BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 January, 2007, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘

گلبدین حکمت یار
گلبدین حکمت یار ضیاء دور میں انٹیلی جنس اداروں کی آنکھ کا تارا رہے
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب ظاہر شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والے سردار داؤد خان نے پختونستان کا پروپیگنڈہ تیز کردیا تو جواب میں بھٹو حکومت نے داؤد خان کے مخالفین کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہی پناہ گزینوں میں ایک نوجوان انجینیئر گلبدین حکمت یار بھی تھا جسے آنے والے دنوں میں ضیاء حکومت کے انٹیلی جینس اداروں کی آنکھ کا تارا بننا تھا۔

جب انیس سو اٹھہتر میں کابل میں سرخ انقلاب آیا تو مولوی نبی محمدی، پروفیسر رسول سیاف، برہان الدین ربانی ، کمانڈر عبدالحق، جلال الدین حقانی، مولوی یونس خالص وغیرہ کو پاکستان کا وفادار دوست اور فرنٹ لائن کا مجاہد قرار دیا گیا۔

جب ان سب نے آنکھیں دکھانی شروع کیں تو ملا عمر کے طالبان متعارف ہوئے جن کے بارے میں بے نظیر بھٹو کے وزیرداخلہ نصیر اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے برخوردار ہیں اور انکی مدد کرنے سے پاکستان کی مغربی سرحد پر نہ صرف بدامنی ختم ہوجائےگی بلکہ پختونستان کی درفنتنی اور ڈیورینڈ لائن کا قضیہ بھی دفن ہوجائےگا۔

پاکستان نے کیا کیا نہیں کِیا
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت سے لے کر چالیس لاکھ پناہ گزینوں کی دیکھ بھال تک، کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر برداشت کرنے سے لے کر ہر حکومت مخالف کو پناہ دینے تک، پاکستان نے افغانوں کے ساتھ کونسی ایسی مہربانی ہے جو نہیں کی

جب امریکہ نے طالبان برخورداروں کا بوریا بستر پاکستان کی مدد سے لپٹوادیا اور کوئٹہ میں برسوں سے پناہ گزیں حامد کرزئی کو متعارف کروایا گیا تو اس وقت بھی پاکستانی انٹیلی جنس کے کئی حلقوں نے ان کے بارے میں کہا: ’فکر نہ کروجیئ کرزئی ساڈا منڈا اے۔‘ حامد کرزئی کے بارے میں تجزیہ تھا کہ وہ پاکستان دشمن شمالی اتحاد کے مقابلے میں ایک توازن ثابت ہوں گے۔

مگر ہر پاکستانی حکومت کو یہ بات سوچ کر سخت صدمہ ہوتا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت سے لے کر چالیس لاکھ پناہ گزینوں کی دیکھ بھال تک، کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر برداشت کرنے سے لے کر ہر حکومت مخالف کو پناہ دینے تک، پاکستان نے افغانوں کے ساتھ کونسی ایسی مہربانی ہے جو نہیں کی۔

ملا عمر کے برخوردار طالبان
ملا عمر کے طالبان کے بارے میں بے نظیر بھٹو کے وزیرداخلہ نصیر اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے برخوردار ہیں اور انکی مدد کرنے سے پاکستان کی مغربی سرحد پر نہ صرف بدامنی ختم ہوجائےگی بلکہ پختونستان کی درفنتنی اور ڈیورینڈ لائن کا قضیہ بھی دفن ہوجائےگا

اسکے باوجود طالبان کو چھوڑ کر ہر افغان حکومت نئی دہلی کے گن گاتی رہی ہے اور ملا عمر سے لے کر حامد کرزئی تک، شاہ پرستوں اور کیمونسٹوں سے لے کر مذہبی شدت پسندوں تک، کون ایسا ہے جس نے پاکستان کو کسی نہ کسی موقع پر بے نقط کی نہ سنائی ہوں۔

آج حالت یہ ہے کہ پاکستان چوبیس سو کیلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی بات کررھاہے۔

’افغان طوطا چشمی‘ سے شاکی پاکستانی پالیسی سازوں کی سمجھ میں یہ بات کب آئے گی کہ شکاری اور خرگوش کے ساتھ بیک وقت دوڑنے کی کوشش ہمیشہ ناکام ہوتی ہے۔

کبھی کبھی مجھے سرکردہ شاعر جون ایلیا کا یہ شعر پاکستان کی افغان پالیسی کا آئینہ لگتا ہے۔
ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے
جس سے ملئے اسے خفا کیجے

کتنا رفو کریں گے
اسلحے کی خریداری کے ’نازک‘ معاملے
ڈیلکس انصاف
’غائب ہونے والے خفیہ ایجنسی کے اہلکار ہوتے‘
’دیکھ میں چلی میکے‘
ہمیں بالغ ہونے کے لئے مزید کتنا وقت چاہئیے
لگڑبھگا نہیں چھوڑتا
سینکڑوں لوگوں کو منہ میں دبا کر لے جا رہا ہے
ابھی انتظار میں
غلام، تارکینِ وطن، مغویان اور اقلیتیں
اسی بارے میں
’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘
19 November, 2006 | قلم اور کالم
مچھلی پکڑنا سکھا دو
15 October, 2006 | قلم اور کالم
کہاں چلے گئے
08 October, 2006 | قلم اور کالم
سرکاری خود داری
24 September, 2006 | قلم اور کالم
امریکہ اور شیر
22 October, 2006 | قلم اور کالم
’پہلے مرنا چاہیے تھا‘
05 November, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد