تینتیس فیصد تو حل ہوگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر خان کو ساٹھ برس پہلے اپنے قبیلے کی سرداری پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ سرداری یا اقتدار پر قبضہ صرف تھرو پراپرچینل ہی کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ایوب خان سے پرویزمشرف تک پاکستان کی تاریخ میں کیا گیا۔ اکبر خان کو بالکل حق نہیں تھا کہ وہ ذاتی عقوبت خانوں میں اپنے قبائلی مخالفین کو ڈال کر بھول جائے یا انہیں غائب کروادے یا ان پر تشدد کرے۔ یہ استحقاق تو صرف پولیس کے کچھ ایس ایچ اوز یا خفیہ اداروں کے لیئے مخصوص ہے۔ اکبر خان کے پاس اس بات کا کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ اپنے علاقے میں کام کرنے والی معدنی وسائل کی کمپنیوں یا سرکاری اداروں سے بھتہ وصول کرے یا ان اداروں میں اپنے قبیلے کے لوگوں کو جبراً بھرتی کرانے کے لیئے دھونس، دھاندلی اور بلیک میلنگ کے حربے استعمال کرے۔ یہ حق صرف حکومتِ وقت میں شامل بعض منظورِ نظر شخصیات اور سیاسی گروہوں ہی کا ہے۔ اکبر بگٹی کی یہ ضد بھی غیر ضروری تھی کہ وہ اپنے فیصلے مروجہ ملکی قوانین کے تحت نہیں بلکہ قبائلی رسم و رواج کے تحت جرگے کے ذریعے کریں گے اور اپنے حامیوں کو غیر مسلح نہیں کریں گے۔اس طرح کی چھوٹ اور مراعت حاصل کرنے کے لیئے ضروری تھا کہ نواب بگٹی حکومت کی اطاعت میں رہتے جیسا کہ وہ ایک عرصے تک رہے بھی۔ سرتابی کے بعد انہوں نے دیکھا کہ جن لوگوں نے تابعداری اور اطاعت کی شرط پوری کی انکی نہ صرف سرکار نے صدقِ دل سے مدد کی بلکہ انہیں فوج کے تحفظ میں جرگہ منعقد کرنے اور نواب بگٹی کی سرداری چھیننے کے اعلان کا بھی موقع فراہم کیا گیا۔ جب نواب اکبرخان بگٹی وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ کے منصب پرفائز ہوئے یا بلوچستان کے گورنر اور پھر وزیرِ اعلی بنے یا صوبائی و قومی اسمبلی کے رکن رہے اور ان تمام حیثیتوں میں وفاقِ پاکستان سے وفاداری اور سالمیت کے تحفظ اور آئین کی مکمل پاسداری کا حلف اٹھاتے رہے۔ تب بھی ان کے قبیلے میں سچائی کے دعویدار ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیئے سرخ کوئلوں پر چلنا پڑتا تھا۔ان کے قبیلے کے لوگ زبردستی پاکستان پٹرولیم کی تنصیبات پر کام کررہے تھے اور ان کی تنخواہیں بگٹی صاحب کی جیب میں جارہی تھیں۔گیس کی کروڑوں روپے کی رائلٹی کا حساب کتاب لینے والا کوئی نہیں تھا۔اسوقت بھی وہ اپنے علاقے میں اور علاقے سے باہر جرگوں میں مدعو ہوتے تھے۔اس وقت بھی وہ ظالمانہ سرداری نظام کے اہم ستون تھے۔ لیکن انہیں وزیرِ مملکت برائے داخلہ یا گورنر یا وزیرِ اعلی بناتے ہوئے یا پارلیمانی رکنیت کا حلف دلاتے ہوئے کسی نے یہ عیب نہیں گنوائے۔کسی نے ان کی تقرری پر اعتراض نہیں کیا۔ نہ جی ایچ کیو نے، نہ ایوانِ صدر نے اور نہ ایوانِ وزیرِ اعظم نے۔ کسی نے بھی نہیں۔ نواب اکبر خان کی ملک دشمنی، شرپسندی اور دہشت گردی کا انکشاف اس دن سے ہونا شروع ہوا جب انہوں نے ڈاکٹر شازیہ ریپ کیس میں کسی کیپٹن حماد کا نام لیا اور صدرِ ملکت کی اس بات پر بھی اعتبار نہیں کیا کہ کیپٹن بے گناہ ہے۔ اور پھر نواب بگٹی کے مطالبات بڑھتے ہی چلے گئے اور وہ اسٹیبلشمنٹ کا دردِ سر بنتے ہی چلے گئے۔ صدر پرویز مشرف کے بقول بلوچستان میں سوائے تین سرداروں کی شرپسندی کے کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ کل چھبیس اگست کو روپوش اور مفرور نواب اکبر خان بگٹی کے پہاڑی غار کی چھت گرنے سے بلوچستان کا تینتس فیصد مسئلہ تو حل ہوگیا۔اب انتظار اس کا ہے کہ باقی چھیاسٹھ فیصد مسئلہ کب تک حل ہوگا۔ |
اسی بارے میں بھیڑیوں کو مرنے دو11 June, 2006 | قلم اور کالم نصف شب کی دستک18 June, 2006 | قلم اور کالم دور اندیش ہٹ دھرمی25 June, 2006 | قلم اور کالم غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم آخری کیل16 July, 2006 | قلم اور کالم ’ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے‘01 August, 2006 | قلم اور کالم دو رخا ہونے کے فوائد09 April, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||