BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 October, 2006, 12:46 GMT 17:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹھ اکتوبر فیسٹیول

بالاکوٹ
جو زندہ رہ گئے ان کی زندگی بھی ہمیشہ کے لیئے بدل گئی
شمالی پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپریل سے ستمبر تک ٹورسٹ سیزن ہوتا ہے جس میں مقامی اقتصادی سرگرمیوں میں جان پڑ جاتی ہے اور روایتی میلوں ٹھیلوں کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ آنے والے کئی برس تک زلزلے سے متاثرہ خوبصورت پہاڑی علاقوں میں بالخصوص ٹورسٹ سیزن ستمبر کے بجائے اکتوبر کے پہلے ہفتے تک چلے گا۔

گزشتہ برس آٹھ اکتوبر کی صبح چالیس سیکنڈ کے جھٹکے کے نتیجے میں جو نوّے ہزار لوگ مرنے تھے وہ مرگئے لیکن جو زندہ رہ گئے ان کی زندگی بھی ہمیشہ کے لیئے بدل گئی۔

جہاندیدہ مقامی سیاستدانوں، سماجی شخصیات اور سرکاری اہلکاروں کو بخوبی اندازہ تھا کہ آنے والے چند برس تک آٹھ اکتوبر کی کیا اہمیت ہوگی۔ اس لیئے میڈیا کی یلغار سے نمٹنے کے لیئے انہوں نے پہلے ہی سے نئی نئی واسکٹیں تیار کر رکھی ہیں۔

کارکردگی کے اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے اور کیمرے کے سامنے بولنے کے لیئے موقع کی مناسبت سے لفظیات کو ترتیب دیا جارہا ہے۔

متاثرین سے متعلقہ خبروں نے سات آٹھ ماہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر صفحہ اوّل پر نمایاں جگہ پانی شروع کردی ہے۔

رمضان میں چونکہ کاروبارِ حیات ویسے بھی سست پڑ جاتا ہے اس لیئے کچھ ہوشیار مقامی چینلز نے رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی کیمرہ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پیشگی انٹرویو اور فیچر بنانے کے لیئے اتار دیں۔اس وقت شوٹ کیا ہوا بیشتر مواد کراچی، لاہور، پشاور اور اسلام آباد کے ایڈیٹنگ رومز میں پوسٹ پروڈکشن کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ تاکہ آنے والے سات دن تک یہ بصری مواد آن دی سپاٹ رپورٹنگ اور پیس ٹو کیمرہ کے نام پر ناظرین کو رفتہ رفتہ دکھایا جاسکے۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جو درجن بھر مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز سال بھر سے کام کررہی ہیں وہ تو کرہی رہی ہیں۔لیکن آّٹھ اکتوبر کی برسی کے پبلسٹی کوٹے میں سے اپنا حصہ بٹورنے کے لیئے تصویر کھچاؤ مال بناؤ عزت کماؤ کے اصول پر کام کرنے والی بیسیوں موسمی این جی اوز اور شخصیات بھی متحرک دکھائی دیتی ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کے ذمہ دار ادارے ایرا کی جانب سے دن بدن پریس بریفنگز اور پریس ریلیزوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

ٹی وی چینلز پر اس طرح کی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ فوج نے گڑھی حبیب اللہ میں ملبے سے ساڑھے گیارہ ماہ پرانی لاش نکال کر ورثا کے حوالے کردی۔

زلزلے کی پہلی برسی کی تقریبات آئندہ اتوار کو نقطہ عروج پر پہنچ جائیں گی جب صدر اور وزیرِ اعظم میڈیا کے جلو میں کئی متاثرہ علاقوں میں اتریں گے اور کئی شوکیس منصوبوں کا فیتہ کاٹیں گے یا نئے منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے اور متاثرین کے لیئے حکومت اور عوام کی جانب سے مکمل مادی اور اخلاقی امداد کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ شام ڈھلے ہیلی کاپٹرز کا یہ جلوس اپنے پیچھے خاموشی کی لکیر چھوڑتا ہوا اسلام آباد کی طرف پرواز کر جائے گا۔

اسی بارے میں
زلزلے سے کیا سیکھا جا سکتا ہے
05 November, 2005 | قلم اور کالم
آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟
13 November, 2005 | قلم اور کالم
’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے
14 November, 2005 | قلم اور کالم
زلزلہ زدگان کی امداد، لندن میں شو
01 December, 2005 | قلم اور کالم
این جی اوز نے کیا بگاڑا ہے؟
25 August, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد