوں باہم متصادم ہیں۔ چاروں طرف سے خشکی میں گھرے ہوئے وزیرستان کے ایک طرف افغانستان ہے اور دوسری طرف پاکستان۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وزیرستان سے باہر نکلنے والے غیر ملکی عناصر افغانستان اور پاکستان میں سے کس طرف کا رخ کریں گے۔

قبائلی علاقوں میں موجود بنیاد پرستوں کے حامی تو روز اول سے وزیرستان میں غیر ملکیوں کی موجودگی کی تردید کرتے آئے ہیں۔ ان کا موقف یہ رہا ہے کہ روس کے خلاف لڑائی کے دوران چند افراد یہاں آئے تھے جنہوں نے مقامی خواتین سے شادیاں کر لی ہیں اور مقامی باشندوں کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مذکورہ امن معاہدے کے معلوم متن میں معاہدے کی شرائط کے نفاذ کا طریقہ کار بیان نہیں کیا گیا چنانچہ فوج کی عدم موجودگی اور فوجی کارروائی سے تحفظ کی صورت میں طالبان کے یہ مقامی سرپرست کسی غیر ملکی کی موجودگی کس طرح تسلیم کریں گے۔

طالبان کے ساتھ امن کی گزشتہ کوششوں میں ایک متنازعہ نکتہ غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کا تھا۔ پانچ ستمبر کے معاہدے میں رجسٹریشن کا ذکر غائب ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق امن معاہدے پر مقامی طالبان کی مجلسِ شوری کے تین ارکان نے دستخط کیے ہیں۔ طالبان کے سیاسی رہنما حاجی عمر اور عسکری سالار گل بدر معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ حتٰی کہ طالبان کے مذہبی رہنماؤں ملا صادق نور، ملا دین دار اور مولوی عبدالحق نے بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ معلوم تفصیلات کے مطابق معاہدے کے متن میں القاعدہ، طالبان اور پاکستانی طالبان جیسی اصطلاحات شامل ہیں۔ تجزیہ نگاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ معاہدے کے دستخط کنندگان میں القاعدہ کی نمائندگی کون کرتا ہے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا اس معاہدے کے ذریعے پاکستان میں القاعدہ کی موجودگی کو باقاعدہ تسلیم کیا جا رہا ہے؟

مارچ 2004 سے افغان سرحد پر موجود 80 ہزار پاکستانی فوجی مسلح عناصر کو سرحد پار کرنے سے نہیں روک سکے۔ اس ضمن میں بارہا دشوار گزار جغرافیائی حقائق کا ذکر کیا گیا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں افغان حکومت اور نیٹو کے عسکری ذرائع پاکستانی سرحد کی طرف سے دراندازی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں ۔ کیا امن معاہدے کی مبہم شرائط کے پیش نظر ان الزامات کی شدت میں اضافہ نہیں ہو گا؟

معاہدے کی ایک دلچسپ شرط نام نہاد ٹارگٹ کلنگ پر پابندی ہے۔اس ضمن میں سرکاری ملازمین، قبائلی عمائدین اور صحافیوں کا صراحت سے ذکر کیا گیا ہے۔ وزیرستان کے مبینہ طالبان حالیہ مہینوں میں اساتذہ اور طالب علموں پر حملے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے جرائم پیشہ یا امریکی جاسوس جیسی تہمتیں رکھ کے پاکستانی شہریوں کی سر بریدہ لاشیں بجلی کے کھمبوں سے لٹکائی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں تین لاکھ ساٹھ ہزار شہری بستے ہیں۔ جنہیں قومی اسمبلی میں نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ 28 ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل شمالی علاقہ جات کو مقننہ میں نمائندگی حاصل نہیں۔صحافتی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس معاہدے کے ذریعے نام نہاد طالبان کو علاقے کے پرامن شہریوں پر من مانی کی اجازت دی جا رہی ہے۔ خبروں کے مطابق امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں صحافیوں کو تصویریں لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر پاکستان میں کیمرا خلافِ قانون نہیں تو یہ پابندی طالبان کے اثر و نفوز کی علامت شمار ہو گی۔

1996 میں اسامہ بن لادن سوڈان سے افغانستان ایک محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں آئے تھے۔ اگر 2006 میں انہیں وزیرستان کی صورت میں محفوظ پناہ گاہ میسر ہو تو گویا ان کے خواب پورے ہو گئے۔ افغان طالبان کو صرف تین ممالک تسلیم کرتے تھے۔ پاکستان تو بین الاقوامی برادری کا باضابطہ رکن ہے۔ یہ صورت حال کافی حیران کن ہو گی کہ پاکستانی حکومت اپنے ایک آئینی حصے پر ریاستی عملداری قائم کرنے کی مجاز تو نہیں ہو گی لیکن بین الاقوامی مداخلت کی صورت میں شدت پسندوں کے اندرونِ ملک حامیوں کی مذمت کا پہلا نشانہ پاکستانی حکومت ہو گی۔

جون 2002 سے انتہا پسند مذہبی سیاست کے حامی تسلسل سے قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسندوں سے گفت و شنید کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے ان حامیوں نے بلوچستان کے شوریدہ عناصر سے مذاکرات کے لیے کسی جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ بلوچستان میں کشیدگی کو وزیرستان میں مراعات بٹورنے کا جواز بنایا گیا ہے۔ نواب اکبر بگتی کا قتل ہو یا خواتین کے تحفظ کا مسودہ قانون، مذہبی سیاست کے علمبردار ان کھونٹیوں پر اپنا حقیقی ایجنڈا ٹانگنا نہیں بھولے۔

مذکورہ امن معاہدے کے ذریعے طالبان کے حامی حلقے ان کے لیے کچھ مہلت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ غالب امکان یہ ہے کہ پیچیدہ بحرانوں سے نبرد آزما حکومت کم سے کم ایک محاذ بند ہونے پر مطمعٰن ہو گی مگر اس میں دو سخن گسترانہ نکات آن پڑے ہیں۔ اول یہ کہ دہشت گردوں کے لیے اپنی فکری اور عملی مجبوریوں کے باعث ایک خاص مدت سے زیادہ خاموش رہنا ممکن نہیں ہو گا اور دوسرے یہ کہ اس معاہدے کے کیف و کم میں بین الاقوامی حقائق کو مدِ نظر نہیں رکھا گیا۔ جو محاذ بند کرنا تھے، وہ آگ اگل رہے ہیں اور جہاں دوستی کا گیت گایا جا رہا ہے وہاں بارود کے ڈھیر لگے ہیں۔ ایک منجھے ہوئے صحافتی ادارے نے میجر جنرل شوکت سلطان سے سوال و جواب کر کے دراصل یہ واضح کیا ہے کہ وزیرستان میں انتہا پسندوں کی موجودگی کوئی صدارتی ریفرنڈم نہیں جسے دلیل اور حقیقت کی آنکھوں پر پٹی باندھ کے تسلیم کر لیا جائے۔

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔)

فی سبیل اللہ فساد
شفقت کے ایف ایم پر سو مرتبہ پولیس ہلا کیوں؟
صدر جنرل پرویز مشرفصدر کے لیئے خطوط
کیا یہ مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی سعی ہے؟
بگٹی کی ہلاکت
پاکستان کے لیے آفاتِ ناگہانی کا اشارہ ؟
قاناقانا:قہر کے انگور
یہ بھونڈا مذاق اسرائیلی فوج ہی کر سکتی ہے
اخباری اشتہاراین جی اوز کا قصور
مذہبی عناصر مخالف کیوں؟ وجاہت مسعود
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد