BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 February, 2006, 11:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہٹو پولیس والو، چلو بیبیو‘

حبیب جالب 12 فروری 1983
پولیس افسر نے کہا اور پولیس والے حبیب جالب پر ٹوٹ پڑے
بارہ فروری 1983 کو حبیب جالب نے کیا دیکھا اور کیسے بیان کیا:

’آدھی گواہی کے خلاف خواتین کا جلوس ریگل چوک پر روک لیا گیا۔ خواتین چیف جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کو یاد داشت پیش کرنے کے لیے ہائی کورٹ جانا چاہتی تھیں۔

پولیس نے گھیرا ڈال لیا اور خواتین وہیں دھرنا دے کر بیٹھ گئیں۔ عاصمہ جہانگیر ہائی کورٹ آئیں۔ اس وقت میرے ساتھ عابد حسن منٹو، سید افضل حیدر اور اعتزاز احسن بھی بیٹھے ہوئے تھے۔

عاصمہ جہانگیر نے صورت حال بتا کر تجویز کیا کہ حبیب جالب کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔ یہ وہاں اپنا کلام سنا کر جلسہ جما دیں گے اور اس کے بعد ہم منتشر ہو جائیں گے اور ہماری عزت رہ جائےگی کیونکہ پولیس آگے جانے سے روک رہی ہے۔

میں ان کے ساتھ کار میں بیٹھ گیا۔ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر یہ جلوس نہ نکلا تو احتجاج غیر مؤثر ہو جائے گا۔

میں نے سوچا کہ اب میں جلسے جلوسوں کو جمانے اور منتشر کرنے کے لیے رہ گیا ہوں؟ میرا کام تو تحریک کو جاری رکھنا ہے۔ میرا یہی فریضہ ہے کہ احتجاج کا عمل جاری رہے۔

بارہ فروری 1983
بارہ فروری 1983 کو لاہور میں خواتین کا جلوس اور بینر

میں وہاں پہنچ گیا جہاں خواتین دھرنا مار کر بیٹھی تھیں۔ میں نے مختصر سی تقریر کی اور پھر خواتین کے بارے میں نظمیں سنانا شروع کیں۔ جب میں نظمیں سنا رہا تھا تو عورتوں کے چہروں پر خوشی کی جھلک تھی۔

کلام سنانے سے میرا مقصد ان کے حوصلے بڑھانا ہی تھا۔ اس دوران ایک ایس ایچ او نے آ کر کہا ’جالب صاحب،ادھر آئیے ذرا ہماری بات سنیے‘۔

عورتوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ ’اس کی بات مت سنیے‘۔

میں نے کہا کہ ’کوئی بات نہیں۔ میں اسے کیمپ جیل سے جانتا ہوں۔ اگر یہ مجھ سے کوئی بات کہنا چاہتا ہے تو اس کی بات سن لینی چاہیے‘۔

میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ ’ہاں فرمائیے‘۔

کہنے لگا کہ ’ان عورتوں کو وین میں میں بٹھا کر ہائی کورٹ لے چلتے ہیں‘۔

میں نے کہا کہ ’آخر پولیس والے ہی نکلے نا۔ میں جانتا ہوں کہ تم انہیں وین میں بٹھا کر تھانہ سول لائنز لے جاؤ گے‘۔

میں پھر اسی دائرے میں آ گیا جہاں عورتیں بیٹھی ہوئی تھی اور نظمیں سنانا شروع کر دیں۔

تمام عورتیں جوش کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور کہا:
’ہٹو پولیس والو، چلو بیبیو‘۔

میں نے ان کا رخ مال روڈ کی طرف موڑ دیا۔ وہ ہائی کورٹ کی طرف جا رہی تھیں کہ پولیس نے انہیں روک کر زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔

میں نے یہ صورت حال دیکھی تو وہاں کھڑے ایک ڈی ایس پی سے کہا ’یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہٹاؤ ان پولیس والوں کو‘۔

یہ سن کر اس نے ایک انسپکٹر سے کہا ’پکڑ لو اس حبیب جالب کو‘۔

اس انسپکٹر نے مجھے پکڑ لیا۔ چوہڑ کانے کے پندرہ بیس پولیس والوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ وہ بوٹوں سے پنڈلیوں پر ضربیں لگا رہے تھے اور ڈنڈے میری پیٹھ پر برسا رہے تھے۔ میرا گریبان اس انسپکٹر نے پکڑا ہوا تھا۔ میری واسکٹ کے اوپر والے بٹن بند تھے۔ میرا گلا اس کی مضبوط گرفت میں تھا۔ میری آنکھیں باہر آ رہی تھیں۔ میری حالت خراب ہوتی جا رہی تھی۔ موت میرے سر پر ناچ رہی تھی۔

پولیس والوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا
 چوہڑ کانے کے پندرہ بیس پولیس والوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ وہ بوٹوں سے پنڈلیوں پر ضربیں لگا رہے تھے اور ڈنڈے میری پیٹھ پر برسا رہے تھے۔ میرا گریبان اس انسپکٹر نے پکڑا ہوا تھا

ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری جنرل وسیم چوہدری نے مجھے دیکھا تو آگے بڑھ کر انسپکٹر کی گرفت سے چھڑایا۔

میں نے اسے اشارے سے کہا کہ میری واسکٹ کے بٹن توڑ دے۔

اس نے واسکٹ کھول دی اور میرا سانس بحال ہوا۔

وسیم نے انسپکٹر کو موٹی سی گالی دی۔ اب پولیس والوں نے وسیم چوہدری کو پکڑ لیا اور اس کے ساتھ دھینگا مشتی شروع ہو گئی۔

پولیس والوں نے مجھے چھوڑا تو ڈان کے بیورو چیف نثار عثمانی مجھے سہارا دے کر لاہور پریس کلب میں لے گئے اور پانی پلایا۔خواتین کے اس پرامن جلوس میں بڑے نامور افراد کی مائیں بہنیں شریک تھیں۔

اعتزاز احسن کی والدہ کے علاوہ ان کی اہلیہ بشری اعتزاز بھی تھی۔ خدیجہ گوہر کے ساتھ ان کی بیٹی مدیحہ گوہر تھیں۔ ملک غلام جیلانی اور جنرل مٹھا کی بیٹیاں تھیں۔ ایس ایم ظفر کی اہلیہ بھی تھیں۔ مزدور خواتین تھیں۔ سیاسی کارکن شاہدہ جبیں، ساجدہ میر کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کی طالبات تھیں۔ جلوس کی رپورٹنگ کے لیے بی بی سی کی کچھ صحافی خواتین بھی آئی ہوئی تھیں جنہوں نے یہ منظر دیکھا۔میں نے اس واقعے پر ذیل کے اشعار کہے تھے۔

بڑے بنے تھے جالب صاحب، پٹے سڑک کے بیچ
گالی کھائی، لاٹھی کھائی، گرے سڑک کے بیچ

کبھی گریباں چاک ہوا اور کبھی ہوا دل خوں
ہمیں تو یونہی ملے سخن کے صلے سڑک کے بیچ

جسم پہ جو زخموں کے نشاں ہیں، اپنے تمغے ہیں
ملی ہے ایسی داد وفا کی کسے سڑک کے بیچ

(بسترِمرگ پر طویل گفتگو سے اقتباس)

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو لاہور کے صحافی طاہر اصغر نے لیا تھا اور انہوں نے یہ غیر مطبوعہ اقتباس اس انٹرویو کے نوٹس سے تیار کیا ہے)

اسی بارے میں
خبر کا جبر
04 February, 2006 | قلم اور کالم
حدود آّرڈیننس اور حقوقِ نسواں
14 December, 2005 | قلم اور کالم
جب احمدیوں کا وجود جرم ٹھہرا
07 December, 2005 | پاکستان
’سنہ 65 کا جذبہ یا قوم کی توہین‘
22 November, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد