’پہلے مرنا چاہیے تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے حساب سے صدام حسین کو انیس سو باسٹھ میں ہی مرجانا چاہیے تھا جب وہ بغداد کی الرشید سٹریٹ میں قوم پرست فوجی صدر کریم قاسم پر قاتلانہ حملے کے دوران زخمی ہو کر شام کی جانب فرار ہوگئے تھے۔ لیکن اس وقت چونکہ سی آئی اے کو کریم قاسم کے خلاف بعث پارٹی کی ضرورت تھی اس لیئے صدام حسین کا مرنا ٹھیک نہیں تھا۔ یا پھر صدام حسین کو بیس برس بعد اس وقت مرجانا چاہیے تھا جب دجیل کے قصبے میں شیعہ مخالفین نے ان کے صدارتی قافلے پر حملہ کیا تھا اور صدام حسین نے بچ نکلنے کے نتیجے میں دجیل کے ایک سو اڑتالیس افراد کو ہلاک کروا دیا لیکن اس وقت بھی صدام حسین کا مرنا ٹھیک نہیں تھا کیونکہ وہ عجمی شیعہ انقلاب کی راہ میں بطلِ جلیلِ عرب کے طور پر ایک بھاری پتھر تصور کیے جارہے تھے۔ وہ کویت، سعودی عرب اور مصر کے ایسے ہیرو تھے جس امریکہ، فرانس اور جرمنی کی کمپنیاں کیمیاوی، حیاتیاتی اور جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی اور اسلحہ فراہم کررہی تھیں اور ڈونلڈ رمز فیلڈ صدر ریگن کے خصوصی ایلچی کے طور پر صدام حسین سے بالمشافہ رابطے میں تھے۔ انیس سو اکیانوے میں تو صدام حسین کے زندہ رہنے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا کیونکہ نہ صرف انہوں نے کویت پر قبضہ کرکے محسن کشی کی تھی بلکہ تین برس پہلے حلب جاہ کے سرحدی قصبے میں جس طرح اپنے ہی ہم وطن پانچ ہزار سے زائد کردوں کو موت کی نیند سلایا تھا۔ یہ واقعہ ان پر انسانیت سوز جرائم کی فرد لگانے کے لیے کافی تھا۔ اس کے باوجود صدام حسین کو معزول کرنے یا پکڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی کیونکہ صدر بش سینئر کا خیال تھا کہ صدام حسین کے بعد عراق ٹکڑے ٹکڑے ہو کر خطےمیں عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے لیکن بارہ برس بعد دو ہزار تین میں امریکی فوجیں جب بغداد میں داخل ہوئیں تو اس وقت صدام حسین نے اپنے عوام پر کوئی تازہ ظلم نہیں توڑا تھا۔ کسی ہمسایہ ملک پر چڑھائی نہیں کی تھی۔اور نہ ہی ان کے پاس جوہری یا کیمیاوی ہتھیاروں کا کوئی ذخیرہ موجود تھا۔ صدام حسین کو اس وقت بھی بڑی آسانی سے ختم کیا جاسکتا تھا جب وہ اپنی معزولی کے سات ماہ بعد ایک گڑھے میں چھپے ہوئے تھے۔ اس وقت اگر انہیں گولی ماردی جاتی تو بہت کم لوگوں کو افسوس ہوتا مگر انہیں زندہ پکڑا گیا تاکہ ان کی اس طرح نمائش ہوسکے جس طرح رومن فاتح مفتوحین کو پنجرے میں بند کرکے گھماتے تھے۔ اس سے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اپنے لوگوں کے ساتھ جو چاہے کرو لیکن ہمیں چیلنج کرو گے تو عبرت ناک حشر ہوگا۔
اب سے پچیس برس بعد جب آج کے واقعات محض ایک یاد میں بدل جائیں گے۔ شاید تاریخ کی کتابوں میں کچھ اس طرح سے آئے۔ ’صدام حسین ایک سخت گیر عرب حکمران تھے۔ جنہیں امریکہ اور برطانیہ نے فوج کشی کرکے معزول کیا۔ انہیں دجیل قصبے کے ڈیڑھ سو شہریوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ جس عدالت نے انہیں سزا سنائی اس کے چار میں سے تین جج تبدیل کیے گئے۔ اسی عدالت میں صدام حسین کے خلاف کردوں کی نسل کشی کا بھی مقدمہ چل رہا تھا لیکن انہیں اس مقدمے کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔اس وقت امریکی اور برطانوی فوج عراق میں موجود تھی‘۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اب سے پچیس برس بعد جب میرا پوتا یا نواسی یہ واقعات پڑھیں گے تو کس نتیجے پر پہنچیں گے۔ |
اسی بارے میں آٹھ اکتوبر فیسٹیول01 October, 2006 | قلم اور کالم سرکاری خود داری24 September, 2006 | قلم اور کالم کہاں چلے گئے08 October, 2006 | قلم اور کالم مچھلی پکڑنا سکھا دو15 October, 2006 | قلم اور کالم امریکہ اور شیر22 October, 2006 | قلم اور کالم ڈوپنگ کون کررہا ہے؟29 October, 2006 | قلم اور کالم صدام پر فیصلہ، سخت سکیورٹی04 November, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||