اداکار انصاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان دنوں پاکستان کے مرد سیاستدان حدود آرڈیننس کے فٹ بال سے میچ کھیل رہے ہیں اور خواتین میدان کے کنارے بیٹھی میچ کے نتائج کے بارے میں دم بخود ہیں۔ انیس سو چوراسی سے آج تک اس آرڈیننس کے تحت رجسٹر ہونے والے مقدمات کا ریکارڈ دیکھ لیں۔ نوے فیصد سے زائد ملزمان و ملزمات کا تعلق نیم متوسط یا غریب طبقات سے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یا تو متوسط اور بالائی طبقات پرہیزگار اور متقی ہیں یا پھر حدود آرڈیننس بھی دیگر فوجداری قوانین کی طرح پہلے سے دبے ہوؤوں کو مزید زیردست رکھنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اس وقت جو حدود قوانین نافذ ہیں وہ عوام کے منتخب نمائندوں نے نہیں بنائے تھے بلکہ جنرل ضیاءالحق کے حکمناموں کو انڈیمنٹی دینے والی آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس قوم کو جہیز میں ملے تھے۔ آج ان قوانین کے نفاذ کے بائیس برس بعد بھی کسی نے یہ تحقیق کرنے کی زحمت نہیں کی کہ ان قوانین کے نفاذ سے قبل ملک میں زنا بالجبر اور عورت کی بے حرمتی کی شرح کیا تھی اور نفاذ کے بعد سے اس شرح میں کتنی کمی آئی۔ اس عرصے کے دوران حدود آرڈیننس کے تحت زنا بالجبر اور زنا بل رضا کو ایک ساتھ نتھی کر دینے کے نتیجے میں جو بھی مقدمات درج ہوئے ان میں سے شاید ہی کسی مقدمے میں یہ ثابت ہوسکا ہوگا کہ چار متقی گواہوں نے ایک ایسا فعل بچشمِ خود دیکھا جس کے لیئے فقہہ میں سوئی دھاگے کا استعارہ موجود ہے۔ زنا میں کم ازکم ایک عورت اور ایک مرد کا وجود لازمی ہے۔ لیکن یہ قانون نافذ کرنے والوں نے جانے ایسا کیا چمتکار دکھایا کہ جیلوں میں بند خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہو گئی۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ اس ملک کی عورت مرد سے زیادہ کرپٹ ہے۔
کیا کسی بھی الزام لگانے والے یا الزام کی چھان بین کرنے والے کو احساس ہوسکا کہ اس طرح کے فیصلوں میں کس قدر نزاکتیں برتی جاتی ہیں۔ رسول اللہ کے زمانے میں ایک واقعہ ایسا ملتا ہے جب ایک شخص کو زنا کے جرم میں سنگسار کیا گیا اور وہ بھی اس وقت جب اس نے خود حاضر ہو کر اقبالِ جرم کیا۔ تین مرتبہ رسول اللہ نے کراہیت ظاہر کرتے ہوئے منہ پھیر لیا۔ لیکن جب چوتھی مرتبہ بھی اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ مجھے پاک کیجئے تب جا کر اس کی سنگساری کا حکم سنایا گیا۔ خلفائے راشدین کے دور میں قحط زدہ علاقوں میں چوری کے بدلے ہاتھ کاٹنے کی حد معطل ہوجاتی تھی۔ یعنی ثابت یہ کیا گیا کہ جرم کے اضطراری اسباب کی روک تھام ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر ریاست اس میں ناکام ہے تو پھر حد لاگو کرنے کا جواز نہیں ۔ جس ملک کے تھانوں میں عورت کی عزت محفوظ نہ ہو۔ جہاں عورت کو گلیوں میں منہ کالا کرکے نچانے والے کھلے پھر رہے ہوں، جہاں جرگے عورت کی قسمت اور عصمت کے فیصلے کررہے ہوں، جہاں عورت کو پناہ دینے والے دارالامانوں پر سوالیہ نشان ہو، جہاں ملک کا اعلی ترین عہدیدار یہ سمجھتا ہو کہ ریپ کو خواتین مغربی ممالک کے ویزے حاصل کرنے کے حربے کے طور پر استعمال کرتی ہوں، وہاں کونسی حد، کیسا انصاف اور کیا شنوائی۔ بہترین انصاف اندھا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں عام آدمی کو اندھا انصاف نہیں بلکہ اندھے کی اداکاری کرنے والا انصاف میسر ہے۔ |
اسی بارے میں بھیڑیوں کو مرنے دو11 June, 2006 | قلم اور کالم نصف شب کی دستک18 June, 2006 | قلم اور کالم دور اندیش ہٹ دھرمی25 June, 2006 | قلم اور کالم غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم آخری کیل16 July, 2006 | قلم اور کالم ’ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے‘01 August, 2006 | قلم اور کالم دو رخا ہونے کے فوائد09 April, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||