کہاں چلے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کو ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا جو اس آٹھ اکتوبر کو ہر ٹی وی چینل ، تقریب اور اخباری صفحے پر دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ کوئی اور مخلوق تھی جو کدالوں اور ہاتھوں سے بالا کوٹِ، مظفر آباد اور باغ کی طرف جانے والے بند راستے کھولنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ وہ کچھ اور لوگ تھے جو کنکریٹ میں دبے بچوں، عورتوں اور مردوں کو کھینچنے کی کوشش کررہے تھے۔پھلوں اور سبزیوں کے ٹوٹے اور دبے ہوئے کریٹوں کی پھٹیاں توڑ توڑ کر زخمیوں کی ٹانگوں اور بازووں سے باندھ رہے تھے تاکہ ٹوٹی ہوئی ہڈی ہلنے نہ پائے۔ جنہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ بہتا خون کیسے روکا جاسکتا ہے۔انہیں تو بس اسوقت کپڑے سینے کی کچھ سوئیاں اور درختوں کے کانٹے میسر تھے جن سے وہ کھال سی رہے تھے۔اپنی قمیضوں کی پٹیاں بنا کر زخموں پر باندھ رہے تھے۔ملبے میں سے خوراک تلاش کرنے کی کوشش کررہے تھے تاکہ خود بھی روزہ افطار کرسکیں اور زخمیوں اور بچ جانے والے سکتہ زدوں کے منہ میں بھی کچھ ڈال سکیں۔
وہ کس قسم کے انسان تھے جنہوں نے پہلی خبر سنتے ہی اپنے کام کاج چھوڑ دیئے اور خوراک، دوائیں، کمبل اور راشن جمع کرنے میں جٹ گئے۔بغیر کسی کے کہے پیکٹ بنانے شروع کردیئے۔ٹرکوں میں سامان بھرنے لگے اور اسی سامان پر بیٹھ کر ان علاقوں کی جانب سینکڑوں کلومیٹر کا سفر شروع کردیا جہاں انہوں نے کبھی بھی جانے کا نہیں سوچا تھا۔انہیں آنے والے کئی روز تک یہ احساس نہیں تھا کہ دن کب شروع ہوا اور رات کب آ گئی۔ وہ لڑکیاں کون تھیں۔جنہوں نے کبھی اپنے شہر سے باہر قدم نہیں نکالا تھا لیکن ان کے والدین نے انہیں ایسے علاقوں میں جانے کی اجازت دے دی جہاں مرد بھی سفر کرنے سے پہلے ایک دفعہ ضرور سوچتا ہے۔ان لڑکیوں کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ جس علاقے میں ہیں اس کا جغرافیہ کیا ہے۔وہاں سے گھر کتنی دور ہے۔انہیں تو بس کمر سے دوپٹہ باندھے خیمے گاڑنے، کھانا بنانے اور دلاسہ دینے سے ہی فرصت نہ تھی۔ اور وہ اٹھارہ بیس برس کے لڑکے کون تھے جنہوں نے اپنے گھر میں کبھی ہل کر پانی تک نہیں پیا تھا مگر یہی لڑکے اپنی پیٹھ پر خوراک اور کپڑوں کا دس دس کلو وزن لادے لینڈ سلائڈنگ سے بند پہاڑی راستے پھلانگ رہے تھے۔ وہ ڈاکٹر اور نرسیں کہاں سے نازل ہوگئے تھے جن کے سامنے کئی دن زخمیوں کی کنوئیر بیلٹ چلتی رہی۔جنہیں خیموں میں قائم آپریشن تھیٹرز سے بیس بیس گھنٹے تک باہر نکلنے کی مہلت نہیں ملتی تھی۔اور وہ کون تھے جو اپنی لاکھوں کی پریکٹس چھوڑ کر کلینکس اور ہسپتالوں کی ساری مشینری ڈھو کر لے آئے۔ اور وہ عورت کہاں چلی گئی جو کینیڈا سے چھٹی لے کر ایبٹ آباد چلی آئی اور پھر اسے جگہ جگہ زخمی بچوں کو گیت سنانے، فروٹ باٹنے اور کہانیاں بتانے اور ہنسانے سے ہی فرصت نہیں مل سکی۔ آپ کو ان لوگوں کے نام تمغے اور شاباشی پانے والی کسی فہرست میں نہیں مل سکتے۔معلوم نہیں یہ لوگ کہاں سے اترتے ہیں اور پھر کہاں غائب ہوجاتے ہیں۔ | اسی بارے میں زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے05 November, 2005 | قلم اور کالم آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟13 November, 2005 | قلم اور کالم ’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے14 November, 2005 | قلم اور کالم زلزلہ زدگان کی امداد، لندن میں شو 01 December, 2005 | قلم اور کالم این جی اوز نے کیا بگاڑا ہے؟25 August, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||