زلزلہ زدگان کی امداد، لندن میں شو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلہ زدگان کے لیے رقم جمع کرنے کے غرض سے لندن میں ہونے والے ایک خصوصی شو کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ شو منگل تیرہ دسمبر کولندن کے رائل البرٹ ہال میں ہوگا اور اس میں پاکستان اور بھارت کے کئی گلوکار شریک ہونگے۔ لندن کے ایشیا ہاؤس میں اس شو کا ایک تقریباعلان کیا گیا۔ ایشیا ہاؤس کے چیف ایگزیکٹیو سٹیفان کوزئیسکو نے اس کے بارے میں موجود صحافیوں کو تفصیل بتائی ۔ یہ شوایشیا ہاؤس، لندن میں ایشیائی موسیقی کو فروغ دینے والی تنظیم ’ایشین میوزک سرکٹ‘، ’مونسون ٹرسٹ‘ اور ’پاکستان برٹن ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم‘ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
ایشین میوزک سرکٹ کے وِرم جسانی نے بتایا کہ انہوں نے جب صدر مشرف کا یہ بیان سنا کہ دنیا کو ان متاثرین کی بہت کم پروا ہے کیونکہ ان میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں تھے تو ان کو بڑا افسوس ہوا۔ وہ زلزلے کے متاثرین کے لیے امداد جمع کرنے کے لیے کچھ کرنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ اسی دوران ایشیا ہاؤس نے ان سے رابطہ کیا کہ وہ بھی کچھ کرنا چاہ رہے ہیں۔ ورم جسانی کا کہنا تھا کہ یہ بڑی خوش قسمتی تھی کہ لندن کا رائل البرٹ ہال انہیں اتنے کم نوٹس پر مل گیا کیونکہ یہ ہال کی تو کئی مہینے کے لیے پیشگی بُک رہتا ہے۔ ورم جسانی کے مطابق اس شو میں پاکستان سے غزل گائیکی کے مشہور گلوکار غلام علی، اور پاپ گلوکار فاخر اور سجاد علی شامل ہونگے جبکہ اس شو کے لیے دلی سے نظامی برادران قوال بھی آ رہے ہیں۔ موسیقی کے علاوہ اس کنسرٹ میں ایک فیشن شو بھی ہوگا جو کہ برطانیہ کی فیشن کمپنی ’مونسون ‘ کرے گی۔ اس طرح اس شو میں آنے والے تمام لوگوں کی دلچسپی کا کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔
اس موقع پر لندن میں پاکستانی کی ہائی کمشنر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھی تقریر کی اور زلزلے کے متاثرین کے لیے امداد دینے کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی ابھی پاکستان سے لوٹی ہیں اور انہوں نے خود ان لوگوں کی حالت دیکھی ہے۔ پاکستانی کی ہائی کمشنر نے لندن کے ’انٹرنیشنل‘ ماحول کو سراہا اور لندن کے لوگوں کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پاکستان سے آنے والے آرٹسٹوں کو یہاں لانے اور ٹھہرانے کا انتظام کرے گی۔ اس موقع پر اداکارہ صوفیہ حیات بھی موجود تھیں جو کہ تیرہ دسمبر کے شو کی ایک کمپئر بھی ہونگی۔ ان کے علاوہ اداکارہ صوفیہ اور اداکار نتن گنیترا سمیت برطانیہ میں مقبول کئی ایشیائی اداکار بھی تقریب میں موجود تھے۔
برطانیہ کے ایوان بالا ’ہاؤس آف لارڈز‘ میں کنزرویٹیو پارٹی کی رکن بیرنیس فلاتھر بھی اس موقع پر موجود تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ اس کوشش میں پاکستانیوں اور بھارتیوں کو اپنے اختلافات بھلا کر اور مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ منتظمین نے بتایا کہ اس کنسرٹ کے لیے پانچ ہزار ٹکٹ ہونگے اور ان کی قیمت دس سے پینتیس پاونڈ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ ہزار میں سے ڈیڑھ ہزار ٹکٹ بِک چکے ہیں اور انہوں نے تقریب میں موجود تمام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کنسرٹ کے بارے میں دوسروں کو بھی بتائیں تاکہ باقی ٹکٹ بھی جلد فروخت ہو جائیں۔ کنسرٹ سے جمع ہونے والی رقم چار تنظیموں کو دی جائے گی۔ ان میں صدر پاکستان کا امدادی فنڈ، اسلامک ریلیف، لیرننگ فار لائف اور ایدھی فاؤنڈیشن شامل ہیں۔ منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ اس کانسرٹ کا مقصد صرف رقم جمع کرنا ہی نہیں بلکہ پبلک کو زلزلے کے بعد صورتحال کی سنگینی کا احساس دلانا بھی ہے ۔ | بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||