لگڑبھگا جانتا ہے۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرغی کا گوشت فروخت کرنے والا قصائی کیا کرتا ہے۔ آپ کے سامنے لوہے کے بڑے سے پنجرے میں بند سینکڑوں مرغیوں میں سے کسی پر بھی ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ باقی مرغیاں پھڑپھڑاتی ہوئی ایک طرف ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ دو تین سیکنڈ کے لیے کواں کواں بھی کرتی ہیں۔ لیکن قصائی کویقین ہوتا ہے کہ اس غول میں کوئی مرغی ایسی نہیں جو اس کے ہاتھ پر چونچ مارنے کے بارے میں سوچ سکے۔ شام تک قصائی کا پنجرہ خالی ہوجاتا ہے اور اگلے دن پھر نئی مرغیوں سے بھر جاتا ہے۔ وائلڈ لائف کی فلموں میں آپ کیا دیکھتے ہیں۔ایک چیتا یا دو چار لگڑبھگے ہزاروں جنگلی بھینسوں کے ریوڑ کے ساتھ چلنا شروع کردیتے ہیں اور کسی کمزور بھینسے کو تاک کر ریوڑ سے الگ کرلیتے ہیں۔ پورا ریوڑ خوف سےتتربتر ہوجاتا ہے اور شکاری چیتا یا لگڑ بگا ایک بھینسے کو منہ میں دبا کر گھسیٹتا ہوا لے جاتا ہے۔ اس بھینسے کی ماں تھوڑی دور تک شکاری کے پییچھے بھاگتی ہے مگر تھک ہار کر دور سے تماشا دیکھنے والے اپنے ہی ریوڑ میں دوبارہ شامل ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں پچھلے چھ برس کے دوران اسٹیبلشمنٹ کا لگڑبھگا سینکڑوں لوگوں کو منہ میں دبا کر لے گیا اور اب بھی لے جارہا ہے۔ کیا کسی نے سوچا کہ پہلے ادوار میں لوگ زیادہ تر گرفتار ہوتے تھے مگر اب ہر ہفتے کسی نہ کسی کے غائب ہونے کی اطلاع اتنے تواتر کے ساتھ کیوں آتی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے لگڑبھگے پر یہ راز پوری طرح کھل چکا ہے کہ سول سوسائٹی کے جتنے بھی نمائندہ ادارے یا افراد ہیں وہ دیکھنے میں تو بظاہر ہزاروں، لاکھوں میں ہیں۔ لیکن ان میں اتنا ہی ایکا ہے جتنا کہ قصائی کے پنجرے میں بند مرغیوں میں یا چیتے کا سامنا کرنے والے جنگلی بھینسوں کے غول میں یا بھیڑیے کو دیکھنے والی بارہ سنگھوں کی ڈار میں ہوتا ہے۔ لگڑبھگا جانتا ہے کہ جب کوئی صحافی غائب ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے ادارے کی خبر یا مسئلہ ہوتا ہے۔ جب کوئی سیاسی کارکن غائب ہوتا ہے تو صرف اس کی پارٹی ہی کچھ دنوں تک شور مچاتی ہے۔جب کوئی باپ یا بیٹا راہ چلتے نظر نہیں آتا تو باقی خاندان ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ نیوز چینل خبر نشر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اخبارات پریس کانفرنس کی تفصیل دیتے ہوئے زرد پڑ جاتے ہیں۔ پارلیمانی ارکان فون بند کردیتے ہیں۔ بیورو کریٹس اور وزرا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ پولیس ایف آئی آر درج کرنے کا تصور نہیں کرسکتی اورعدالتیں سماعت ملتوی کردیتی ہیں۔ ایسی سول سوسائٹی سے اچھی تو شہد کی مکھیاں ہیں جن کے چھتے کے قریب سے گزرتے ہوئے اژدھا بھی احتیاط برتتا ہے۔وہ چیونٹیاں ہیں جن کی قطار دیکھ کر شیر بھی اپنے پنجے بچاتا ہے۔ |
اسی بارے میں آٹھ اکتوبر فیسٹیول01 October, 2006 | قلم اور کالم سرکاری خود داری24 September, 2006 | قلم اور کالم کہاں چلے گئے08 October, 2006 | قلم اور کالم مچھلی پکڑنا سکھا دو15 October, 2006 | قلم اور کالم امریکہ اور شیر22 October, 2006 | قلم اور کالم ڈوپنگ کون کررہا ہے؟29 October, 2006 | قلم اور کالم صدام پر فیصلہ، سخت سکیورٹی04 November, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||