BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 December, 2006, 09:35 GMT 14:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کب دستخط فرمائیےگا۔۔۔

’ہمارے اردگرد موجود لاکھوں غلام اور لونڈیاں ہمیں نظر ہی نہیں آتے‘
پاکستان غلامی کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن مجریہ انیس سو انچاس کو تو تسلیم کرتا ہے لیکن آج بھی ہمارے اردگرد بھٹہ مزدوروں، نسل در نسل قرض میں جکڑے ہوئے کھیت مزدوروں اور گھریلو ملازموں کی شکل میں لاکھوں غلام اور لونڈیاں موجود ہیں لیکن ہمیں نظر نہیں آتے۔ سرکاری و نیم سرکاری ملازمین اور صنعتی کارکنوں کے حقوق و مراعات کاغذی سطح پر ہی سہی لیکن قانونی دستاویز کی شکل میں کم ازکم موجود تو ہیں۔ مگر اس دائرے کے باہر جتنے غلام ہیں ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

اس ملک سے روزانہ سینکڑوں شہریوں کو بیرونِ ملک سہانے مستقبل کے خواب دکھا کر اور ان سے لاکھوں روپے بٹور کر نامعلوم بری اور بحری سفر پر روانہ کردیا جاتا ہے۔کچھ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔کچھ سرحدی محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں ۔کچھ ڈی پورٹ ہو کر نڈھال حالت میں واپس کردئیے جاتے ہیں۔ اور جو منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے ہیں وہ غیر قانونی ہونے کے ڈر سے باقی زندگی سولہ سولہ گھنٹے کی غلامی کرتے ہیں اور بلیک میل ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن انہیں اس حال تک پہنچانے والے کراچی، لاہور، فیصل آباد، گجرات یا اسلام آباد میں اپنے ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں بدستور برقرار ہیں۔

اس ملک کے قوانین کے تحت اغوا برائے تاوان کی سزا موت ہے۔ اور مجرم پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ لیکن سینکڑوں لوگوں کو پراسرار طور پر غائب کردینے میں ملوث سرکاری اداروں اور ذاتی یا خفیہ تفتیشی مراکز میں شہریوں کو غیر معینہ مدت تک رکھنے والے حاضر سروس اہلکار اغوا کے قانون سے عملاً مستثنٰی ہیں ۔

سنہری خواب
 اس ملک سے روزانہ سینکڑوں شہریوں کو بیرونِ ملک سہانے مستقبل کے خواب دکھا کر اور ان سے لاکھوں روپے بٹور کر نامعلوم بری اور بحری سفر پر روانہ کردیا جاتا ہے۔کچھ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔کچھ سرحدی محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں ۔کچھ ڈی پورٹ ہو کر نڈھال حالت میں واپس کردئیے جاتے ہیں اور جو منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے ہیں وہ غیر قانونی ہونے کے ڈر سے باقی زندگی سولہ سولہ گھنٹے کی غلامی کرتے ہیں۔

اس ملک میں نافذ قوانین کے تحت اگر کوئی عیسائی ، یہودی ہندو ، سکھ یا پارسی کسی مسلمان کو کہے اسلام و علیکم تو یہ کوئی جرم نہیں ۔لیکن اگر کوئی احمدی کہے اسلام و علیکم تو وہ جیل جا سکتا ہے۔

اسی طرح اگر میں اٹھ کر آپ کے بارے میں یہ کہہ دوں کہ آپ نے قرآن یا رسول اللہ کے نام کی بے حرمتی کی ہے تو پہلے آپ پکڑے جائیں گے اور پھر آپ پر لگائے گئے جھوٹے سچے الزام کی تفتیش شروع ہوگی اور اس تفتیش پر بھی سیاسی اور مذہبی عمائدین کا سایہ رہے گا۔ بری ہونے کی صورت میں بھی یہ ضمانت نہیں ہے کہ آپ کتنی دیر زندہ رہیں گے۔

صدرِ مملکت جنرل پرویز مشرف نے تین بنیادی ترامیم والے تحفظِ حقوقِ نسواں بل پر تو دستخط کردیے۔

صدرِ مملکت تحفظِ حقوقِ غلاماں، تحفظِ حقوقِ تارکینِ وطن، تحفظِ حقوقِ مغویان اور تحفظِ حقوقِ اقلیت کے ترمیمی بل پر کب دستخط فرمائیں گے۔

اداکار انصاف
اندھا انصاف نہیں بلکہ اداکاری کرنے والا انصاف
سرکاری خود داری
لیکن جب بات ہو امریکہ کی ۔۔۔
بات سے باتکہاں چلے گئے
دکھی لوگوں کی مدد کرنے والے کہاں کھو گئے
بات سے باتڈوپنگ کون کررہا ہے؟
غفلت پر چھان بین حساس کیوں ہو جاتی؟
امریکہ اور شیر
امریکہ اور ناقابلِ اشاعت لطیفے والے شیر میں فرق؟
بات سے باتمچھلی پکڑنا سکھا دو
بنگلہ دیش کے ساٹھ لاکھ سے زائد گھروں کی کہانی
اسی بارے میں
آٹھ اکتوبر فیسٹیول
01 October, 2006 | قلم اور کالم
سرکاری خود داری
24 September, 2006 | قلم اور کالم
کہاں چلے گئے
08 October, 2006 | قلم اور کالم
مچھلی پکڑنا سکھا دو
15 October, 2006 | قلم اور کالم
امریکہ اور شیر
22 October, 2006 | قلم اور کالم
ڈوپنگ کون کررہا ہے؟
29 October, 2006 | قلم اور کالم
صدام حسین کو پھانسی کی سزا
05 November, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد