کتنا رفو کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرپشن پر نگاہ رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق اس وقت سالانہ عالمی فوجی اخراجات ایک ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔اس میں سے آدھی رقم امریکہ صرف کرتا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کا ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت میں عمل دخل کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سن دوہزار چار میں دو سو اڑسٹھ ارب ڈالر کے ہتھیار بیچے گئے جن میں سے ترانوے فیصد ہتھیار امریکہ اور یورپ کی چھہتر کمپنیوں نے فروخت کئے،جبکہ روس کی صرف چار کمپنیاں اس کاروبار میں شریک ہیں۔ امریکہ میں کئی برس سے یہ قانون نافذ ہے کہ تجارتی سودوں میں مسابقت کی دوڑ میں ترغیب کی خاطر رشوت یا کمیشن کے نام پر رقوم کی خفیہ ترسیل قابلِ سزا جرم ہے۔ برطانیہ میں اسی طرح کا قانون سن دوہزار دو سے نافذ ہے۔ فرانس اور سویڈن سمیت اسلحے کی تجارت میں پیش پیش دیگر یورپی ممالک نے بھی اسلحے کی صنعت میں بدعنوانی کی حوصلہ شکنی کے لئے بظاہر قانون سازی کر رکھی ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کنسٹرکشن اور پبلک ورکس کے شعبے کے بعد اسلحے کی صنعت بدعنوانی کے فروغ میں دوسرے نمبر پر ہے اور اسکے بعد آئیل اینڈ گیس کا سیکٹر آتا ہے۔ہر سال عالمی بینکنگ کھاتوں میں رشوت یا کمیشن کی جتنی رقم خاموشی سے ایک بینک اکاؤنٹ سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے اس میں سے اڑتیس فیصد کا تعلق اسلحے کی تجارت سے ہے۔جبکہ امریکی محکمہ تجارت کے خیال میں یہ شرح پچاس فیصد تک ہے۔ اسلحہ ساز کمپنیوں کے منافع کا بنیادی دارومدار سمندر پار مشرقِ وسطی، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے سیاستدانوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس، شاہی خانوادوں اور بیچ کے دلالوں پر ہے۔ اس منافع بخش مگر قانون کی گرفت سے آزاد گٹھ جوڑ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیشتر ممالک میں دفاعی بجٹ کو حساس قومی مفاد کی چادر میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے۔ملک کی اصل فوجی ضروریات اور دفاعی سودوں کی تفصیلات پارلیمنٹ یا کابینہ میں زیرِ بحث نہیں آتی ہیں۔ دفاعی اخراجات کو غیر دفاعی مدوں میں پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔اور بنیادی فیصلے ایک چھوٹے سے گروہ کے اندر ہوتے ہیں۔دفاعی خریداری اور فوجی اخراجات کے آزادانہ آڈٹ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور سول سوسائٹی اگر اس طرح کا مطالبہ کرے تو ریاست اور حکومت سے اسکی کٹمنٹ کو شبہے کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ باتیں مجھے اس لئے یاد آرہی ہیں کیونکہ برطانیہ کے سیریس فراڈ آفس نے گذشتہ ہفتے اچانک سعودی عرب کو کوئی چھ ارب پاؤنڈ مالیت کے بہتّر یورو فائٹر طیاروں کی فروخت کے سودے میں ممکنہ گھپلے کی ڈھائی برس سے جاری تحقیقات روک دیں۔اطلاعات کے مطابق یورو فائٹر فروخت کرنے والی برطانوی کمپنی بی اے ای سسٹمز کی دستاویزات سے عندیہ ملتا ہے کہ اس سودے کے عوض سعودی شاہی خاندان سے قربت رکھنے والے ایک اسلحہ دلال وافق سعید کے سوئس بینک اکاؤنٹ میں ساٹھ ملین پاؤنڈ کی رقم منتقل کی گئی تھی۔ کوئی تین ہفتے قبل سعودی حلقوں نے خبردار کیا کہ اگر سیریس فراڈ آفس کی تحقیقات جاری رہیں تو یورو فائٹر کی خریداری کا معاملہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے اور سعودی عرب فرانسیسی رفیل طیارے خریدنے پر غور کرسکتا ہے۔ اس وارننگ پر برطانوی سرکار میں کھلبلی مچ گئی۔کیونکہ یورو فائیٹر پروجیکٹ سے نہ صرف پانچ ہزار افراد کا براہ راست اور بیس ہزار کے لگ بھگ افراد کا سب کنٹریکٹ کی صورت میں بلاواسطہ روزگار وابستہ ہے بلکہ تحقیقات جاری رہنے کی صورت میں سعودی عرب سے تجارت میں مصروف دیگر برطانوی کمپنیوں کے مفادات کو بھی زک پہنچ سکتی تھی۔ برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلئیر نے تحقیقات ختم کرنے کے حق میں یہ دلیل دی کہ مسئلہ فلسطین اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب ایک قریبی اتحادی ہے۔اسکے علاوہ برطانیہ کے قومی اور اقتصادی مفادات اور دوطرفہ تعلقات کی طویل تاریخ کا بھی تقاضا ہے کہ اس معاملے کو یہیں ختم کردیا جائے۔
حزبِ اختلاف کنزرویٹو پارٹی کے رکن اور سن اسی کے عشرے میں اسلحے کی تجارت سے متعلق امور کے سابق وزیر جوناتھن ایٹکنز کا کہنا ہے کہ بی ای اے سسٹمز کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات اگر درست ہیں تب بھی تحقیقات روکنے کا فیصلہ سعودی عرب سے تعلقات کی حساسیت کے تناظر میں ایک درست فیصلہ ہے۔ یورو فائیٹر کی پیداوار سے منسلک علاقے لنکا شائیر سے لیبر رکن پارلیمان لنڈسے ہوئیل نے تحقیقات کے خاتمے کے فیصلے کو اپنے حلقے کے عوام کے لئے کرسمس کا تحفہ قرار دیا۔ یورو فائیٹر کی مذکورہ ڈیل دراصل انیس سو چھیاسی میں مارگریٹ تھیچر کے دور میں سعودی عرب سے ہونے والے الیمامہ معاہدے کا حصہ ہے۔اسلحے کی تجارت کی تاریخ کے اس سب سے بڑے معاہدے کی مالیت پچاس ارب پاؤنڈ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔جس کے تحت سعودی عرب کو نہ صرف ٹارنیڈو، ہاک اور یورو فائٹر فراہم کئے جانے تھے۔بلکہ فضائیہ کے لئے اڈوں کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی اسی معاہدے کا حصہ تھا۔یمامہ ڈیل کے دوران کمیشن یا رشوت ستانی کے ضمن میں اسوقت کی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر کے بیٹے مارک کا نام بھی برطانوی زرائع ابلاغ میں اچھلا تھا۔لیکن پھر معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ یمامہ ڈیل سے نو برس پہلے انیس سو ستتر میں لینڈ روور جیپیں بنانے والی برطانوی کمپنی برٹش لے لینڈ کا ایک سکینڈل بہت دنوں تک زیرِ بحث رھا۔کیونکہ سعودی نیشنل گارڈز کے لئے پانچ ملین ڈالر کی لینڈ روورز کی خریداری کے سودے میں امریکی بینک چیس مین ہٹن کی ایک سوئس شاخ میں مسٹر فستوق نامی سعودی شہری کے اکاؤنٹ میں سات لاکھ پاؤنڈ کمیشن جمع کرایا گیا تھا۔معلوم یہ ہوا کہ موصوف نیشنل گارڈز کے سربراہ شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے برادرِ نسبتی ہیں۔یہ وہی شہزادہ عبداللہ ہیں جو اسوقت کنگ عبداللہ بن عبدالعزیز ہیں۔ یہ حال آمریتوں کا نہیں جمہوریتوں اور نیم جمہوریتوں کا بھی ہے۔
انیس سو چھیاسی میں وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے دور میں بھارت نے سویڈن کی بوفورز کمپنی سے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر میں چار سو دس دورمار توپوں کی خریداری کا سودا کیا۔بظاہر یہ سودا ایک اطالوی دلال اوتاویو کتروچی اور ہندوستانی تاجر ون چڈھا کے توسط سے طے ہوا۔بری فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل سندرجی کا کہنا ہے کہ فوج بوفورز توپوں کے مقابلے میں فرانسیسی سوفما گن خریدنے کے حق میں تھی لیکن وزیرِ اعظم کے دفتر سے پڑنے والے دباؤ کے نتیجے میں فوج کو ہار ماننا پڑی۔اس زمانے میں سویڈن میں متعین بھارتی سفیر بی ایم اوزا کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رقم بہت اوپر تک بٹی ہے۔تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کا اندازہ ہے کہ اس سودے میں ڈھائی سو ملین ڈالر تک کا کمیشن تقسیم ہوا ۔اگرچہ اس سکینڈل کی کبھی بھی مکمل تحقیقات نہیں ہوسکیں پھر بھی انیس سو اناسی کے انتخابات میں بوفورز کا بھوت کانگریس کو چمٹ گیا اور اسے بھاری سیاسی زک اٹھانا پڑی۔کتروچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ملیشیا میں زندگی کے مزے لوٹ رھا ہے۔ اگست دو ہزار میں پاکستانی اخبار دی نیوز میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی جس میں وفاقی احتسابی ادارے نیب کے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ بیس سینئر فوجی افسروں کی فائلیں نیب کے پاس پڑی ہیں جن میں بری فوج کے تین، بحریہ کے دو اور فضائیہ کے ایک سابق سربراہ کی فائل بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیرِ تحقیق عرصے میں اسلحے کے سودوں پر کوئی پانچ سوستر کروڑ روپے یعنی تقریباً ایک ارب ڈالر کی بدعنوانی کا تخمینہ ہے۔ اس میں سب سے ہائی پروفائیل کیس ساڑھے نو سو ملین ڈالر مالیت کے فرانسیسی اگوستا آبدوزوں کی خریداری کے سودے کا ہے جس میں فرانسیسی کمپنی ڈی سی این نے تقریباً دس فیصد کمیشن کی ادائیگی کی اور فائدہ اٹھانے والوں میں آصف زرداری، ایڈمرل منصور الحق اور بحریہ کے کوئی چار دیگر افسروں کے نام لئے جاتے ہیں۔نیب کا کہنا ہے کہ اس نے ایڈمرل منصور الحق سے رقم وصول کرلی۔آصف زرداری کے خلاف کیس ثابت نہیں ہوسکا۔جبکہ نیول انٹیلی جینس کے ایک سابق ڈائریکٹر کموڈور شاہد کو کورٹ مارشل کرکے سات برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔لیکن انہوں نے عملاً یہ سزا صرف بارہ ہفتے اپنے گھر میں رہ کر بھگتی اور بحریہ کے نئے سربراہ ایڈمرل فصیح بخاری کے آتے ہی باقی سزا معاف ہوگئی۔ جنرل ضیا الحق نے امریکی ساختہ ابراہام ٹینک کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی اور اس زمانے کی اطلاعات کے مطابق سات سو ملین ڈالر کا سودا بھی آخری مراحل میں تھا۔جنرل ضیا کی آخری مصروفیت بہاولپور کے صحرا میں ابراہام ٹینک کا دوسرا اور آخری ٹرائیل دیکھنا تھی۔انکے بعد آنے والے فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ ابراہام کی خریداری کی جگہ چین کی مدد سے الخالد ٹینک بنانے کے حق میں تھے۔لیکن بعد میں آنے والے جنرل آصف نواز پولینڈ سے تین سو دس ٹی اسی ساختہ روسی ماڈل کے ٹینک چار سو پچاس ملین ڈالر میں خریدنے کے حامی تھے۔اور انکے بعد آنے والے جنرل جہانگیر کرامت نے ٹینکوں کی یہی ڈیل یوکرین سے کی اور تین سو بیس ٹینکوں کا سودا ساڑھے پانچ سو ملین ڈالر میں ہوا۔لیکن کہا جاتا ہے کہ عملی جامہ پہنتے پہنتے یہ ڈیل ملک کو ساڑھے چھ سو ملین ڈالر میں پڑی۔اس ڈیل میں عامل کردار کسی کرنل محمود نے ادا کیاجو جہانگیر کرامت کے بیج میٹ تھے۔میاں نواز شریف نےمیجر جنرل ذوا لفقار کو اس سودے کی چھان پھٹک کے سلسلے میں یوکرین اور آزر بائیجان بھیجا۔انہوں نے رپورٹ بھی مرتب کی مگر بعد میں انہیں واپڈا کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ تئیس مارچ دوہزار ایک کے ڈان اخبار میں ایاز امیر کے کالم میں اسی موضوع کو اٹھاتے ہوئے یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح بے نظیر بھٹو کے دور میں فرانسیسی میراج بتیس نئے طیاروں کی ڈیل میں دلچسپی لینے والے ایک دلال کو فضائیہ کے سربراہ ایر چیف مارشل عباس خٹک سے ملوانے کے عوض ایک بااثر صاحب کی اس دلال سے دس لاکھ روپے کی ڈیل ہوئی لیکن جب دو بلین ڈالر کا سودا پروان نہیں چڑھا تو دلال نے ان صاحب کو رقم کی ادائیگی سے انکار کردیا اور یوں دونوں کی لڑائی ہوگئی۔
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بعد ازاں چالیس سیکنڈ ہینڈ میراج خریدنے کا فیصلہ ہوا۔یہ ڈیل عباس خٹک کے زمانے میں ہی ہوئی۔اس وقت ڈائریکٹر جنرل ڈیفنس پروکیورمنٹ رئیر ایڈمرل سعید اختر تھے۔سودے کے بعد سعید اختر نے ریٹائرمنٹ لے لی اور یورپ چلے گئے۔رپورٹ کے مطابق اس سودے میں بیس ملین ڈالر کے لگ بھگ کمیشن لینے کا شبہہ کیا گیا۔اس تناظر میں جب وائس چیف آف ائیر سٹاف ایرمارشل ارشد چوہدری نے مبینہ طور پرصدر فاروق لغاری کو بے قاعدگیوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تو انہیں سبکدوش کردیا گیا۔ اسی دور میں آرمی کے لئے تین ہزار سات سو لینڈ روورز جیپیں خریدنے کا فیصلہ ہوا۔یہی جیپیں اسی دور میں بنگلہ دیش کی آرمی نے بھی خریدی تھیں۔پاکستان اور بنگلہ دیش نے فی لینڈروور کیا قیمت ادا کی اسکا فرق ہی سارا کھیل واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ ساؤتھ ایشیا ٹریبون میں اگست دوہزار تین میں ایک سابق فوجی افسر اور دفاعی تجزیہ کار اے ایچ امین کے نام سے ایک آرٹیکل شائع ہوا۔جس میں بتایا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں دفاعی سودوں اور دیگر گھپلوں کی تحقیقات کے مطالبے پر مبنی ایک پیٹیشن دائر کی گئی۔لیکن وہ سماعت کے لئے منظور نہ ہوسکی۔اس پیٹیشن میں دعوی کیا گیا کہ لینڈ روورز کی خریداری میں دو ارب روپے تک کا گھپلا ہوا۔جبکہ انیس سو چھیانوے میں آرمی کے لئے جی ایس نائٹی ساخت کی ایک ہزار سینتالیس جیپوں کی خریداری میں پانچ سو دس ملین روپے تک کا گھپلا ہوسکتا ہے۔کیونکہ ایک جیپ جس کی مارکیٹ ویلیو تیرہ ہزار ڈالر فی یونٹ تھی وہ بیس ہزار آٹھ سو اناسی ڈالر کے حساب سے خریدی گئی۔ جب نیب کا ادارہ تشکیل دیا گیا تو فوج اور عدلیہ کو اسکے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا۔جب نیب کے پہلے سربراہ جنرل امجد علی کو صرف نو ماہ بعد اس عہدے سے ہٹا کر دوبارہ کور کمانڈر بنادیا گیا تو دو ستمبر دو ہزار کو شائع ہونے والے برطانوی اخبار گارڈین نے اس پر خاصی حیرت کا اظہار کیا۔کیونکہ جنرل امجد کو نیب کا سربراہ بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ وہ ایک اصولی اور سخت گیر افسر تھے۔ مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم |
اسی بارے میں کب دستخط فرمائیےگا۔۔۔03 December, 2006 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم مچھلی پکڑنا سکھا دو15 October, 2006 | قلم اور کالم کہاں چلے گئے08 October, 2006 | قلم اور کالم سرکاری خود داری24 September, 2006 | قلم اور کالم امریکہ اور شیر22 October, 2006 | قلم اور کالم ’پہلے مرنا چاہیے تھا‘05 November, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||