مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اورنگ زیب عالمگیر کے بعد مغلیہ سلطنت کہنے کو تو مزید ڈیڑھ سو برس قائم رہی لیکن اس دوران حکومتی وقار جسے ان دنوں ریاستی رٹ کہا جاتا ہے اتنی تیزی سے زوال پذیر ہوا کہ مغلیہ دربار محض گتے کا فلمی سیٹ بن کے رہ گیا۔ جس کے پاس بھی سو پچاس مسلح لوگ ہوتے وہ رئیس، تعلقہ دار، صوبیدار یا نواب کا لقب اختیار کرلیتا اور وقتاً فوقتاً دہلی دربار سے وفاداری کا علامتی اظہار کرنے کے لیے تحائف ، نذرانے یا حاضری بھرتا رہتا۔ تختِ دہلی کے وارث کو محض اس بات سے دلچسپی رہ گئی کہ اس کی دربار داری، شاہی املاک کی آمدنی، محلات اور اس کے سینکڑوں مکینوں کا خرچہ چلتا رہے، شاہی ٹکسال اس کے نام کا سکہ جاری کرتی رہے، جمعہ کے خطبے میں اس کا نام لیا جاتا رہے اور اسے لال قلعے کا مالک تصور کیا جاتا رہے۔ ان شاہی مراعات و اختیارات کے عوض صوبیداروں اور دور دراز کے عمال کو کھلی چھوٹ مل گئی کہ وہ رعایا پر جو محصول لگانا چاہیں، جو سزا دینا چاہیں اور جس سے جو سلوک کرنا چاہیں ان کی مرضی۔ تختِ دہلی ان کے معاملات میں عملی مداخلت نہیں کرے گا۔ ہاں! بادشاہ یہ توقع ضرور رکھے گا کہ جب اسے یا اس کے دارالحکومت کو جاٹوں، مراٹھوں، روہیلوں یا ٹھگوں کے براہ راست چیلنج کا سامنا ہو تو صوبائی منصب دار بادشاہ کی کمک کو پہنچیں۔ اس کمزوری کے نتیجے میں بادشاہ بنگال، بہار، مارواڑ اور دکن کے خودمختار صوبیداروں، رجواڑوں اور مٹھی بھر طاقتور درباریوں کے احسانات تلے عموماً دبا رہتا۔ ریاستی رٹ کی کمزوری کی خبر عام ہوتی چلی گئی اور ہندوستان سے باہر بھی پہنچ گئی۔ چنانچہ ہندوستان کے اندر کے ہولکروں اور غلام قادر روہیلوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک کے نادرشاہوں، ابدالیوں اور پھر نکلسنوں اور ہڈسنوں نے اس کمزوری کا جی بھر کر جب چاہا فائدہ اٹھایا۔ مگر اتنی قیامتیں ٹوٹنے کے بعد بھی بادشاہ کے روزمرہ معمولات ویسے ہی رہے۔ شام کو شاہی قلعے کے جھروکے سے جمنا کا نظارہ، مشاعرے، مجرے، ہاتھی جلوس، القابات و خطابات کا اجراء سب کچھ بظاہر بدستور تھا اور پھر ایک دن گتے کا یہ فلمی سیٹ بھی پیک اپ ہوگیا۔ پچھلے کچھ دنوں سے میرے ساتھ یہ مسئلہ ہوگیا ہے کہ جب بھی میرے ذہن میں وزیرستان، ٹانک، باجوڑ، بلوچستان، اندرونِ سندھ، جنوبی پنجاب اور اسلام آباد کا تصور آتا ہے تو حال اور ماضی میرے ذہن میں بری طرح الجھ جاتا ہے۔ مغلیہ دہلی، اسلام آباد، ایسٹ انڈیا کمپنی کا جنرل نکلسن، امریکی رائن سی کروکر، مرہٹے، طالبان، جاٹ، بلوچ، شہنشاہ فرخ سیر، شوکت عزیز، لال قلعہ، لال مسجد، بہادر شاہ ظفر کے امراء، چوہدری شجاعت حسین، دہلی دربار، ایوانِ صدر، سپریم کورٹ، چاندنی چوک کی کوتوالی، بیت اللہ محسود، غلام قادر روہیلہ، پرویز الہی، شیواجی، غازی عبدالرشید، مرزا الہی بخش، جام یوسف۔۔۔۔۔۔سب ایک ساتھ ذہن کے پردے پر چل پڑتے ہیں اور میں گھبراہٹ میں ٹہلنا شروع کر دیتا ہوں۔ معلوم نہیں میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم ’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش 18 February, 2007 | قلم اور کالم یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم اللہ جانے یہ کیا ہے؟20 January, 2007 | قلم اور کالم ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں 14 January, 2007 | قلم اور کالم ’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘07 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||