’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب ظاہر شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والے سردار داؤد خان نے پختونستان کا پروپیگنڈہ تیز کردیا تو جواب میں بھٹو حکومت نے داؤد خان کے مخالفین کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہی پناہ گزینوں میں ایک نوجوان انجینیئر گلبدین حکمت یار بھی تھا جسے آنے والے دنوں میں ضیاء حکومت کے انٹیلی جینس اداروں کی آنکھ کا تارا بننا تھا۔ جب انیس سو اٹھہتر میں کابل میں سرخ انقلاب آیا تو مولوی نبی محمدی، پروفیسر رسول سیاف، برہان الدین ربانی ، کمانڈر عبدالحق، جلال الدین حقانی، مولوی یونس خالص وغیرہ کو پاکستان کا وفادار دوست اور فرنٹ لائن کا مجاہد قرار دیا گیا۔ جب ان سب نے آنکھیں دکھانی شروع کیں تو ملا عمر کے طالبان متعارف ہوئے جن کے بارے میں بے نظیر بھٹو کے وزیرداخلہ نصیر اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے برخوردار ہیں اور انکی مدد کرنے سے پاکستان کی مغربی سرحد پر نہ صرف بدامنی ختم ہوجائےگی بلکہ پختونستان کی درفنتنی اور ڈیورینڈ لائن کا قضیہ بھی دفن ہوجائےگا۔
جب امریکہ نے طالبان برخورداروں کا بوریا بستر پاکستان کی مدد سے لپٹوادیا اور کوئٹہ میں برسوں سے پناہ گزیں حامد کرزئی کو متعارف کروایا گیا تو اس وقت بھی پاکستانی انٹیلی جنس کے کئی حلقوں نے ان کے بارے میں کہا: ’فکر نہ کروجیئ کرزئی ساڈا منڈا اے۔‘ حامد کرزئی کے بارے میں تجزیہ تھا کہ وہ پاکستان دشمن شمالی اتحاد کے مقابلے میں ایک توازن ثابت ہوں گے۔ مگر ہر پاکستانی حکومت کو یہ بات سوچ کر سخت صدمہ ہوتا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت سے لے کر چالیس لاکھ پناہ گزینوں کی دیکھ بھال تک، کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر برداشت کرنے سے لے کر ہر حکومت مخالف کو پناہ دینے تک، پاکستان نے افغانوں کے ساتھ کونسی ایسی مہربانی ہے جو نہیں کی۔
اسکے باوجود طالبان کو چھوڑ کر ہر افغان حکومت نئی دہلی کے گن گاتی رہی ہے اور ملا عمر سے لے کر حامد کرزئی تک، شاہ پرستوں اور کیمونسٹوں سے لے کر مذہبی شدت پسندوں تک، کون ایسا ہے جس نے پاکستان کو کسی نہ کسی موقع پر بے نقط کی نہ سنائی ہوں۔ آج حالت یہ ہے کہ پاکستان چوبیس سو کیلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی بات کررھاہے۔ ’افغان طوطا چشمی‘ سے شاکی پاکستانی پالیسی سازوں کی سمجھ میں یہ بات کب آئے گی کہ شکاری اور خرگوش کے ساتھ بیک وقت دوڑنے کی کوشش ہمیشہ ناکام ہوتی ہے۔ کبھی کبھی مجھے سرکردہ شاعر جون ایلیا کا یہ شعر پاکستان کی افغان پالیسی کا آئینہ لگتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم مچھلی پکڑنا سکھا دو15 October, 2006 | قلم اور کالم کہاں چلے گئے08 October, 2006 | قلم اور کالم سرکاری خود داری24 September, 2006 | قلم اور کالم امریکہ اور شیر22 October, 2006 | قلم اور کالم ’پہلے مرنا چاہیے تھا‘05 November, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||