BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 January, 2007, 16:48 GMT 21:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ چمن یونہی رہے گا

الفتح ملیشیا
الفتح اور حماس کی لڑائی میں درجنوں ہلاک ہو چکے ہیں
یہ تماشا پہلی دفعہ نہیں ہورہا۔اس لیے نہ تو کسی کو خوش ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی افسوس میں ہاتھ ملنے کی۔

یا تو یہ آپس میں لڑتے ہیں یاجب مشترکہ دشمن سامنے ہو تو اس سے لڑتے ہیں اور جب دشمن پسپا ہوجائے تو پھر آپس میں شروع ہوجاتے ہیں۔اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ بیرونی دشمن اور خود سے بھی ایک ساتھ لڑتے ہیں۔ یہ ہزاروں برس پرانی قبائیلی نفسیات ہے اور عرب بھی اس نفسیات سے مبرا نہیں ہیں۔

اب سے ڈیڑھ ہزار برس قبل پہلی مرتبہ یہ امید بندھی تھی کہ اسلام کا نیا اور انقلابی نظریہ اپنے پیروکاروں کے ہاتھوں قبائلیت کا لاشہ دفن کروانے میں کامیاب ہوجائے گا اور ان سب کو یکجائی میں پرودے گا۔لیکن عصبیت وہ عیار بھوت نکلا جس نے سب کو غچہ دے دیا۔ قبائلی سمبلز اور حسب نسب کی جگہ اس نے فرقے، شخصی انا اور اقتدار پسندی کا چولہ پہن لیا۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو چار میں سے تین خلفائے راشدین قتل نہ ہوتے۔حضرت علی اور حضرت عائشہ اور امیر معاویہ اور حضرت علی کے درمیان جمل اور صفین کی جنگوں میں ہزاروں صحابہ مارے نہ جاتے۔واقعہ کربلا کا وجود نہ ہوتا۔

بغداد کے تختِ عباسیہ پر بیٹھنے والے آدھے خلفا شہر پناہ کے دروازے پر اپنے ہی سگے بھائیوں کی جھولتی ہوئی لاش کے ایک جانب سرکٹے سور اور دوسری جانب کتے کی لاش نہ لٹکواتے۔

ہسپانیہ کے اموی ایک دوسرے کے خلاف عیسائی جنگجوؤوں کی مدد نہ طلب کرتے اور پھر سب کے سب انہی عیسائیوں کے ہاتھوں جوتے کھا کر نہ نکلتے۔ استنبول کے خاندان عثمانیہ میں یہ روائیت نہ پڑتی کہ جو خلیفہ بن جائے وہ اپنے باقی بھائیوں کا سر قلم کروادے یا تاحیات سنہری پنجرے میں رکھے۔

انہی عثمانی ترکوں کو عربوں سے پٹوانے والا کرنل لارنس عربوں کے منہ سے آزادی کا نوالہ نہ چھین سکتا۔ کروڑوں عرب دوبارہ محکوم نہ ہوتے اور ان محکوم عربوں کے ہوتے ہوئے چند لاکھ یہودی منہ مانگے داموں زمینیں خرید کر لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر نہ کرسکتے۔اور ان بے گھر فلسطینوں کا ستمبر انیس سو ستر میں اردن کی عرب فوج کے ہاتھوں، انیس سو چھہتر میں بیروت کے تل ازعتر کیمپ میں شامی عرب فوج کے ہاتھوں اور انیس سو بیاسی میں عرب عیسائیوں کے ہاتھوں قتلِ عام نہ ہوتا۔

عراق اور ایران کے دس لاکھ لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں نہ مرتے۔ایک عرب ملک عراق کے ہاتھوں دوسرے ملک کویت کو ہڑپ کرنے کی کوشش کے نتیجے میں امریکی افواج نہ آتیں۔عرب عرب کے سامنے ان افواج کے سائے میں نہ کھڑا ہوتا۔عراق کی جنگ نہ ہوتی۔شیعہ عرب اور سنی عرب ایک دوسرے کا گلا نہ کاٹ رھا ہوتا۔

مگر شائید میں غلط کہہ رھا ہوں۔اگر یہ نہ ہوتا تو کچھ اور ہوتا۔جب کوئی لڑنا چاہے تو بہانہ بھی سامنے آ جاتا ہے۔

فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے جو لڑائی قبیلے کے نام پر ہوتی تھی اب ملک، تنظیم اور نظریے کے نام پر ہوتی ہے۔پہلے چند مہینے لڑائی کے لئے حرام سمجھے جاتے تھے۔اب خون بہانے کے لئے ربیع الاول، رمضان، شوال اور محرم کی کوئی تمیز نہیں ہے۔سامنے کی مثال پی ایل او اور حماس کی ہے۔

اسی بارے میں
کتنا رفو کریں گے
18 December, 2006 | قلم اور کالم
’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘
07 January, 2007 | قلم اور کالم
’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘
19 November, 2006 | قلم اور کالم
ڈوپنگ کون کررہا ہے؟
29 October, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد