مچھلی پکڑنا سکھا دو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین بچوں کی بیوہ ماں حاجرہ خاتون کی زندگی دس برس پہلے تک کسی اور کی زمین پر گھاس پھونس کی چھت والے ایک کچے کمرے میں گذر رہی تھی۔ ہر نئی بارش اس خاندان کے لیئے نئی قیامت ڈھاتی تھی۔ ایک دن ایک بینکر سائیکل پر پیڈل مارتا ہوا حاجرہ کے گاؤں پہنچا۔ اس نے گاؤں والوں سے کہا کہ اگر میں تمہیں گاؤں کے ساہوکار کے پچاس ساٹھ فیصد سود والے قرضے کے برعکس بغیر کسی جائدادی ضمانت کے بیس فیصد سالانہ سود پر قرضہ دے دوں تو کیسا رہے گا؟ سب نے کہا بہت اچھا رہے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ قرضے کی پہلی قسط اب سے ٹھیک دو ہفتے بعد دینی ہوگی؟ سب نے کہا ٹھیک ہے۔ سائیکل سوار بینکر سے حاجرہ نے ایک گائے خریدنے کے لیئے تین ہزار ٹکے کا قرضہ لیا۔ اس گائے کا دودھ بیچنا شروع کیا پھر دوسری گائے کے لیئے قرضہ لیا۔ پھر کچھ عرصے بعد اپنی اچھی کریڈٹ لائن کے بل بوتے پر ایک اور قرضے سے ایک چھوٹا سا قطعہ اراضی خرید کر اس میں سبزیوں کی کاشت شروع کردی۔ ایک اور قرضہ لے کر موبائیل فون خریدا اور اسے پی سی او کی طرح چلانا شروع کردیا۔ اب حاجرہ نے چارکمروں کا ایک گھر بنا لیا ہے جس پر ٹین کی چادر ہے۔ ایک لیٹرین ہے اور ایک ہینڈ پمپ بھی ہے۔ بچے باقاعدگی سے اسکول جاتے ہیں۔ حاجرہ نے صرف دس برس میں اپنے خاندان کی دائمی غربت کو گھر سے نکال دیا ہے۔
یہ بنگلہ دیش کے ساٹھ لاکھ سے زائد گھروں کی کہانی ہے۔ تجربے نے یہ سکھایا کہ مرد کی نسبت عورت قرض کو زیادہ بہتر طریقے پر استعمال کرتی ہے۔ مرد تو چونکہ کسی کو کم ہی جوابدہ ہوتا ہے اس لیئے وہ قرضے کو آمدنی تصور کرکے کسی بھی مد میں خرچ کرسکتا ہے۔ لیکن عورت جب قرضہ لیتی ہے تو اس کے پیشِ نظر گھر ہوتا ہے۔ اسی لئے عام طور پر وہ جس مد کے لیئے قرضہ لیتی ہے اسی پر خرچ کرتی ہے۔ مرد قرض کی واپسی میں لیت و لعل اور دھونس دکھا سکتا ہے لیکن عورت کے لیئے بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ ہر چند روز بعد ایک نادہندہ کے روپ میں قرض خواہ کی باتیں سنے۔ اسی لیئے قرضے کی بروقت ادائیگی عورت زیادہ بہتر طور پر کرسکتی ہے۔ اسی لئے گرامین بینک کے مقروضوں میں عورتوں کا تناسب چھیانوے فیصد ہے۔ تجربے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ عورت اگر قرضے سے گھر کی معاشی حالت سدھار پائے تو اپنے مرد کے روبرو اسکی بات کا وزن بڑھ جاتا ہے اور اسکی رائے کو مرد غور سے سننا شروع کردیتا ہے اور یوں یہ قرضہ عورت کے لئے بنیادی آزادی بھی اپنے ساتھ لاتا ہے۔ تجربے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ کھاتے پیتے لوگ اپنے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر قرضہ ہڑپ کرسکتے ہیں۔ لیکن غریب آدمی کے لئے یہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے لیئے ایسا کرنا اپنی معاشی بہتری کی شہہ رگ کاٹنے کے برابر ہے۔ شائد اسی لیئے گرامین بینک کے قرضوں کی شرح واپسی اٹھانوے فیصد سے زائد ہے۔
پروفیسر محمد یونس کا یہی وہ فلسفہ اور یقین ہے جس نے لاکھوں بنگلہ دیشی خاندانوں کو غربت کے منحوس چکر سے نکلنے میں مدد دی ہے۔ پاکستان میں بھی ساٹھ لاکھ سے زائد ایسے خاندان ہیں جن کے پاس بینک میں قرضے کے عوض رہن رکھوانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ کہنے کو یہاں خوشحالی بینک، رورل سپورٹ پروگرام اور پاورٹی ایلیوی ایشن پروگرام کے تحت مائیکرو کریڈ ٹ قرضے دئیے جاتے ہیں۔ لیکن اب تک صرف چھ لاکھ افراد ہی یہ قرضے حاصل کرپائے ہیں۔ پروفیسر یونس کے بقول شائد اسی لیئے پروفیسر یونس نے آج تک کسی بھکاری کو ایک ٹکہ خیرات نہیں دی البتہ ساڑھے پانچ ارب ٹکے کے قرضے ضرور بانٹے ہیں۔ | اسی بارے میں محمد یونس کا مائکرو کریڈِٹ13 October, 2006 | آس پاس کہاں چلے گئے08 October, 2006 | قلم اور کالم تینتیس فیصد تو حل ہوگیا27 August, 2006 | قلم اور کالم آخری کیل16 July, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||