BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 November, 2006, 15:33 GMT 20:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پہلے مرنا چاہیے تھا‘

صدام حسین کو اس وقت بھی بڑی آسانی سے ختم کیا جاسکتا تھا جب وہ اپنی معزولی کے سات ماہ بعد ایک گڑھے میں چھپے ہوئے تھے
میرے حساب سے صدام حسین کو انیس سو باسٹھ میں ہی مرجانا چاہیے تھا جب وہ بغداد کی الرشید سٹریٹ میں قوم پرست فوجی صدر کریم قاسم پر قاتلانہ حملے کے دوران زخمی ہو کر شام کی جانب فرار ہوگئے تھے۔ لیکن اس وقت چونکہ سی آئی اے کو کریم قاسم کے خلاف بعث پارٹی کی ضرورت تھی اس لیئے صدام حسین کا مرنا ٹھیک نہیں تھا۔

یا پھر صدام حسین کو بیس برس بعد اس وقت مرجانا چاہیے تھا جب دجیل کے قصبے میں شیعہ مخالفین نے ان کے صدارتی قافلے پر حملہ کیا تھا اور صدام حسین نے بچ نکلنے کے نتیجے میں دجیل کے ایک سو اڑتالیس افراد کو ہلاک کروا دیا لیکن اس وقت بھی صدام حسین کا مرنا ٹھیک نہیں تھا کیونکہ وہ عجمی شیعہ انقلاب کی راہ میں بطلِ جلیلِ عرب کے طور پر ایک بھاری پتھر تصور کیے جارہے تھے۔ وہ کویت، سعودی عرب اور مصر کے ایسے ہیرو تھے جس امریکہ، فرانس اور جرمنی کی کمپنیاں کیمیاوی، حیاتیاتی اور جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی اور اسلحہ فراہم کررہی تھیں اور ڈونلڈ رمز فیلڈ صدر ریگن کے خصوصی ایلچی کے طور پر صدام حسین سے بالمشافہ رابطے میں تھے۔

انیس سو اکیانوے میں تو صدام حسین کے زندہ رہنے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا کیونکہ نہ صرف انہوں نے کویت پر قبضہ کرکے محسن کشی کی تھی بلکہ تین برس پہلے حلب جاہ کے سرحدی قصبے میں جس طرح اپنے ہی ہم وطن پانچ ہزار سے زائد کردوں کو موت کی نیند سلایا تھا۔ یہ واقعہ ان پر انسانیت سوز جرائم کی فرد لگانے کے لیے کافی تھا۔

 صدام کو زندہ پکڑا گیا تاکہ ان کی اس طرح نمائش ہوسکے جس طرح رومن فاتح مفتوحین کو پنجرے میں بند کرکے گھماتے تھے۔ اس سے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اپنے لوگوں کے ساتھ جو چاہے کرو لیکن ہمیں چیلنج کرو گے تو عبرت ناک حشر ہوگا

اس کے باوجود صدام حسین کو معزول کرنے یا پکڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی کیونکہ صدر بش سینئر کا خیال تھا کہ صدام حسین کے بعد عراق ٹکڑے ٹکڑے ہو کر خطےمیں عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے لیکن بارہ برس بعد دو ہزار تین میں امریکی فوجیں جب بغداد میں داخل ہوئیں تو اس وقت صدام حسین نے اپنے عوام پر کوئی تازہ ظلم نہیں توڑا تھا۔ کسی ہمسایہ ملک پر چڑھائی نہیں کی تھی۔اور نہ ہی ان کے پاس جوہری یا کیمیاوی ہتھیاروں کا کوئی ذخیرہ موجود تھا۔

صدام حسین کو اس وقت بھی بڑی آسانی سے ختم کیا جاسکتا تھا جب وہ اپنی معزولی کے سات ماہ بعد ایک گڑھے میں چھپے ہوئے تھے۔ اس وقت اگر انہیں گولی ماردی جاتی تو بہت کم لوگوں کو افسوس ہوتا مگر انہیں زندہ پکڑا گیا تاکہ ان کی اس طرح نمائش ہوسکے جس طرح رومن فاتح مفتوحین کو پنجرے میں بند کرکے گھماتے تھے۔ اس سے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اپنے لوگوں کے ساتھ جو چاہے کرو لیکن ہمیں چیلنج کرو گے تو عبرت ناک حشر ہوگا۔

صدام حسین اور ان کے دیگر ساتھی مقدمے کی کارروائی کے دوران
معلوم نہیں صدام حسین کے ٹرائل میں مغربی انصاف کے کتنے تقاضے ملحوظ رکھے گئے۔لیکن یہ ضرور ہے کہ برطانوی حکومت نے بھی ان کی سزا کا خیر مقدم کیا ہے۔ حالانکہ برطانیہ میں سزائے موت قانون سے کبھی کی خارج کی جاچکی ہے۔

اب سے پچیس برس بعد جب آج کے واقعات محض ایک یاد میں بدل جائیں گے۔ شاید تاریخ کی کتابوں میں کچھ اس طرح سے آئے۔

’صدام حسین ایک سخت گیر عرب حکمران تھے۔ جنہیں امریکہ اور برطانیہ نے فوج کشی کرکے معزول کیا۔ انہیں دجیل قصبے کے ڈیڑھ سو شہریوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ جس عدالت نے انہیں سزا سنائی اس کے چار میں سے تین جج تبدیل کیے گئے۔ اسی عدالت میں صدام حسین کے خلاف کردوں کی نسل کشی کا بھی مقدمہ چل رہا تھا لیکن انہیں اس مقدمے کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔اس وقت امریکی اور برطانوی فوج عراق میں موجود تھی‘۔

میں سوچ رہا ہوں کہ اب سے پچیس برس بعد جب میرا پوتا یا نواسی یہ واقعات پڑھیں گے تو کس نتیجے پر پہنچیں گے۔

اداکار انصاف
اندھا انصاف نہیں بلکہ اداکاری کرنے والا انصاف
سرکاری خود داری
لیکن جب بات ہو امریکہ کی ۔۔۔
بات سے باتکہاں چلے گئے
دکھی لوگوں کی مدد کرنے والے کہاں کھو گئے
بات سے باتڈوپنگ کون کررہا ہے؟
غفلت پر چھان بین حساس کیوں ہو جاتی؟
امریکہ اور شیر
امریکہ اور ناقابلِ اشاعت لطیفے والے شیر میں فرق؟
بات سے باتمچھلی پکڑنا سکھا دو
بنگلہ دیش کے ساٹھ لاکھ سے زائد گھروں کی کہانی
اسی بارے میں
آٹھ اکتوبر فیسٹیول
01 October, 2006 | قلم اور کالم
سرکاری خود داری
24 September, 2006 | قلم اور کالم
کہاں چلے گئے
08 October, 2006 | قلم اور کالم
مچھلی پکڑنا سکھا دو
15 October, 2006 | قلم اور کالم
امریکہ اور شیر
22 October, 2006 | قلم اور کالم
ڈوپنگ کون کررہا ہے؟
29 October, 2006 | قلم اور کالم
صدام حسین کو پھانسی کی سزا
05 November, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد