 | | | پاکستانی عدلیہ نے ایک بہت بڑی لڑائی جیتی ہے |
پاکستانی عدلیہ نے ایک بہت بڑی لڑائی ایسے ماحول میں جیتی ہے جب سیاسی جغرافیے پر تاحدِ نگاہ دیوالیہ پن چھایا ہوا ہے۔ چار ماہ کی تحریک کے پردے میں عام آدمی نے تمام سیاسی، قومیتی اور علاقائی ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر حصولِ انصاف، عزتِ نفس اور آئین و قانون کی بالادستی کی کچلی ہوئی خواہشات کے پانیوں میں جو تلاطم بپا کیا ہے اسے اب تک کوئی بھی منظم سیاسی دھارے میں نہیں بدل پایا ۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل نے چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک میں خاصی سرگرمی سے حصہ لیا اور وہ نو آزاد عدالتی نظام کے ذریعےاس تحریک کے ثمرات سمیٹنے کا بھی خواہش مند ہے۔لیکن کیا ایم ایم اے عام آدمی کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوسکے گا کہ موجودہ حالات میں سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں سے چمٹے رہنا کتنا ضروری ہے اور بیک وقت شکاری اور خرگوش کے ساتھ دوڑنے کے کرتب کی عوامی مفاد میں کتنی اہمیت ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی آئین و قانون کی بالادستی کی اس جدوجہد میں اچھا خاصا جوش و خروش دکھایا اور چیف جسٹس کی بحالی سے تین روز قبل خودکش حملے میں اپنے کارکنوں کی قربانی کا صدمہ بھی اٹھایا لیکن آئینی جدوجہد کی تحریک سے ابھرنے والی امنگوں کو سیاسی سرمائے میں بدلنے کی راہ میں بے نظیر بھٹو کی موجودہ سیٹ اپ برقرار رکھنے کی سمجھوتہ پسند خواہش سب سے بھاری پتھر ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے بھی اس تحریک میں خاصا مؤثر کردار ادا کیا لیکن اس کردار کو سراہتے ہوئے انیس سو اٹھانوے بھی یاد آجاتا ہے۔ جب حکومت نے سپریم کورٹ پر بھرپور حملہ کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کر ڈالا تھا اور یہ حکومت آج عدلیہ کی آزادی کے علمبردار نواز شریف کی تھی۔ عوامی نیشنل پارٹی بھی چار ماہ کی آئینی تحریک میں شریکِ سفر رہی اور بارہ مئی کو کراچی میں اس کے کئی حامی اس جرم میں ہلاک کیے گئے لیکن یہ جماعت بھی ملک گیر سطح پر نئی عوامی امنگوں کو پلیٹ فارم مہیا کرنے سے بظاہر معذور نظر آتی ہے۔
 | جواں سال سیاستدانوں کی کھیپ  کیا چاروں صوبوں کی پرجوش وکلاء قیادت، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی نمائندہ تنظیمیں اور اقتدار کی آلودگیوں سے فی الحال پاک جواں سال سیاستدانوں کی کھیپ ایک ملک گیر سیاسی جماعت کی صورت میں اکھٹی ہوسکتی ہے  |
پاکستان آج کئی اعتبار سے انیس سو اڑسٹھ جیسے حالات سے دوچار ہے۔ جب دس برس سے ایوب خان کا چہرہ دیکھ دیکھ کر تھک جانے والے عوام تبدیلی کے بخار میں پھنک رہے تھے اور کوئی روایتی جماعت یا چہرہ تازہ عوامی خواہشات کے معیار پر پورا نہیں اتر پارہا تھا۔ایسے میں یہ خلا ذوالفقار علی بھٹو کے جواں سال چہرے اور تازہ نعروں نے پرکیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں کیا ہوا۔ لیکن انیس سو اڑسٹھ میں جینے والے عام آدمی کو بھٹو نے ایک نئی سوچ ضرور دی۔آج کے پاکستان میں بھی صدر مشرف کے آٹھ سالہ دور سے اکتائے ہوئے اور بار بار آزمائی ہوئی سیاسی قیادت سے بیزار آدمی کو ایک نئے قومی پلیٹ فارم کی اشد ضرورت ہے۔ تو کیا چاروں صوبوں کی پرجوش وکلاء قیادت، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی نمائندہ تنظیمیں اور اقتدار کی آلودگیوں سے فی الحال پاک جواں سال سیاستدانوں کی کھیپ ایک ایسی ملک گیر سیاسی جماعت کی صورت میں اکھٹی ہوسکتی ہے جو چیف جسٹس کی لینڈ کروزر کے ٹائروں سے اٹھنے والے جوش و خروش کی گرد کو ایک برتن میں جمع کرسکے اور کروڑوں محروم آنکھوں کے پانی کو بے مائیگی کے سمندر میں جانے سے پہلے پہلے بنیادی حقوق اور آئین و قانون کی ہرقیمت پر بالادستی کے منشور کی جھیل میں ذخیرہ کر لے۔ جو لوگ آج کا کام کل پہ ٹال دیتے ہیں انہیں دوبارہ ایک اور رات سے گذرنا پڑتا ہے۔ |